عدالتِ عالیہ کے جج جسٹس گلزار احمد صاحب نے پاکستان میں حالات کے بارے میں انتہائی مایوسی اور دل گرفتگی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ معیشت کے بارے میں خبریں سنتے ہیں، تو ڈپریشن میں اضافہ ہوتا ہے اور جب چینل بدل کر کرکٹ کا منظر دیکھتے ہیں، تو مزید مایوسی ہوتی ہے۔ ایک اور جج صاحب نے تو محکمۂ پولیس کے اہل کاروں پر برملا الزام لگایا ہے کہ پولیس والے رات کو ڈکیتیاں کرتے ہیں اور دن کو افسران دفاتر میں بیٹھ کر اپنے لیے اوپر کی کمائی کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔
انصاف کی اعلیٰ مناصب پر فائز ان محترم حضرات کے ریمارکس اور حقیقی صورتِ حال کی نشان دہی سے کسی کو اختلاف نہیں، بلکہ انہوں نے مسائل، بیڈ گورننس اور بد عنوانی کے انبار سے چند ایک دانوں کا ذکر کیا ہے۔ ورنہ پورے ملک میں اداروں کی تباہی و بربادی کی داستان تو بہت طویل اور تعداد بہت زیادہ ہے۔ سٹیل مل، ریلوے، پی آئی اے، واپڈا، ایف بی آر، پولیس، کسٹم، سوئی گیس، سی اینڈ ڈبلیو سے لے کر پبلک ہیلتھ، محکمۂ تعلیم و صحت سے لے کر بلدیاتی اور بیوروکریسی کے تمام ادارے بدعنوانی، کرپشن اور گینگ مافیا کا کردار ادا کر رہے ہیں اور ملکی معیشت کے خون کو عرصۂ دراز سے چوس رہے ہیں۔ بجائے اس کے کہ یہ ادارے ملکی معیشت کی بحالی، ترقی اور نشونما کا ذریعہ بنتے، ان اداروں کے ماہانہ مالی نقصانات نے ملکی معیشت کی زبوں حالی کو آخری درجے تک پہنچادیا ہے، لیکن اعلیٰ عدلیہ کے معزز جج صاحبان اور دیگر اہلِ فکر و نظر اشخاص کے لیے صر ف امراض کی نشان دہی کافی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ یہ حضرات غور و فکر کرکے قوموں کے عروج و زوال کی تاریخی حقائق او ر مسائل کے پشت پر موجود عوامل کا سراغ لگا کر علاج بھی تجویز کریں۔ علاج بھی ایسا عملی کہ مسائل حل ہو کر ملک و قوم، عالمی برادری میں اپنا کردار بحسن و خوبی ادا کرنے کے قابل بن جائے۔ مسائل، امراض اور بیماریوں کی تفصیل سامنے آچکی ہے، لیکن ان مسائل کی وجوہات کیا ہیں؟ ان پر بات کرنا ضروری ہے۔ اس کے لیے اگر ہم پاکستان کے قیام سے لے کر اب تک کی 72 سالہ تاریخ کا جائزہ لیں، تو اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انگریز اور ہندوؤں کی بالادستی اور غلامی سے نجات کے لیے یہ ملک اس لیے حاصل کیا گیا تھا کہ ہم بحیثیت مسلمان، انگریزوں اور ہندوؤں سے الگ ایک ملی، دینی شناخت اور تہذیب و تمدن ، بود و باش اور علیحدہ طرز زندگی رکھتے تھے۔ اپنی اس شناخت کو قائم رکھنے اور اپنے دین و ایمان کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے ایک الگ اور آزاد خطۂ زمین حاحل کرنا چاہتے تھے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی تائید، مدد اور نصرت سے ہمیں اس جد و جہد میں کامیابی عطا فرمائی۔ آزادی اور تحریکِ پاکستان کی اس جد و جہد کے دوران میں ایک خصوصی نعرہ تواتر، پورے ہوش و حواس اور نہایت جوش و خروش سے لگایا گیا کہ پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ! اس نعرے کا واضح مطلب اور معنی یہ تھے کہ ہم الگ خطۂ زمین پاکستان کے نام سے اسلامی نظامِ زندگی کے قیام کے لیے حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمارے اس وعدے کے نتیجے میں دونوں عظیم قوتوں کے مقابلے میں کامیابی عطا فرمائی اور مملکتِ خداداد پاکستان عملی شکل میں دنیا کے جغرافیے پر نمودار ہوا۔ پوری دنیا میں اسرائیل کے علاوہ یہ دوسرا ملک تھا کہ ایک نظریے، عقیدے اور اسلامی فکر کی اساس پر قائم ہوا، لیکن قیامِ پاکستان کے بعد جو لوگ اس کی قیادت و سیاسی حکمرانی پر قابض ہوگئے۔ وہ عملی طور پر مسلم عوام کی اکثریت کے دین و ایمان، عقیدے اور نظریے کے قائل نہیں تھے۔ ان کی تعلیم و تربیت، ساخت و پرداخت اور ذہنی و فکر ی نشو و نما انگریزوں کے سیکولر اورمذہب و سیاست کے دوئی کے مغربی نظریات کے مطابق ہوئی تھی اور انہوں نے قیامِ پاکستان کے فوراً بعد مسلم عوام کے اللہ تبارک و تعالیٰ سے کیے ہوئے اس وعدے اور نعرے کو جھٹلا دیا، مسترد کردیا۔ کہا کہ نہیں پاکستان اسلام کے لیے نہیں بلکہ ہندوؤں کی معاشی بالادستی اور سیاسی غلبے سے محفوظ ہونے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ ان طبقات نے اس نوزائیدہ ملک کو اپنی شناخت اور پہچان سے محروم کر دیا۔ ان لوگوں نے انگریزی طرزِ حکومت، طریقۂ سیاست اور تمام اقدار و روایات کو من وعن قبول کرکے جاری و ساری رکھا۔ وہی برطانوی پارلیمانی نام نہاد جمہوریت، وہی سود و استحصال اور سرمایہ دارانہ نظام پر استوار معاشی و اقتصادی نظام، وہی انگریزی نظامِ تعلیم اور نظامِ قانون جس سے جان چھڑانے کے لیے مسلم ملت کی اکثریت نے جان و مال کی عظیم قربانیاں پیش کی تھیں۔ اسی فرسودہ، ازکارِ رفتہ اور ناکام نظام کو جدید دور کے ترقی یافتہ نظام کے نام پر عوام پر مسلط رکھا۔ یہ طبقات موروثی جاگیرداروں اور انگریز کی ذہنی، فکری اور عملی غلامی کا خوگر طبقہ، یہ انگریزوں کا اپنے حکومتی کارندوں اور ہندوستانی عوام پر انگریزوں کا غلبہ بر قرار رکھنے والا بیوروکریسی کا طبقہ، یہ انگریزوں کے لیے جنگ عظیم لڑنے والی اور ان کی اپنے وفاداری کے لیے تربیت یافتہ فوج آخری وقت میں پاکستان کے والی وارث، کرتا دھرتا اور حکمران بن گئی۔ لیاقت علی خان شہید کے بعد اس بیورو کریسی کے نمائندے غلام محمد، جاگیرداروں کے نمائندے اور فوج کے نمائندے جنرل ایوب نے پورے 8 سال تک ملک کو آئین و دستور سے محروم رکھ کر من مانی اور باہمی گٹھ جوڑ سے جو حکومت و سیاست کی، وہ پاکستان کی ایک عظیم طاقت، اسلام کی نشاۃِ ثانیہ اور پاکستان کو پوری دنیا کے لیے ایک رول ماڈل ریاست کے خواب کو چکنا چور کرنے کی عالمی سازش تھی۔ جس میں ان مقامی ایجنٹوں نے بیرونی طاقتوں کے عالمی ایجنڈے کو پاکستان میں نافذ کیا اور پاکستان کو نت نئے مسائل و مشکلات میں مبتلا کرکے اپنی بقا اور تحفظ کے لیے غیروں کا محتاج بنا کر رکھ دیا۔ موجود مسائل کی ابتدا اور شروعات اس 8 سالہ سیاسی افراتفری سے لے کر 10 سالہ ایوبی فوجی ڈکٹیٹر شپ میں ہوئی۔ پھر اس کا نتیجہ یحییٰ خان فوجی حکومت کی ڈھائی سالہ اقتدار کے اختتام پر نکلا کہ ہمارا ملک دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوا۔ ہمارا ایک بڑا اور کثیر آبادی والا او ر پاکستان کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرنے والا صوبہ ’’مشرقی پاکستان‘‘ ہم سے الگ ہو کر ہمارے دشمن کی گود میں بیٹھ گیا۔ مسلم امہ کی تاریخ میں سقوطِ ڈھاکہ اور ایک لاکھ فوج کی شکست اور سرنڈر کا شرمناک باب بن گیا، جب ہماری قیادت نے اپنے بنیادی نظریے اور عقیدے سے انحراف کیا۔ اللہ تعالیٰ سے عملاً بغاوت کی۔ اللہ کی عظیم نعمت ایک آزاد ملک کی ناشکری اور کفرانِ نعمت کا رویہ اختیار کیا۔ اسلام چھوڑنے کے نتیجے میں بنیادی عقیدہ خوفِ خدا اور آخرت کی جواب دہی کا احساس کمزور ہوا۔ اس کے نتیجے میں عملی اسلام سے انحراف اور اعراض کا رویہ عوام میں فروغ پذیر ہوا۔ اسلام کا مضبوط و مستحکم رشتہ کاٹنے، کمزور کرنے اور حکومت و سیاست سے نکالنے کے نتیجے میں قوم پرستی، صوبائیت، فرقہ پرستی اور نجانے کتنے فتنے پیدا ہوگئے۔ ہر فتنے نے ہمارے زوال و انحطاط میں پورا پورا کردار ادا کیا۔ اسلام سے دوری اور انحراف کے نتیجے میں عوام کے اندر احساسِ ذمہ داری اور آخرت میں جواب دہی کا احساس کمزور ہوا۔ نتیجے میں ہمارے اوپر ایک سے ایک بڑھ کر بدعنوان، ظالم اور ڈکٹیٹر مسلط ہوتے گئے، جنہوں نے ذاتی خواہشات کی تکمیل اور عیش و عشرت کی زندگی گزارنے کے لیے حکومت کے ذریعے دولت اور دولت کے ذریعے حکومت کا مؤثر حربہ ایجاد کیا۔ جب اعلیٰ سطح پر کمیشنوں، رشوتوں اور مال و دولت اور جاہ و منصب کے ذریعے اپنی حکومت کے بقا و استحکام کے لیے خرید و فرخت شروع ہوئی، تو پھر اسی بہتی گنگا میں ہر کوئی اشنان کرنے لگا۔ کوئی شعبہ اس عام بیماری اور وبا سے محفوظ نہ رہا۔ کیا عوام کیا خواص، ہر شخص مال و دولت اور جاہ و منصب کے اس مقابلے میں شریک ہو گیا اور ملک کا یہ حال ہوا کہ ایک طرف اگر معیشت زبوں حال اور تباہ و برباد ہے، بیرونی ادائیگیوں کے لیے ہر ادارے کے سامنے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں، سود در سود کے چکر میں اگر اس سال 2 ہزار ارب روپے کی ادائیگی کی گئی، تو آئندہ سال 3 ہزار ارب سود ادائیگی کا مژدۂ جاں فزا وزیرِ خزانہ صاحب سنا چکے ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے، حالات کو درست کرنے کے لیے اور اصلاح احوال کے لیے جب چاروں طرف نظر دوڑاتے ہیں، تو اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ روشنی کی کوئی کرن نظر نہیں آرہی۔
قارئین، ایک طرف چوروں، لٹیروں اور قومی دولت لوٹنے والوں کا طبقہ ہے، جو اپنی بقا کی جنگ پاکستان کی قیمت پر لڑ رہا ہے۔ دوسری طرف ایک نا اہل حکومتی انتظامیہ ہے، جو نا اہلوں اور چوروں پر مشتمل ہے۔ ان کو اپنی بقا کی فکر ہے۔ ان کو اپنی حکومت کے تحفظ کی پڑی ہے، نہ ان میں ایک عظیم مسلمان ملک کی بقا اور تحفظ کے لیے فکر مندی ہے اور نہ ان میں چھوٹے چھوٹے فروعی اور ذاتی اختلافات سے اوپر اٹھنے کی ہمت و صلاحیت ہے۔
تیسری بڑی اور عظیم طاقت احکم الحاکمین اللہ رب العالمین اور ذات کن فیکون کی ہے۔ بس اسی کا آسرا ہے،جس طرح اس نے بے سرو سامانی میں بغیر ظاہری وسائل کے اس ملک کو قائم کیا، اسی طرح وہ اب بھی اس کو قائم رکھنے اور استحکام بخشنے کی طاقت رکھتا ہے۔ لیکن اگر اُس نے ہمیں کفرانِ نعمت کی سزا دینے کا فیصلہ کیا، تو پھر ہمارا انجام عبرتناک ہوگا۔

………………………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔