عمر خیام کا فکری سفر

Blogger Comrade Sajid Aman

سوچیں کہ نیشاپور ایران کی کسی خاموش رات میں جب آسمان پر تارے پوری جگ مگ جگ مگ کر رہے ہوں گے، تو شاید ایک شخص اُن ستاروں کو دیکھتے ہوئے یہ سوچ رہا ہوگا کہ انسان آخر اس وسیع کائنات میں ہے کہاں…؟
اسی شہر میں، تقریباً ایک ہزار برس پہلے، ایک ایسا ذہن پروان چڑھ رہا تھا، جو ایک طرف آسمان کی گردش کا حساب لگا رہا تھا، تو دوسری طرف ایسی ریاضیاتی مساواتوں سے اُلجھ رہا تھا، جنھیں حل کرنا اس عہد کے بڑے ذہنوں کے لیے بھی آسان نہ تھا… اور پھر اُسی شخص کے قلم سے چار مصرعے نکلے، جو زندگی، موت، وقت اور انسانی بے بسی پر صدیوں سے دنیا کو سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں۔
مذکورہ شخص کا نام ’’عمر خیام‘‘ تھا۔ عجیب بات یہ ہے کہ دنیا نے اُسے زیادہ تر شاعر سمجھا، حال آں کہ اُس کے عہد میں شاید وہ شاعری سے زیادہ ریاضی اور فلکیات کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا۔
غیاث الدین ابو الفتح عمر بن ابراہیم نیشاپوری خیامی، جسے دنیا عمر خیام کے نام سے جانتی ہے، تقریباً 1048ء میں نیشاپور میں پیدا ہوا۔ نیشاپور اُس زمانے میں محض ایک شہر نہیں تھا، بل کہ خراسان کی علمی اور تہذیبی زندگی کا ایک بڑا مرکز تھا، جہاں علم صرف مدرسے کی چار دیواری میں بند نہیں تھا۔ فلسفہ، طب، ریاضی، فلکیات، منطق اور ادب ایک دوسرے سے گفت گو کرتے تھے۔ یونانی علمی ورثہ عربی میں منتقل ہوچکا تھا۔ ہندوستانی ریاضی کے تصورات اسلامی دنیا میں پہنچ چکے تھے اور مسلمان اہلِ علم صدیوں کے اس علمی سرمائے کو آگے بڑھا رہے تھے۔
عمر خیام اسی ماحول میں سامنے آیا، مگر اُس کی ذہنی پرواز اپنے زمانے کی معمول کی علمی حدود سے بہت آگے تھی۔
اُس کے نام کے ساتھ ’’خیام‘‘ کا لفظ بھی ایک دل چسپ داستان رکھتا ہے۔ عربی میں خیام، دراصل ’’خیمے‘‘ کی جمع ہے اور خیام سے مراد خیمہ بنانے یا سینے والا شخص ہے۔
روایات کے مطابق اُس کے خاندان کا تعلق خیمہ سازی سے تھا۔ خود عمر خیام کے بارے میں یہ کہنا درست نہیں کہ وہ پیشے کے اعتبار سے خیمے سیتا تھا۔ ’’خیام‘‘ بنیادی طور پر خاندانی نسبت یا پیشے سے وابستہ نام تھا… مگر تاریخ نے اس نام کے ساتھ ایک خوب صورت استعارہ ضرور بنا دیا۔ خیمے بنانے والے خاندان میں پیدا ہونے والا یہ شخص بعد میں علم کے اتنے بڑے خیمے کا معمار بن گیا، جس کے نیچے ریاضی، فلکیات، فلسفہ اور شاعری سب جمع ہوگئے۔
نیشاپور سے خیام کا تعلق بھی محض جائے پیدایش کا نہیں تھا۔ اس شہر نے اُسے علمی ماحول دیا اور زندگی کے آخری مرحلے میں وہ واپس بھی اسی شہر آیا… لیکن علم کی تلاش اُسے نیشاپور کی حدود میں مقید نہ رکھ سکی۔ وہ مختلف علمی مراکز سے گزرا، بخارا اور سمرقند جیسے شہروں میں علم کی دنیا سے جڑا اور بالآخر سلجوقی دربار تک پہنچا۔ اُس زمانے میں سلجوقی سلطنت طاقت کے عروج پر تھی اور اُس کے وزیر، نظام الملک، علمی سرگرمیوں کے بڑے سرپرستوں میں شمار ہوتے تھے۔
یہی وہ مرحلہ تھا جب عمر خیام کی زندگی نے شاعری سے کہیں زیادہ بڑے میدان میں قدم رکھا۔ سلطان ملک شاہ سلجوقی کے زمانے میں اُسے اصفہان بلایا گیا اور فلکیاتی مشاہدات اور تقویم کی اصلاح کے منصوبے میں شامل کیا گیا۔ اصفہان میں رصدگاہ قائم ہوئی۔ آسمان کو دیکھا گیا۔ ستاروں کی حرکات کا مشاہدہ کیا گیا۔ حساب کتاب ہوا اور سال کی مدت کو زیادہ درست انداز میں متعین کرنے کی کوشش کی گئی۔ نتیجہ ایک ایسی شمسی تقویم کی صورت میں نکلا، جسے ‘’’جلالی تقویم‘‘ کہا گیا۔
قارئین! اب یہاں رُک کر ایک لمحے کے لیے سوچنے کی ضرورت ہے۔ جس شخص کو آج ہم چار مصرعوں کا شاعر سمجھ کر یاد کرتے ہیں، وہ تقریباً ایک ہزار برس پہلے سال کے دورانیے کی پیمایش کے مسئلے پر کام کر رہا تھا۔ وہ وقت کو محض فلسفیانہ موضوع نہیں سمجھ رہا تھا، بل کہ وہ اسے فلکیاتی مشاہدے اور ریاضی کے ذریعے ناپ رہا تھا۔ یہی عمر خیام کا پہلا بڑا راز ہے۔ اُس کے لیے شاعری اور سائنس ایک دوسرے کی ضد نہیں تھیں۔
اس کے بعد ریاضی آتی ہے، جہاں خیام کا اصل علمی قد شاید سب سے زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ خیام نے ’’الجبرا‘‘ کے پیچیدہ مسائل پر کام کیا اور بالخصوص مکعب مساواتوں کا مطالعہ کیا۔ آج ہم ایک مساوات لکھتے ہیں، چند علامتیں استعمال کرتے ہیں اور کمپیوٹر یا کیلکولیٹر کے ذریعے حل نکال لیتے ہیں۔ خیام کے زمانے میں جدید الجبری علامتیں تھیں، نہ کیلکولیٹر اور نہ کمپیوٹر ہی تھا۔ اس کے باوجود اُس نے مکعب مساوات کو مختلف اقسام میں تقسیم کیا اور اُن کے حل کے لیے ہندسی طریقے اختیار کیے۔ مخروطی قطوع، یعنی دائرے اور دوسرے ہندسی منحنیات Curves کے باہمی تقاطع (یعنی دو یا دو سے زائد خطوط کا کسی ایک نقطے پر ایک دوسرے کو عبور کرنا یا کاٹنا، چوراہا ، چوک)  کے ذریعے مساوات کے حل تلاش کرنے کا طریقہ اُس کے ریاضیاتی کام کی غیر معمولی مثال ہے۔
یہاں ایک نکتہ نوٹ کریں کہ عمر خیام صرف ایک ریاضی دان نہیں رہتا، بل کہ وہ ریاضی کی تاریخ کا ایک اہم موڑ بن جاتا ہے۔
لیکن شاید تاریخ کا سب سے دل چسپ سوال یہ ہے کہ ایسا آدمی رباعی کی طرف کیوں گیا؟ رباعی اُس نے ایجاد نہیں کی تھی۔ یہ وضاحت ضروری ہے۔ کیوں کہ عمر خیام کو اکثر ’’رباعی کا بانی‘‘ کہا جاتا ہے، جو تاریخی اعتبار سے درست نہیں۔ رباعی فارسی شاعری کی ایک قدیم صنف تھی، اور خیام سے پہلے بھی اس کا وجود تھا۔ خیام کا اصل کمال یہ تھا کہ اُس نے اس مختصر صنف کو ایسی فکری گہرائی دی کہ بعد میں رباعی کا تصور ہی اس کے نام کے بغیر ادھورا محسوس ہونے لگا۔
چار مصرعے، صرف چار… لیکن اُن چار مصرعوں میں انسان کائنات کے سامنے کھڑا ہے۔
وقت گزرتا جا رہا ہے
موت سامنے ہے
ماضی واپس نہیں آتا
مستقبل معلوم نہیں
اور انسان اپنے مختصر وجود کے درمیان یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے کہ اُسے ملا کیا ہے… اور وہ جانتا کتنا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ خیام کی رباعیات میں زندگی کی ناپائیداری، وقت، موت، تقدیر، انسانی لاعلمی، خوشی اور موجودہ لمحے کی اہمیت بار بار سامنے آتی ہے۔
لیکن یہاں بھی ایک احتیاط لازم ہے۔ آج جو سیکڑوں، بل کہ ہزاروں رباعیاں عمر خیام کے نام سے گردش کررہی ہیں، اُن میں سے ہر ایک کو بِلاتحقیق خیام ہی کی شاعری قرار دینا درست نہیں۔ مختلف مخطوطات (قلمی نسخے) میں رباعیات کی تعداد مختلف ہے اور نسبت کے بارے میں اہلِ تحقیق کے درمیان اختلاف موجود ہے۔ وقت کے ساتھ بہت سی رباعیاں خیام کے نام سے منسوب ہوتی گئیں۔
یہ مسئلہ صرف فارسی ادب تک محدود نہیں رہا۔ 19ویں صدی میں ایک انگریز شاعر اور مترجم نے عمر خیام کو مغرب کے لیے تقریباً نئے سرے سے دریافت کیا۔ اُس شخص کا نام ’’ایڈورڈ فٹز جیرالڈ‘‘ تھا۔ فٹز جیرالڈ نے 1859ء میں ’’Rubaiyat of Omar Khayyam‘‘ شائع کی۔ یہ کوئی معمولی ترجمہ نہیں تھا۔ اُس نے مختلف مخطوطاتی مواد سے استفادہ کرتے ہوئے رباعیات کو انگریزی شاعری کے ذوق اور اپنے تخلیقی اسلوب میں ڈھالا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ فارسی کے ایک گیارہویں صدی کے شاعر کی آواز وکٹورین عہد کے انگلستان، پھر یورپ اور امریکہ تک پہنچ گئی۔
یہاں عمر خیام کی تاریخ ایک دل چسپ موڑ لیتی ہے۔ جس شخص نے اپنی زندگی میں شاید یہ تصور بھی نہ کیا ہو کہ اُس کی رباعیاں دنیا کے دوسرے سرے تک پہنچیں گی، اُس کا نام صدیوں بعد ایک ایسے مترجم کے ذریعے عالمی ادب کا حصہ بن گیا، جس نے اس کی شاعری کو صرف منتقل نہیں کیا، بل کہ اپنے ادبی ذوق کے مطابق نئی شکل بھی دی۔
اور اگر سوال یہ ہو کہ فٹز جیرالڈ فارسی سے اتنا قریب کیسے ہوا؟ تو یہاں ایک اور نام سامنے آتا ہے… سر ولیم جونز کا۔
جونز 18ویں صدی کے معروف برطانوی مستشرق (جو مشرقی زبانوں کا مغربی ماہر ہو ) اور ماہرِ لسانیات تھے۔ اُن کی فارسی گرامر نے یورپ میں فارسی سیکھنے والوں کے لیے اہم کردار ادا کیا اور فٹز جیرالڈ بھی فارسی زبان سے اپنی واقفیت کے سلسلے میں جونز کی علمی روایت سے مستفید ہوا۔ یوں عمر خیام کی مغرب تک رسائی کے سفر میں کئی ہاتھ ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ فارسی کے اہلِ علم، مخطوطات، یورپی مستشرقین، ایڈورڈ کوول اور پھر فٹزجیرالڈ، وغیرہ۔
لیکن فٹز جیرالڈ کی وجہ سے ایک اور اہم سوال بھی پیدا ہوا۔ مغرب جس عمر خیام کو پڑھ رہا تھا، کیا وہ وہی عمر خیام تھا، جو 11ویں صدی کے نیشاپور میں زندہ تھا؟ جواب مکمل طور پر سادہ نہیں۔
فٹز جیرالڈ نے خیام کو انگریزی شعری مزاج میں ڈھالا۔ اس لیے مغرب کا ’’خیام‘‘ کسی حد تک اصل فارسی خیام اور فٹز جیرالڈ کے تخلیقی خیام کا مرکب بن گیا۔ اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے، ورنہ ہم فٹز جیرالڈ کی شاعری کو عمر خیام کی اصل فارسی شاعری سمجھنے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں… اور یہاں عمر خیام کا سب سے بڑا تضاد سامنے آتا ہے۔ وہ شخص جو ریاضی میں یقین کی تلاش کرتا ہے، شاعری میں انسانی یقین پر سوال اٹھاتا دکھائی دیتا ہے۔ وہ شخص جو آسمان کے حساب میں غیر معمولی دقت (گہرائی، تحقیق) چاہتا ہے، رباعی میں انسان کی لاعلمی کو سامنے لاتا ہے۔ وہ شخص جو کائنات کے نظم کو ریاضی سے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، زندگی کے معنی کے بارے میں قطعی جواب دینے سے گریز کرتا محسوس ہوتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ خیام ہر زمانے میں نئے سرے سے دریافت ہوتا ہے۔
ایک مذہبی ذہن اس کی رباعی میں ایک سوال دیکھتا ہے۔ ایک فلسفی شک اور یقین کے درمیان کش مہ کش، ایک شاعر فنا اور زندگی کی خوب صورتی، ایک سائنس دان مشاہدے اور حساب کی طاقت اور ایک عام انسان اپنے گزرے ہوئے وقت کا عکس دیکھ لیتا ہے۔ یہی نہیں یہ عمر خیام کو محض ’’شراب و ساقی کا شاعر‘‘ سمجھنے سے بھی روکتا ہے۔ اُس کی شاعری میں جام اور ساقی کے استعارے ضرور ہیں، مگر انھیں صرف ظاہری معنی میں پڑھنا اس پیچیدہ شاعر کو بہت محدود کردینا ہے۔ فارسی صوفیانہ اور فلسفیانہ شاعری میں شراب، ساقی، باغ، بہار اور جام کئی سطحوں پر علامتی معنی رکھتے ہیں۔ خیام کی شاعری میں بھی ان استعاروں کی تعبیر پر صدیوں سے بحث ہوتی رہی ہے… لیکن اس تمام بحث کے باوجود ایک چیز واضح ہے۔ خیام کا مرکزی مسئلہ انسان اور وقت کا رشتہ ہے۔
ہاں، وقت… یہ وہ چیز ہے، جسے خیام نے ریاضی میں ناپا، فلکیات میں حساب کیا، فلسفے میں سوچا اور شاعری میں محسوس کیا۔ شاید اسی لیے اُس کی شخصیت کو سمجھنے کا سب سے خوب صورت طریقہ یہ ہے کہ عمر خیام کو چار الگ آدمیوں میں تقسیم نہ کیا جائے۔ ریاضی دان خیام الگ، فلکیات دان خیام الگ، فلسفی خیام الگ اور شاعر خیام الگ نہیں تھے۔ یہ سب ایک ہی ذہن کے مختلف دریچے تھے… اور یہی خیام کی سب سے بڑی علمی میراث ہے۔
آج ہماری تعلیم نے علم کو بے شمار خانوں میں تقسیم کردیا ہے۔ ایک شخص ریاضی پڑھتا ہے، تو شاعری سے دور ہوجاتا ہے، شاعر سائنس سے، فلسفی عملی علم سے اور سائنس دان ادب سے۔
عمر خیام کا زمانہ ہمیں ایک مختلف امکان دکھاتا ہے۔ انسان بہ یک وقت کئی علوم کا طالب ہوسکتا ہے… اور شاید بعض اوقات ایک علم دوسرے علم کی آنکھ بن جاتا ہے۔ خیام نے ریاضی سے کائنات کو دیکھا، فلکیات سے وقت کو سمجھا، فلسفے سے انسانی علم کی حدود کو پرکھا اور شاعری سے اس حیرت کو زبان دی، جو حساب سے باہر رہ جاتی ہے۔ اس لیے عمر خیام کی اصل میراث صرف اُن کی رباعیات نہیں۔
عمر خیام کی میراث یہ سوال بھی ہے کہ انسان کتنا جان سکتا ہے؟
اُس کی میراث یہ احساس بھی ہے کہ وقت گزرنے والی سب سے بڑی حقیقت ہے۔
اُس کی میراث یہ سبق بھی ہے کہ علم کی مختلف شاخیں ایک دوسرے کی دشمن نہیں، بل کہ ایک دوسرے کی تکمیل ہوسکتی ہیں.
اور شاید اُس کی سب سے بڑی میراث یہ ہے کہ ایک انسان کو سمجھنے کے لیے کبھی کبھی اُس کے مشہور ترین تعارف سے باہر نکلنا پڑتا ہے۔
دنیا نے عمر خیام کو شاعر کَہ کر یاد رکھا۔ تاریخِ اور سائنس اُسے ریاضی دان اور فلکیات دان کے طور پر یاد رکھتے ہیں۔ فلسفہ اُسے سوال اٹھانے والے ذہن کے طور پر دیکھتا ہے… اور نیشاپور آج بھی اُس شخص کے نام کے ساتھ جڑا ہوا ہے، جو تقریباً ایک ہزار برس پہلے وہاں پیدا ہوا تھا۔
خیمہ بنانے والے خاندان کا وہ شخص، جس نے آسمان کا حساب لگایا، مساواتوں سے جنگ کی، فلسفے میں سوال اٹھائے اور چار مصرعوں میں انسان کو اس کی پوری ناپائیداری کا احساس دلا دیا۔ شاید عمر خیام کو سمجھنے کا سب سے مختصر جملہ یہی ہے کہ وہ ستاروں کو گننے والا شاعر نہیں تھا… وہ ایسا انسان تھا، جو ستاروں کو گنتے گنتے خود انسان کے وجود کے سوال تک پہنچ گیا۔
اور یہی وجہ ہے کہ نیشاپور کا وہ شخص آج بھی زندہ ہے… کتابوں میں نہیں، صرف رباعیوں میں بھی نہیں، بل کہ اُس سوال میں، جو ہر باشعور انسان کے اندر کبھی نہ کبھی ضرور پیدا ہوتا ہے: ’’یہ مختصر زندگی، یہ بے کنار کائنات اور اس کے درمیان موجود میں آخر ہوں کیا؟‘‘
ہمارے اردگرد کئی عمر خیام ہوسکتے ہیں۔ مَیں ایک احساس یوسف زئی کو جانتا ہوں، دوسرا عطاء اللہ جان کو… ایک طبیعیات کا ماہر، اُستاد اور پشتو ادب کا شیدائی ہے، دوسرا ریاضی میں ماسٹر ڈگری ہولڈر، قانون دان، شاعر، ادیب، مترجم اور نقاد تھا…!
ہمہ جہت لوگوں کی صحبت نعمت ہے۔ اگر نصیب ہو، اور اگر احساس ہو، تو…!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے