گذشتہ چند سالوں سے سوشل میڈیا پر پاکستان میں بچوں کے حوالے سے خبریں پڑھ اور سن کر دل خون کے آنسو رونے لگتا ہے۔ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، قتل اور اغوا برائے تاوان کی وارداتیں ہیں کہ دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہیں۔ اب یہ گویا ایک ایسا معمول بن گیا ہے جس نے ہر ماں باپ کو شدید ترین ذہنی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ بچوں کی سلامتی کے لیے متفکر والدین ہر وقت یہی سوچتے رہتے ہیں کہ ان کے بچے صحیح سلامت گھر لوٹیں گے بھی کہ نہیں؟ المیہ یہ ہے کہ بچوں کے ساتھ اس طرح کے بہت کم واقعات ریکارڈ پرآتے ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ ان میں بھی اکثر اوقات بات گاؤں یا پولیس اسٹیشن کی حد تک رہ کر دب جاتی ہے۔ اس تناظر میں صرف دو ہی ایسے کیس سامنے آئے ہیں جس پر پاکستان سمیت پوری دنیا میں احتجاج ہوا۔ ان میں ایک زینب ریپ اور قتل کا جب کہ دوسر ااسلام آباد کی فرشتہ مہمند کا کیس تھا۔ اس طرح کے المناک اور انسانیت سوز واقعات کی وجوہات اور روک تھام پر ہم آگے قدرے تفصیل سے روشنی ڈالتے ہیں، مگر اس سے پہلے ہم ترقی یافتہ ممالک کے بچوں کے بارے میں ذکر کریں گے کہ وہاں ریاست اور والدین کس طرح بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور اس طرح کے واقعات سے کافی حد تک بچوں کو محفوظ رکھتے ہیں۔
قارئین، اکیسویں صدی کے اس جدید دور میں ترقی یافتہ ممالک میں بچوں کی دیکھ بھال پر بڑی توجہ دی جارہی ہے۔ بچے کی پیدائش سے لے کر 18 سال کی عمر تک ان کی کفالت کی ذمہ داری ریاست کی ہوتی ہے۔ 3 سال کی عمر میں بچوں کو چلڈرن گارڈن بھیج دیا جاتا ہے جہاں بچے ایک گارڈن میں چار پانچ سرپرستوں کی نگرانی میں گروپس کی شکل میں ایک دوسرے کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ مزید برآں، بچوں کو بات کرنے کا طریقہ اور اخلاقیات بھی سکھائی جاتی ہیں۔ اس طرح اسکول اور گھر میں بچوں کو تربیت دی جاتی ہے، جب کہ والدین اوراساتذہ کا رویہ اور سلوک ان کے ساتھ انتہائی دوستانہ ہوتا ہے،جس پر بچے والدین یا اساتذہ سے کوئی بات نہیں چھپاتے۔ یہ بچے انتہائی تیز اور ذہین بھی ہوتے ہیں۔ کسی کے ہاتھ سے باآسانی چاکلیٹ تک نہیں لیتے۔ نہ زینب کے قاتل جیسے لوگ ان کو دھوکا دے کر ورغلا ہی سکتے ہیں۔
قارئین، اگر غورکیا جائے، تو ان تمام امور کے پسِ پردہ صرف اور صرف اسکول اور والدین کی تربیت کارفرما نظر آئے گی۔
ترقی یافتہ ممالک میں 6 سال کی عمر میں بچے کو جنسی تعلیم دی جاتی ہے۔ بچے کو سکھایا جاتا ہے کہ کس طرح وہ پیدا ہوا ہے، وغیرہ ۔ مذکورہ تعلیم میں بچے کو سب سے اہم چیز یہ سکھائی جاتی ہے کہ جنسی حوالے سے اپنا دفاع کیسے کیا جائے؟ بچے کو یہ سکھایا اور بخوبی ذہن نشین کیا جاتا ہے کہ اگر کوئی آپ کے چہرے یا آپ کے باقی جسم یا مخصوص اعضا کو ہاتھ لگانا چاہے، تو آپ کو اس کا ہاتھ دور کرنا ہے۔ کسی کو آپ کے جسم یا اعضا کو ہاتھ لگانے کا حق حاصل نہیں۔ غرض یہ کہ والدین کے لیے بھی بچے کو ہاتھ لگانے کی ایک حد مقرر کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کم رپورٹ ہوتے ہیں اور بچے خود کو جنسی درندوں سے محفوظ رکھنے کے گر جانتے ہیں۔
لیکن یہاں ہمارا موضوع جنسی تعلیم کا دفاع نہیں، بلکہ یہ کہنا مقصود ہے کہ اس حوالہ سے بچوں کو کس طرح چند ضروری باتوں کا شعور دیا جائے؟
قارئین، ہمارے معاشرے میں بچوں کے ساتھ والدین اور اساتذہ کا رویہ انتہائی تلخ ہوتا ہے۔ والدین ہمیشہ بچے کے ساتھ سخت لہجے میں بات کرتے ہیں۔ معمولی بات پر اس کو ڈانٹا اور پیٹا جاتا ہے۔ اس کو گالیاں دی جاتی ہیں اور یہ تمام امور بچے کے ذہن پر انتہائی برے اور منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ عمومی طور پر ہمارے معاشرہ میں والدین بچوں کے سامنے خود کو حد درجہ سنجیدہ بلکہ چہرہ پر غصہ لا کر خود کو پیش کرتے ہیں، تاکہ بچے پر دباؤ ڈالا جاسکے۔ اس لیے مذکورہ بچہ ہمیشہ اپنے والدین سے کتراتا ہے۔ وہ والدین کے ساتھ کوئی بھی بات شیئر نہیں کرتا اور بچہ من ہی من میں کڑھتا رہتا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت مزید دگرگوں ہوجاتی ہے، جب گھر کے بعد اسکول میں بھی بچے کو اسی طرح کے ناجائز، ناروا، غیر انسانی سلوک اور رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سبق کے دوران میں اگر کوئی بچہ سوال کرے، توبھی ڈانٹ پڑتی ہے اور اگر نہ کرے تو بھی۔ اس صورتِ حال میں ایک بچہ آخر کرے بھی، تو کیا؟ ایسی پریشانی میں بچہ کس طرح اپنی تعلیم پر توجہ دے سکتا ہے، یا کلاس میں کوئی کارکردگی دکھا سکتا ہے؟
والدین اور اساتذہ کے اسی سلوک اور لاپروائی کی وجہ سے بچہ اپنے ہر قسم کے حقوق سے لاعلم رہتا ہے اور ہرقدم پر جنسی زیادتی کا شکار بننے جیسے خطرات سے دو چار رہتا ہے۔ اپنے بچوں کو محفوظ اور ذہین رکھنے کے لیے والدین کو بچوں کے ساتھ ایک دوستانہ ماحول قائم کرنا ہوگا، تاکہ وہ مطمئن ہو کر والدین کے ساتھ ہر بات کا اشتراک کرے اور بچے کے ذہن میں کوئی بات نہ رہ جائے۔
والدین کو چاہیے کہ بچے سے اسکول اور مدرسے کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیا کریں کہ بچے کے ساتھ کیسا سلوک کیا جارہا ہے؟ بچے کی بات کو ٹالنے یا جھوٹ قرار دینے سے قبل ایک دفعہ اس کی بتائی ہوئی بات کی تحقیق کرنا انتہائی ضروری ہے۔
بچوں کو کسی دکان یا مارکیٹ میں اکیلا سامان خریدنے کے لیے بھیجنے سے حتی الامکان گریز کیا جائے۔
بچے کو زیادہ پیسے نہیں دینے چاہئیں۔
اس طرح اگر کوئی مہمان آپ کے بچے کو پیسے دینا چاہے، تو اسے منع کرنا چاہیے۔
بچے کو سکھانا چاہیے کہ کسی کو حق حاصل نہیں کہ اس کو گود میں لے، اس کے بدن یا اعضا کو ہاتھ لگائے۔
کسی کے ہاتھ سے چاکلیٹ یا گفٹ نہ لیا جائے۔
والدین اپنے بچوں کو ہمیشہ تسلی دیں اور ان سے دوستانہ انداز میں بات کریں۔
مذکورہ امور پر سختی سے عمل کیا جائے گا، تو تب کہیں جا کر ممکن ہوگا کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی یا دیگر خطرناک واقعات میں خاطر خواہ کمی آئے گی۔
یہ چند ایسی تجاویز ہیں جن پر والدین کو خود عمل پیرا ہونا چاہیے ۔ اس کے لیے اکیلے کسی سیاستدان، معاشرے یا سسٹم کو زمہ دار ٹھرانا زیادتی ہو گی۔

……………………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔