ریاستِ سوات میں بونیر کا انضمام اور پاپین خیل کا کردار:۔
1926ء میں جب ریاستِ سوات کی توسیع کا فیصلہ ہوا، تو بادشاہ صاحب نے بونیر میں کچھ سرکاری اہل کار بھیجے، تاکہ وہاں چوکیاں قائم کی جائیں۔ اہلِ بونیر نے سوات سے آئے ہوئے سرکاری ملازمین کو قتل کر دیا۔ اُس وقت نجیگرام کی ایک پاپینی شخصیت، بادشاہ صاحب کے اردل میں کام کیا کرتی تھی۔ اُسی شخصیت کی سرکردگی میں بونیر ایک جرگہ بھیجا گیا۔ جرگے نے اہلِ بونیر سے مطالبہ کیا کہ وہ پُرامن طریقے سے ریاستِ سوات میں شامل ہو جائیں اور مقتولین کی میتیں واپس کر دیں۔
اہلِ بونیر نے جرگہ مسترد کر دیا اور جرگے کے ذریعے بادشاہ صاحب کو پیغام بھیجا کہ اہلِ بونیر کل دوپہر کا کھانا سیدو میں کھائیں گے، یعنی سوات پر حملہ کیا جائے گا۔ اُنھوں نے میتیں واپس کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ اس پر بادشاہ صاحب نے ایک لشکر تشکیل دیا، جس میں نجیگرام کے پاپینی میاں گان اور اباخیل و موسیٰ خیل کے دیگر قبائل بھی شریک تھے۔ چوں کہ بونیر کی سرحد نجیگرام کے ساتھ ملتی تھی، اس لیے نجیگرام کے لوگوں نے لشکر کی قیادت کی۔ یک روزہ جنگ کے بعد بونیر ریاستِ سوات میں مدغم ہوگئی۔
اگر دیکھا جائے، تو ریاستِ سوات کی توسیع میں پاپینی میاں گان نے بہت سی قربانیاں دی تھیں۔ میاں گل عبدالودود کے دور میں پاپین خیل کے ساتھ مراسم اچھے تھے، بل کہ میاں گل عبدالودود، پاپین خیلوں کے حامی بھی تھے اور اُن کی عزت بھی کرتے تھے۔ کیوں کہ پاپین خیلوں نے اپنے نظریے کے تحت ریاست کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ ریاستِ سوات کو اپنی زمینیں دینے سے بھی گریز نہیں کیا تھا۔
1949ء میں جب میاں گل عبدالودود اور رسول خان مشیر صاحب کے درمیان عبدالحق جہانزیب کی تاج پوشی پر اختلاف ہوا، تو بادشاہ صاحب نے ریاست کے دیگر قبائل کو عبدالحق جہانزیب کی تاج پوشی پر آمادہ کیا۔ جب عبدالحق جہانزیب سوات کے والی بنے، تو اُن کا پاپین خیلوں کے ساتھ رویہ اچھا نہیں تھا۔ اُنھوں نے رسول خان مشیر صاحب کے خلاف بڑی سازشیں کیں، لیکن ناکام رہے۔ حتیٰ کہ لیلونئی کے پاپین خیلوں کو آپس میں لڑوا بھی۔
اسی طرح والی صاحب کبھی نجیگرام تشریف نہیں لائے۔ کیوں کہ نجیگرام کے کشر خیل پاپینی تین ٹولیوں میں تقسیم ہوگئے تھے۔ ایک ٹولہ والی صاحب کا اپنا اور اکلوتا ٹولہ تھا، جو اُن کے اردل میں بہ دستور کام کرتا تھا۔ باقی دو ٹولیوں میں سے ایک، راقم کے والد صاحب اور اُن کا خاندان، سرن زیب خان (مدرسے دادا) اور رسول خان مشیر صاحب کے حامی تھے۔
اُس سے پہلے بادشاہ صاحب کے دور میں ہمارا خاندان لیلونئی کے اوپل خیل پاپینی میاں گان، لالو باچا، کے ڈلہ میں شامل تھا۔ لالو باچا چوں کہ ہماری پردادی کے بھتیجے تھے، اس لیے اسی رشتہ داری کی بنا پر راقم کا خاندان لالو باچا کے ڈلہ میں شریک رہا تھا۔
اس طرح ایک ٹولہ والی صاحب کے تربوروں کا تھا، جو درگئی میں مقیم تھے اور اُن کے حامی تھے۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر والی صاحب نے کبھی اہلیانِ نجیگرام کو سرکار میں ایسا عہدہ نہیں دیا، جس سے اُنھیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔
اور انھی وجوہات کی بنا پر والی صاحب اور پاپینی میاں گان کے درمیان اختلافات یہاں تک پہنچ گئے تھے کہ پاپینی میاں گان نے سرن زیب خان (مدرسے دادا) کی سرکردگی میں ریاستِ سوات کے خلاف تحریک چلائی۔ بالآخر والی نے مجبور ہو کر سوات کا پاکستان میں انضمام کر دیا تھا۔
1970ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو نے نیپ کے ساتھ مفاہمت کی اور اتحاد بنایا، تو سرن زیب خان (مدرسے دادا) نے نیپ (نیشنل عوامی پارٹی) کی نمایندگی کرتے ہوئے تمام پاپین خیلوں کو متحد کیا تھا۔ مدرسے دادا اُن دنوں ولی خان کے ساتھ نجیگرام تشریف لائے تھے۔ راقم کے والد صاحب چوں کہ پیپلز پارٹی سے وابستہ تھے، لیکن اتحاد کی وجہ سے راقم کے والد صاحب نے ولی خان اور سرن زیب خان (مدرسے دادا) کے جلسے کا انتظام کیا تھا۔ اُسی الیکشن میں نیشنل عوامی پارٹی کو کام یابی حاصل ہوئی تھی۔
اکثر پاپین خیل، والی صاحب کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے تعلیم سے محروم رکھے گئے تھے… اور جنھوں نے تعلیم حاصل کی تھی، اُنھیں اعلا عہدوں سے محروم رکھا گیا تھا۔ ریاستِ سوات کے پاکستان میں انضمام کے بعد پاپین خیل نوجوانوں کو تعلیم کی سہولتیں میسر آئیں۔ اُنھیں آگے بڑھنے اور اعلا عہدوں پر فائز ہونے کے مواقع مل گئے۔
چوں کہ پاپین خیلوں کی تاریخ پر بہت سے افراد نے تحقیق کی ہے، لیکن بدقسمتی سے ایک بھی مدلل تحقیق ابھی تک شائع نہیں ہوسکی۔ پاپین خیلوں میں بہت سے سلاطین، مَلَک، علما اور اکابرین گزرے ہیں۔ اُن سب کا تاریخی احاطہ زیرِ نظر تحریر میں ممکن نہیں۔
اب پاپین خیلوں کی تاریخ پر پاپینی میاں گان کے بہت سے نوجوان کام کر رہے ہیں۔ ان شاء اللہ وہ دن دور نہیں، جب ان نوجوانوں کی تاریخی جد و جہد رنگ لائے گی اور ایک مدلل تاریخی کتاب شائع ہوجائے گی۔
ویسے تو پاپین خیل ایک بڑا قبیلہ ہیں اور یہ پورے پختونخوا میں آباد ہیں۔ یہاں مَیں اپنے خاندان کے ذیلی قبائل کا ایک اجمالی شجرہ اور اُن کی سکونت کا ذکر کروں گا۔
نجیگرام کے میاں عبدالحمید دادا کے پاس ایک شجرۂ نسب موجود تھا۔ اُسی شجرے سے نجیگرام کے میاں عبدالبصیر دادا نے ایک نقل تیار کی تھی۔ چوں کہ راقم کے پاس دونوں شجرے موجود ہیں، اس لیے اُن کا باہمی تقابل بھی ممکن ہوا۔ میاں عبدالبصیر دادا نے اپنے نقل کردہ شجرے پر چند اہم یادداشتیں بھی تحریر کی ہیں۔
شجرۂ مذکور پر نقل کی تاریخ 11 جون 1951ء، بہ روز پیر، بہ مطابق 5 رمضان المبارک 1370 ہجری درج ہے۔ میاں عبدالبصیر دادا نے اس پر درجِ ذیل یادداشت لکھی ہے:
یادداشت:۔
’’راقم الحروف اُس وقت گورنمنٹ ہائی سکول کی ساتویں جماعت کا طالب علم تھا اور ہاتھیان میں اپنے چچا زاد و بہنوئی، میاں عبدالحمید دادا کے ہاں مقیم تھا۔ یہ شجرۂ نسب اُن کے پاس ایک بوسیدہ کاغذ پر موجود تھا۔ مَیں نے اُسی سے یہ شجرہ نقل کیا، والحمد للہ۔‘‘
عبدالحمید دادا کے شجرے کے علاوہ مجھے شبقدر، چارسدہ کے میاں جہاد گل ولد میاں دیدار گل سے بھی یہی شجرہ ملا۔
اسی طرح سیدو شریف، سوات کے اکبر جان میاں صاحب سے بھی ایک شجرہ ملا۔ اُس گھرانے کا کہنا تھا کہ 1971ء کے اوائل میں پاپین سے ایک پاپینی میاں اُن کے ہاں آئے تھے، جنھوں نے یہی شجرہ اُن کی ڈائری میں تحریر کیا تھا۔
مَیں نے ان تمام شجروں کا بہ غور جائزہ لیا، تو معلوم ہوا کہ بنیادی طور پر سب ایک جیسے ہیں۔
شجرۂ چارسدہ اور شجرۂ عبدالحمید دادا، نجیگرام، دونوں کے مطابق دریخان بابا کے دو بیٹے تھے: ایک محمد طاہر اور دوسرے محمد شریف۔
محمد طاہر اور محمد شریف دونوں بھائی پاپین میں مدفون ہیں۔ (جاری ہے)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










