اصلاح حکومت نہیں، رویے بدلنے سے ممکن ہے

Blogger Suhail Sohrab

ہم جس بدبودار نظام میں زندگی گزار رہے ہیں، اس کی بدبو صرف آج کی پیداوار نہیں۔ یہ تقریباً 80 سال کے جمع شدہ گند کا نتیجہ ہے۔ اس گندگی کو کسی ایک حکومت، ایک ادارے، ایک سیاسی جماعت یا چند افراد کے سر ڈال کر ہم خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے۔ حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ ہے کہ یہ نظام اوپر سے کم اور نیچے سے زیادہ خراب ہوچکا ہے۔
ہم عموماً تبدیلی کی بات کرتے ہوئے اقتدار کے ایوانوں کی طرف دیکھتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ اگر حکم ران بدل جائیں، چند بڑے افسر بدل جائیں یا کوئی نیا قانون بن جائے، تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا… لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف چہرے بدلنے سے وہ معاشرہ بدل سکتا ہے، جس کی سوچ میں ہی خرابی سرایت کرچکی ہو؟
آج ہمارے معاشرے میں قانون کی پابندی سے زیادہ راستہ نکالنے کو عقل مندی سمجھا جاتا ہے۔ سفارش کو حق، رشوت کو مجبوری، جھوٹ کو مصلحت اور ذاتی مفاد کو کام یابی سمجھ لیا گیا ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ سرکاری افسر ایمان دار ہو، لیکن اپنا کام جلدی کروانے کے لیے سفارش تلاش کرتے ہیں۔
ہم کرپشن کو برا کہتے ہیں، لیکن جب اس کا فائدہ ہمیں پہنچ رہا ہو, تو خاموش رہتے ہیں۔
ہم میرٹ کا مطالبہ کرتے ہیں، مگر اپنے عزیز یا پسندیدہ شخص کے لیے میرٹ کو نظر انداز کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگاتے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں رُک کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ حکم ران خراب ہیں؛ مسئلہ یہ بھی ہے کہ معاشرہ ایسے لوگوں کو قبول کرنے، برداشت کرنے اور بعض اوقات دوبارہ منتخب کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ادارے کم زور ہیں؛ مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنے معمولی سے معمولی مفاد کے لیے اداروں کو کم زور کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
ہم تبدیلی چاہتے ہیں، مگر تبدیلی کی قیمت ادا نہیں کرنا چاہتے۔ ہم ایک صاف ستھرا نظام چاہتے ہیں، مگر اپنی زندگی میں چھوٹی چھوٹی بے ایمانیوں کو معمول سمجھتے ہیں۔
ہم انصاف چاہتے ہیں، مگر انصاف اپنے حق میں ہو، تو اسے اُصول کہتے ہیں اور اپنے خلاف ہو، تو اسے ظلم قرار دیتے ہیں۔
یہی اجتماعی تضاد کسی بھی معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ اس لیے اس ملک کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اوپر کون بیٹھا ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ نیچے سے ہم کس قسم کا معاشرہ بنا رہے ہیں؟ کیوں کہ حکم ران بھی اسی معاشرے سے آتے ہیں، افسر بھی، سیاست دان بھی، تاجر بھی اور عام شہری بھی۔
اگر ہمیں واقعی تبدیلی چاہیے، تو ہمیں صرف حکومتیں بدلنے کے بہ جائے اپنے رویے بدلنے ہوں گے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ریاست صرف ایوانوں کا نام نہیں، بلکہ کروڑوں لوگوں کے مجموعے کا نام ہے۔ جب تک عام آدمی اپنے چھوٹے سے دائرے میں قانون، دیانت، ذمے داری اور انصاف کو اہمیت نہیں دے گا، تب تک بڑے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں سے مکمل اصلاح کی امید رکھنا بھی خود فریبی ہے۔
یہ گندگی ایک دن میں پیدا نہیں ہوئی اور نہ ایک دن میں ختم ہوگی۔ اسے صاف کرنے کے لیے صرف سیاسی تبدیلی نہیں، بل کہ اخلاقی اور فکری تبدیلی بھی درکار ہے۔ شاید اصل انقلاب وہ دن ہوگا، جب ہم یہ سوال دوسروں سے پوچھنے کے بہ جائے خود سے پوچھنا شروع کریں گے کہ ’’مَیں اس خراب نظام کا صرف متاثرہ فریق ہوں، یا کہیں نہ کہیں اس خرابی کا حصہ بھی ہوں…؟‘‘
اس سوال کا ایمان دارانہ جواب شاید ہماری اجتماعی اصلاح کی پہلی سیڑھی بن سکتا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے