ثور انقلاب کی تاریخ (آخری قسط)

Blogger Sajid Aman

1990 کی دہائی کے آغاز تک افغانستان کی جنگ صرف کابل اور مجاہدین کے درمیان کش مہ کش نہیں رہی تھی، بل کہ اس کا مستقبل ماسکو میں ہونے والی تبدیلیوں سے بھی بہ راہِ راست وابستہ ہوچکا تھا۔ کئی برس تک ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت کو سوویت یونین کی مالی، عسکری اور تکنیکی امداد حاصل رہی، مگر اب وہ طاقت خود ایک ایسے بحران میں گھری ہوئی تھی، جس نے اس کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔
1991 میں مشرقی یورپ میں کمیونسٹ حکومتوں کا سلسلہ وار خاتمہ ہوچکا تھا۔ میخائل گورباچوف کی اصلاحاتی پالیسیوں نے اگرچہ سوویت نظام کو بدلنے کی کوشش کی، مگر معاشی بحران، قوم پرستانہ تحریکوں اور سیاسی اختلافات نے پورے اتحاد کو ہلا کر رکھ دیا۔ دسمبر 1991 میں سوویت یونین باضابطہ طور پر ٹوٹ گیا، اور اس کے ساتھ ہی وہ ریاست بھی ختم ہوگئی، جو ایک دہائی سے کابل حکومت کی سب سے بڑی پشت پناہ تھی۔
سوویت یونین کے انہدام کے بعد نئی روسی قیادت نے افغانستان کو پہلے جیسی امداد جاری رکھنے میں دل چسپی نہیں دکھائی۔ ایندھن، اسلحہ، پرزہ جات اور مالی وسائل کی فراہمی تیزی سے کم ہونے لگی۔ اس کا بہ راہِ راست اثر افغان فوج پر پڑا، کیوں کہ اس کا بڑا حصہ سوویت ساز و سامان اور رسد پر انحصار کرتا تھا۔ اسی دوران میں افغانستان کے شمال میں طاقت ور اُزبک کمانڈر عبدالرشید دوستم، جو طویل عرصے تک حکومت کے اہم اتحادی رہے تھے، نجیب اللہ سے دور ہونے لگے۔ دوستم کی ملیشیا حکومت کی مضبوط ترین فوجی قوتوں میں شمار ہوتی تھی۔ جب اُن کے تعلقات کابل سے خراب ہوئے، تو طاقت کا توازن تیزی سے بدل گیا۔
دوسری طرف مجاہدین کے مختلف دھڑے بھی اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ اب حکومت کی بقا زیادہ دیر تک ممکن نہیں۔ مختلف علاقوں میں حکومتی فوج کے کمانڈروں نے مزاحمت ختم کر دی، یا مقامی معاہدے کرلیے۔ کئی فوجی یونٹ بغیر بڑی لڑائی کے مجاہدین کے ساتھ مل گئے۔
مارچ اور اپریل 1992 کے دوران میں کابل میں سیاسی بحران انتہائی شدت اختیار کرگیا۔ ڈاکٹر نجیب اللہ نے اقتدار کی پُرامن منتقلی کی کوشش بھی کی اور اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں ایک عبوری انتظام کی تجاویز پر آمادگی بھی ظاہر کی۔ اُن کا ارادہ تھا کہ وہ استعفا دے کر ملک سے باہر چلے جائیں، تاکہ خوں ریزی سے بچا جاسکے… لیکن حالات ان کے قابو سے باہر ہوچکے تھے۔ جب اُنھوں نے کابل چھوڑنے کی کوشش کی، تو وہ ہوائی اڈے تک نہیں پہنچ سکے۔ اُن کے مخالف دھڑوں نے راستے بند کر دیے۔ مجبوراً وہ کابل میں واقع اقوامِ متحدہ کے دفتر میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ایک سابق صدر، جو کبھی پورے افغانستان کا حکم ران تھا، اپنے ہی دارالحکومت میں عملاً محصور ہوکر رہ گیا۔
اپریل 1992 میں مجاہدین کی افواج کابل کے مضافات تک پہنچ چکی تھیں۔ مختلف جماعتوں کے راہ نماؤں کے درمیان اقتدار کی تقسیم کے لیے مذاکرات ہوئے۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں ایک عبوری سیاسی انتظام کا خاکہ سامنے آیا، جس کے تحت صبغت اللہ مجددی کو عبوری صدر مقرر کیا گیا، جب کہ بعد میں اقتدار برہان الدین ربانی کو منتقل ہونا تھا۔ ظاہری طور پر ایسا لگ رہا تھا کہ سوویت مداخلت کے خلاف برسوں جاری رہنے والی جد و جہد اپنے منطقی انجام کو پہنچ گئی ہے، لیکن اصل آزمایش ابھی باقی تھی۔
مجاہدین کی سب سے بڑی کم زوری، جس کے آثار جنگ کے دوران میں بھی نمایاں تھے، اب کھل کر سامنے آنے لگی۔ مختلف تنظیموں کے درمیان یہ اختلاف پیدا ہوگیا کہ نئی حکومت میں کس کا کردار زیادہ ہوگا، وزارتیں کیسے تقسیم ہوں گی، فوج کی کمان کس کے پاس ہوگی اور کابل پر عملی کنٹرول کس جماعت کو ملے گا؟
گلبدین حکمت یار نے اقتدار کی تقسیم کے بعض فارمولوں کو قبول نہیں کیا۔ دوسری طرف احمد شاہ مسعود، برہان الدین ربانی، عبدالرشید دوستم اور دیگر راہ نماؤں کے اپنے اپنے اتحاد اور ترجیحات تھیں۔ چند ہی ہفتوں میں کابل، جو برسوں تک سوویت افواج اور حکومتی فوج کے باوجود نسبتاً متحدہ انتظام کے تحت رہا تھا، مختلف مسلح دھڑوں کے درمیان تقسیم ہونے لگا۔ راکٹ حملے، گولہ باری اور سڑکوں پر جھڑپیں معمول بن گئیں۔ جس شہر نے 9 برس تک بیرونی فوجی مداخلت کا سامنا کیا تھا، اب وہ اپنے ہی فاتحین کے درمیان جنگ کا میدان بنتا جا رہا تھا۔ افغان عوام، جنھوں نے امید باندھی تھی کہ سوویت انخلا اور کمیونسٹ حکومت کے خاتمے کے بعد امن واپس آ جائے گا، ایک نئی مایوسی سے دوچار ہوئے۔ کابل کے رہایشی علاقوں پر راکٹ برسنے لگے، ہزاروں شہری مارے گئے، لاکھوں لوگ دوبارہ نقلِ مکانی پر مجبور ہوئے اور ملک کی معیشت مزید تباہی کا شکار ہوگئی۔
اس تمام صورتِ حال میں ڈاکٹر نجیب اللہ اقوام متحدہ کے دفتر میں محصور رہے۔ اُن کے پاس اقتدار تھا، نہ فوج… اور نہ ملک چھوڑنے کا راستہ۔ وہ تقریباً چار برس تک اسی عمارت میں محدود رہے، جب کہ افغانستان کے باہر اور اندر سیاسی حالات تیزی سے بدلتے رہے۔ 1992 سے 1996 تک افغانستان میں جو خانہ جنگی جاری رہی، اُس نے بہت سے افغانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ سوویت جنگ کے خاتمے کے باوجود ملک کو وہ امن کیوں نہ مل سکا، جس کی برسوں سے امید کی جا رہی تھی؟ مختلف مجاہد تنظیموں کے درمیان اقتدار کی کش مہ کش نے ایک ایسا خلا پیدا کیا، جس سے جلد ہی ایک نئی قوت ابھرنے والی تھی۔ یہ نئی قوت اپنے آپ کو بدعنوانی، لاقانونیت اور جنگی سرداروں کے خلاف ایک متبادل کے طور پر پیش کرے گی۔ ابتدا میں بہت سے افغان اسے امن کی امید سمجھیں گے، لیکن آنے والے برسوں میں وہی تحریک افغانستان کی تاریخ کا ایک نیا اور نہایت اہم باب رقم کرے گی۔
طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد افغانستان میں ایک نئے سیاسی نظام کا آغاز ہوا، مگر یہ نظام بھی استحکام حاصل نہ کرسکا۔ طالبان نے ملک کے بیش تر حصے پر اپنی حکومت قائم کرلی اور اس کا نام ’’اسلامی امارت افغانستان‘‘ رکھا۔ انھوں نے اپنی تشریح کے مطابق شرعی قوانین نافذ کیے۔ عدالتوں، انتظامیہ اور سماجی نظام کو ازسرِ نو ترتیب دیا۔ خواتین کی تعلیم اور ملازمت پر سخت پابندیاں عائد کیں۔ تفریحی سرگرمیوں کو محدود کیا۔ موسیقی، سینما اور متعدد ثقافتی سرگرمیوں پر پابندی لگائی، جب کہ مردوں کے لیے بھی مخصوص سماجی اور مذہبی ضابطے نافذ کیے گئے۔
طالبان کے حامیوں کا مؤقف تھا کہ وہ ملک میں امن، بدعنوانی کے خاتمے اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے کوشاں ہیں، جب کہ ناقدین کے نزدیک اُن کی پالیسیاں انسانی حقوق، شہری آزادیوں اور جدید ریاستی تقاضوں سے متصادم تھیں۔ طالبان کی حکومت کو بین الاقوامی سطح پر محدود سفارتی پذیرائی ملی۔ صرف چند ممالک نے اسے باضابطہ تسلیم کیا، جب کہ دنیا کے بیش تر ممالک نے انتظار اور احتیاط کی پالیسی اختیار کی۔ افغانستان پہلے ہی کئی دہائیوں کی جنگ سے تباہ حال تھا، اس لیے معیشت کم زور، بنیادی ڈھانچا برباد اور لاکھوں شہری غربت اور بے گھری کا شکار تھے۔
اسی عرصے میں اسامہ بن لادن دوبارہ افغانستان آئے۔ سوویت جنگ کے زمانے میں وہ افغان مزاحمت کے لیے مالی اور تنظیمی معاونت سے وابستہ رہے تھے، لیکن بعد میں انہوں نے ’’القاعدہ‘‘ کو ایک بین الاقوامی شدت پسند تنظیم کی شکل دی۔ طالبان نے اُنھیں افغانستان میں رہنے کی اجازت دی، جس کے باعث افغانستان پر عالمی دباو میں اضافہ ہوا۔ طالبان کا مؤقف تھا کہ مہمان کی حفاظت، افغان روایات اور اُن کی پالیسی کا حصہ ہے، جب کہ امریکہ اور دیگر ممالک مسلسل مطالبہ کرتے رہے کہ اسامہ بن لادن کو اُن کے حوالے کیا جائے۔
7 اگست 1998 کو کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر بم حملے ہوئے، جن کا الزام القاعدہ پر عائد کیا گیا۔ اس کے جواب میں امریکہ نے افغانستان میں القاعدہ کے مبینہ ٹھکانوں پر میزائل حملے کیے، مگر اسامہ بن لادن محفوظ رہے۔ اس واقعے کے بعد افغانستان اور امریکہ کے تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے۔
9 ستمبر 2001 کو طالبان کے سب سے بڑے مخالف فوجی راہ نما احمد شاہ مسعود ایک خودکش حملے میں مارے گئے۔ صرف دو دن بعد، 11 ستمبر 2001 کو امریکہ میں ایسے حملے ہوئے، جنھوں نے پوری دنیا کی سیاست بدل دی۔ 11 ستمبر کے حملوں میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی حکومت نے اُن حملوں کی ذمے داری القاعدہ پر عائد کی اور اسامہ بن لادن کی حوالگی کا مطالبہ کیا۔ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد اکتوبر 2001 میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان میں فوجی کارروائی شروع کر دی۔
طالبان کی حکومت چند ہی ہفتوں میں کابل سمیت بڑے شہروں سے بے دخل ہوگئی۔ شمالی اتحاد نے امریکی فضائی مدد کے ساتھ کئی علاقوں پر دوبارہ قبضہ کرلیا۔ طالبان قیادت دیہی علاقوں اور سرحدی خطوں کی طرف منتقل ہوگئی، مگر جنگ ختم نہ ہوئی۔ اس کے بعد تقریباً 20 برس تک افغانستان میں ایک نئی جنگ جاری رہی، جس میں طالبان دوبارہ ایک بڑی مزاحمتی قوت کے طور پر ابھرے۔ بالآخر 2021 میں امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد طالبان ایک بار پھر کابل میں اقتدار میں آگئے۔ یوں افغانستان کی تاریخ نے ایک غیر معمولی دائرہ مکمل کیا۔
اگر اب پوری داستان پر نظر ڈالی جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ افغانستان کی جدید تاریخ میں ’’خلق‘‘ اور ’’پرچم‘‘ کی جماعتوں نے ایک فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ 1965 میں قائم ہونے والی "People’s Democratic Party of Afghanistan” نے ایک ایسے معاشرے میں سوشلسٹ انقلاب لانے کی کوشش کی، جو قبائلی روایات، مذہبی شناخت اور مقامی سماجی ڈھانچوں سے گہرا تعلق رکھتا تھا۔ پارٹی کے اندر ’’خلق‘‘ اور ’’پرچم‘‘ کی تقسیم نے ابتدا ہی سے اس کی سیاسی قوت کو کم زور کیا۔ ثور انقلاب کے بعد اقتدار تو حاصل ہوگیا، مگر داخلی اختلافات، جلد بازی میں نافذ کی جانے والی اصلاحات، سخت گیر ریاستی اقدامات اور عوامی حمایت کی محدود بنیاد نے حکومت کو کم زور کر دیا۔
خلق دھڑے کے راہ نماؤں نور محمد ترکئی اور حفیظ اللہ امین کے درمیان اقتدار کی کش مہ کش نے انقلاب کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔ بعد میں پرچم دھڑے کے ببرک کارمل اور پھر ڈاکٹر نجیب اللہ نے نسبتاً مفاہمت کی پالیسی اختیار کرنے کی کوشش کی، لیکن اُس وقت تک حالات بہت آگے بڑھ چکے تھے۔
یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ کمیونسٹ دور میں صرف منفی تبدیلیاں آئیں۔ اسی دور میں خواندگی کی مہمات، خواتین کی تعلیم، ریاستی اداروں کی توسیع، بنیادی صحت کے بعض منصوبے اور جدید ریاستی ڈھانچے کی تعمیر کی کوششیں بھی کی گئیں۔ دوسری طرف یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ انھی برسوں میں سخت سیاسی جبر، وسیع گرفتاریاں، جبری گم شدگیاں، دیہی بغاوتیں اور ایک ایسی جنگ شروع ہوئی، جس نے لاکھوں افغانوں کی زندگیاں بدل دیں۔ ایک غیر جانب دار مؤرخ انھی دونوں پہلوؤں کو ساتھ رکھ کر تاریخ کا مطالعہ کرتا ہے۔
اسی طرح ’’مجاہدین‘‘ کی جد و جہد نے سوویت فوجی مداخلت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا، لیکن سوویت انخلا کے بعد باہمی اختلافات اور اقتدار کی کش مہ کش نے افغانستان کو ایک نئی خانہ جنگی میں دھکیل دیا۔ طالبان نے اسی افراتفری کے ماحول میں جنم لیا اور ابتدا میں امن کے نعرے کے باعث عوامی حمایت بھی حاصل کی، مگر ان کی حکم رانی بھی اپنے ساتھ نئے تنازعات، بین الاقوامی تنہائی اور ایک اور طویل جنگ لے کر آئی۔
افغانستان کی گذشتہ نصف صدی کی تاریخ ایک اہم سبق دیتی ہے کہ کسی بھی معاشرے میں محض نظریہ، انقلاب، مذہبی جوش، بیرونی فوجی طاقت یا اسلحہ دیرپا استحکام کی ضمانت نہیں بن سکتے۔ جب تک ریاستی ادارے مضبوط، سیاسی نظام جامع، عوامی اعتماد وسیع اور قومی مفاہمت حقیقی نہ ہو، تو فتح بھی عارضی ثابت ہوسکتی ہے۔ افغانستان کی سرزمین پر سلطنتیں آئیں، نظریات بدلے، پرچم تبدیل ہوئے، حکومتیں بنیں اور ٹوٹ گئیں، مگر سب سے زیادہ قربانی ہمیشہ افغان عوام ہی نے دی۔ کسان، مزدور، اُستاد، طالب علم، خواتین، بچے اور بے گھر خاندان اس طویل المیے کے اصل کردار تھے، جن کی زندگیاں ہر نئے انقلاب، ہر نئی جنگ اور ہر نئے اقتدار کی قیمت بنتی رہیں۔
شاید اسی لیے افغانستان کی جدید تاریخ کو صرف خلق، پرچم، مجاہدین، طالبان یا عالمی طاقتوں کی تاریخ کہنا کافی نہیں۔ یہ دراصل ایک ایسے معاشرے کی داستان ہے، جو مسلسل اپنے وجود، اپنی خودمختاری، اپنی شناخت اور اپنے مستقبل کی تلاش میں محوِ سفر رہا ہے۔ یہی تلاش آج بھی جاری ہے… اور شاید آنے والی نسلیں ہی فیصلہ کریں گی کہ اس طویل جد و جہد سے انھوں نے کیا سیکھا اور اپنے ملک کو کس سمت لے جانا ہے…!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے