قائدانہ صلاحیتیں جاپان سے سیکھیں

Blogger Fazal Manan Bazda

قائدانہ صلاحیتوں سے مراد وہ مہارتیں ہیں، جو ریاستی اداروں، انتظامی امور، سفارتی و بین الاقوامی تعلقات اور ریاست کی معاشی حالت کو بہتر بناسکیں۔ ریاستی ترجیحات کا بروقت تعین کرنا، فوری فیصلہ سازی کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا اور کسی بھی اندرونی و بیرونی دباو کے وقت پُرسکون رہنا، قائدانہ صلاحیتوں کا حصہ ہے۔
قائدانہ صلاحیت عوام کو مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے اپنے ساتھ ملا کر آگے بڑھاتی ہے، ریاستی اہداف کی سوجھ بوجھ رکھتی ہے اور اپنے ساتھ کام کرنے والوں کا اعتماد بڑھاتی ہے۔
قائدانہ صلاحیتیں رکھنے والے قومی راہ نما ہر قسم کے حالات میں عوام کے لیے بہتر راہ نما ثابت ہوتے ہیں۔ دنیا کی تاریخ میں وہی لوگ کام یاب حکم ران ثابت ہوئے، جن کے اندر قائدانہ صلاحیتیں موجود تھیں اور جنھوں نے مشکل سے مشکل حالات میں بھی قوم کی راہ نمائی کی۔ نیز کسی بھی کام یابی کا سہرا اپنے سر نہیں لیا۔
جاپان ہی کو لیجیے، جب امریکہ نے 6 اگست 1945ء کو ہیروشیما پر ’’لٹل بوائے‘‘ نامی ایٹم بم گرایا اور 9 اگست 1945ء کو جاپانی شہر ناگاساکی پر دوسرا ایٹم بم گرایا، جس سے وہاں لاکھوں لوگ لقمۂ اجل بن گئے، لاکھوں معذور ہوئے، معیشت تباہ ہوگئی اور زمین کسی کام کی نہیں رہی۔ 15 اگست 1945ء کو جاپان کے شہنشاہ نے ریڈیو نشریات کے ذریعے جنگ بندی اور ہتھ یار ڈالتے ہوئے شکست تسلیم کرلی۔ ستمبر 1945ء کو ٹوکیو کی خلیج میں امریکی بحری جنگی جہاز ’’یو ایس ایس میسوری‘‘ پر جاپان نے باضابطہ طور پر شکست تسلیم کرنے کی دستاویزات پر دستخط کردیے۔
مگر اللہ تعالیٰ نے انھیں ایسے قائدین عطا کیے، جن میں مذکورہ بالا تمام مہارتیں موجود تھیں۔ جاپانی قائدین نے ذاتی مفادات دیکھے اور نہ اپنی آنے والی نسلوں ہی کے بارے میں سوچا، بل کہ اُن کے دلوں میں قوم سے محبت تھی اور وہ انھیں ان مشکل حالات سے نکالنا چاہتے تھے۔ آج 81 سال بعدجاپان ایک ایسے مقام پر ہے کہ دنیا میں اسے ایک باعزت مقام حاصل ہے۔ کرپشن کا مسئلہ ہے، نہ سیاسی عدم استحکام؛ معیشت مضبوط ہے، بے روزگاری اور امن و امان کا کوئی مسئلہ نہیں اور عوام سکون کی زندگی گزار رہے ہیں۔
جاپان کے مقابلے میں پاکستان میں قابلِ کاشت زرعی زمین، بہترین نہری نظام، جنگلات، معدنی خزانے، بہترین دماغ اور افرادی قوت موجود ہے، لیکن اگر کوئی کمی ہے، تو وہ صرف اور صرف سیاسی قائدین میں ہے؛ وہ قائدانہ صلاحیتیں موجود نہیں، جو کسی قائد یا قومی راہ نما میں ہونی چاہییں۔ ہمارے سیاسی قائدین کا مطمحِِ نظر ذاتی مفادات، اپنے کاروبار میں اضافہ، اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانا، بینک بیلنس میں اضافہ، قومی خزانے کو لوٹنا، منی لانڈرنگ کے ذریعے دولت بیرونی ممالک منتقل کرنا اور اپنے عوام پر پے در پے ظلم کرنا ہے۔
ہمارے حکم رانوں اور سیاسی قائدین نے عوام کی زندگی بہتر بنانے کے بارے میں کبھی سوچا تک نہیں۔ ہم 79 سال بعد بھی آج جس مقام پر کھڑے ہیں، کم زور سے کم زور قوم بھی اس کا تصور نہیں کرسکتی۔
ابتر معاشی حالات کی وجہ سے مہنگائی کی شرح میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جس سے عام آدمی کی زندگی اجیرن بن چکی ہے۔ ملک پر بیرونی قرضوں کا دباو بڑھتا جا رہا ہے اور نتیجے میں روپے کی قدر میں کمی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
امریکی پراکسی وار کے نتیجے میں ہم نے بہت کچھ کھویا اور ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے، جس میں پاکستان کے اتحادی برابر کے شریک ہیں۔ ہمارے بازار محفوظ ہیں، نہ مساجد اور نہ امام بارگاہیں؛ دھماکے ہوتے ہیں اور تفریحی پارکوں میں بم دھماکوں کے واقعات پیش آتے ہیں، جب کہ سکولوں میں معصوم بچے قتل ہورہے ہیں۔ پورے ملک میں دہشت گردوں کا راج ہے، ریاستی ادارے سرحدوں پر دہشت گردوں کو روکنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔
انتظامی صورتِ حال اس سے بھی زیادہ خراب ہے؛ بھتا اور قبضہ مافیا سے کوئی پوچھنے والا نہیں، طلبہ پر چھتیں گر رہی ہیں اور وہ ان کے نیچے دب کر مر رہے ہیں، طالبات کے ساتھ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جنسی زیادتی ہورہی ہے، لیکن حکم ران آنکھیں اور کان بند کیے ہوئے ہیں۔ ہسپتالوں میں معصوم بچے آگ میں جل جانے پر ذمے دار اور حکم ران دونوں خاموش ہیں۔ بڑے سے بڑا حادثہ بھی سامنے آنے پر بات مذمت، قرارِ واقعی سزا دینے، مجرموں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے اور کسی کو امن و امان ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ دینے کے بیانات پر ختم ہوجاتی ہے۔ آج تک کسی مجرم سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا گیا، نہ امن و امان ہاتھ میں لینے والوں سے پوچھا ہی گیا۔ نیز کسی کو قرارِ واقعی سزا بھی نہیں دی گئی۔ یہ سارے بیانات عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے دیے جاتے ہیں۔
سیاسی عدم استحکام ہمیں اس موڑ پر لے آیا ہے کہ سیاست میں اب دوست، دوست نہیں رہا اور سیاسی میدان میں سب کے درمیان دوری اور گہری نفرت کی لکیر کھینچ دی گئی ہے۔ یہ ایسے حالات ہیں، جو ہمیں ہر روز پیچھے کی طرف دھکیل رہے ہیں، جس کا کوئی یقینی حل نظر نہیں آرہا۔ ہمارے سیاسی قائدین اور راہ نماؤں کے اقدامات سے تو ایسا لگ رہا ہے کہ ہمارے سیاسی قائدین اور حکم رانوں میں قائدانہ صلاحیتیں کم اور سیاست میں کھلواڑ زیادہ ہے، جو پاکستان کے لیے نقصان کا سبب بنتا جا رہا ہے۔
دوسری طرف پاکستان پر بعض معاملات میں بیرونی دباو بھی بڑھتا جارہا ہے، جس سے ہمارے مسائل میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ حالات کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی قائدین، بہ شمول حکم ران، ہوش کے ناخن لیں اور ایک دوسرے کو پچھاڑنے اور بے عزت کرنے سے باز آجائیں، ورنہ بعد میں ہاتھ ملنے کو سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے