ہشمت کا خون سوال بن کر کھڑا ہے

Blogger Suhail Sohrab

مدین کی وادی میں ایک اور معصوم کلی مسل دی گئی۔ 9 سالہ معصوم اور باپ کے سائے سے محروم ہشمت، جس کی عمر کھیلنے، ہنسنے اور اپنے خواب سجانے کی تھی، مبینہ طور پر ایک سفاک انسان کی درندگی کا شکار ہوئی اور پھر اسے قتل کر دیا گیا۔
یہ خبر صرف ایک گھر کے لیے قیامت نہیں، پورے معاشرے کے ضمیر کے لیے ایک سوال ہے۔ آخر کب تک… کب تک ہماری بیٹیاں درندہ صفت لوگوں کی ہوس کا نشانہ بنتی رہیں گی؟
کب تک والدین اپنی بچیوں کو گھر سے باہر بھیجتے ہوئے خوف محسوس کریں گے؟
کب تک ایسے واقعات کے بعد چند دن شور ہوگا، مذمتیں ہوں گی اور پھر سب کچھ خاموش ہو جائے گا؟
ہمیں صرف قاتل کی مذمت نہیں کرنی، ہمیں ایسا نظامِ عدل بھی مانگنا ہوگا، جو مجرم کو جرم سے پہلے خوف اور جرم کے بعد عبرت کا احساس دلائے۔ ہم شرعی نظامِ عدل کے خواہاں ہیں، ایسا نظام جس میں کسی بے گناہ کو سزا نہ ملے، مگر جب کسی سفاک مجرم کا جرم شفاف تحقیقات اور عدالت کے ذریعے ثابت ہو جائے، تو اسے قانون اور شریعت کے مطابق ایسی سخت اور عبرت ناک سزا دی جائے کہ کوئی دوسرا شخص کسی معصوم کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے سے پہلے 100 مرتبہ سوچے۔
اگر جرم ثابت ہونے کے بعد قانون اور شرعی تقاضوں کے مطابق سزائے موت بنتی ہے، تو اسے محض کاغذوں اور فائلوں میں دفن نہیں ہونا چاہیے؛ فوری اور مؤثر انصاف ہی معاشرے میں قانون کی ہیبت قائم کرتا ہے۔
ہشمت واپس نہیں آئے گی۔ اس کی ماں کی گود دوبارہ آباد نہیں ہوگی… لیکن اگر ہشمت کے خون کے بعد بھی ہمارا نظام نہ جاگا، اگر مجرموں کو قانون کا خوف محسوس نہ ہوا، اگر انصاف میں غیر ضروری تاخیر ہوتی رہی، تو کل کسی اور گھر کی معصوم کلی ہماری بے حسی کی قیمت چکائے گی۔
ہشمت صرف ایک نام نہیں، ہمارے اجتماعی ضمیر کا سوال ہے، اس کے قاتل کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا ملنی چاہیے، اور ہر بیٹی کے لیے ایسا محفوظ معاشرہ بنانا چاہیے، جہاں درندوں کو قانون کا خوف اور معصوموں کو ریاست کا تحفظ حاصل ہو۔
آئیں، ہم سب معصوم اور یتیم شہید بچی ’’ہشمت‘‘ کے لیے آواز اٹھائیں۔ انصاف کے لیے آواز اٹھائیں۔ اپنی بیٹیوں کے محفوظ مستقبل کے لیے آواز اٹھائیں۔ آج اگر ہم یہ سوچ کر چپ کا روزہ رکھیں کہ یہ میری بیٹی تو نہیں تھی، تو اللہ نہ کرے کل کو ہماری بیٹیاں بھی اسی درندگی کا نشانہ بن سکتی ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے