افغانستان میں ثور انقلاب کو ابھی ڈیڑھ سال بھی مکمل نہیں ہوا تھا کہ اس کے معمار خود ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہوچکے تھے۔ جس انقلاب کو خلق پارٹی کی قیادت نے ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا تھا، وہ اب اپنے ہی راہ نماؤں کی باہمی کش مہ کش، عوامی مزاحمت اور بین الاقوامی دباو کے بوجھ تلے ڈگمگانے لگا تھا۔ کابل میں بہ ظاہر حکومت قائم تھی، لیکن اقتدار کے ایوانوں میں اعتماد ختم ہوچکا تھا، فوج میں بے چینی بڑھ رہی تھی، دیہی علاقوں میں بغاوت پھیل رہی تھی اور ماسکو میں بیٹھے سوویت راہ نما اپنے افغان اتحادیوں کے مستقبل کے بارے میں سخت پریشان تھے۔
اقتدار کے ابتدائی مہینوں میں نور محمد ترکئی اور حفیظ اللہ امین ایک دوسرے کے قریب سمجھے جاتے تھے۔ ترکئی پارٹی کے نظریاتی راہ نما تھے، جب کہ امین کو انقلاب کا منتظم اور طاقت ور عملی کردار سمجھا جاتا تھا… لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، امین کا پلڑا بھاری ہوتا گیا… یعنی فوج، انٹیلی جنس اور ریاستی انتظامیہ کا اثر بڑھنے لگا۔ بہت سے فیصلے امین کی مشاورت کے بغیر نہیں ہوتے تھے۔ بعض حلقوں میں یہ تاثر پیدا ہونے لگا کہ اصل اقتدار ترکئی کے بہ جائے امین کے پاس ہے۔
یہ صورتِ حال نہ صرف کابل، بل کہ ماسکو کے لیے بھی باعثِ تشویش تھی۔ سوویت یونین کی قیادت کو محسوس ہونے لگا تھا کہ امین کی سخت گیر پالیسیاں حکومت کو عوام سے دور کر رہی ہیں۔ افغانستان کے مختلف صوبوں میں حکومت مخالف مسلح مزاحمت بڑھ رہی تھی اور فوج کے اندر بھی بغاوت کی اطلاعات آنے لگی تھیں۔ سوویت مشیروں کی رپورٹوں میں بار بار یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اگر حالات اسی رفتار سے بگڑتے رہے، تو پورا انقلابی نظام خطرے میں پڑسکتا ہے۔
1979 کے موسمِ گرما تک افغانستان کے کئی علاقوں میں حکومت کا کنٹرول کم زور پڑنے لگا تھا۔ مذہبی راہ نما، قبائلی عمائدین اور مختلف مزاحمتی گروہ حکومت کے خلاف منظم ہو رہے تھے۔ بعض مقامات پر فوجی دستوں نے بغاوت کی، جب کہ کئی علاقوں میں سرکاری اہل کاروں پر حملے شروع ہوگئے۔ حکومت نے ان تحریکوں کو کچلنے کے لیے طاقت کا استعمال بڑھایا، مگر اس سے مزاحمت مزید شدت اختیار کرتی گئی۔
ان حالات میں ترکئی اور امین کے اختلافات کھل کر سامنے آگئے۔ ترکئی کے حامی سمجھتے تھے کہ امین حد سے زیادہ اختیارات اپنے ہاتھ میں لے رہے ہیں اور ان کی پالیسیاں انقلاب کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ دوسری طرف امین کے حامیوں کا مؤقف تھا کہ سخت اقدامات کے بغیر حکومت قائم نہیں رہ سکتی۔
ستمبر 1979 میں ترکئی ماسکو کے دورے پر گئے، جہاں اُن کی ملاقات سوویت قیادت سے ہوئی۔ مختلف تاریخی ذرائع کے مطابق سوویت راہ نماؤں نے افغانستان کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال پر شدید تشویش ظاہر کی۔ بعد کے کئی مؤرخین کا خیال ہے کہ اُسی عرصے میں امین کو اقتدار سے ہٹانے کے امکانات پر بھی بات چیت ہوئی، اگرچہ مذکورہ ملاقاتوں کی تمام تفصیلات آج بھی تاریخ کا متنازع باب ہیں۔
ماسکو سے واپسی کے بعد کابل میں طاقت کی آخری کش مہ کش شروع ہوگئی۔ ترکئی کے وفاداروں نے امین کو کم زور کرنے کی کوشش کی، مگر امین کو اس منصوبے کی اطلاع مل گئی۔ نتیجتاً حالات نے اچانک پلٹا کھایا۔ امین نے اپنے وفادار فوجی اور سکیورٹی اہل کاروں کی مدد سے اقتدار پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا۔
چند ہی دن بعد نور محمد ترکئی کو اُن کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔ اس کے بعد وہ عملاً نظر بند ہوگئے۔ بعد میں یہ خبر سامنے آئی کہ وہ وفات پاگئے۔ زیادہ تر تاریخی تحقیقات کے مطابق اُن کی موت فطری نہیں تھی، بل کہ اُنھیں قتل کیا گیا تھا، تاہم اس کی درست تفصیلات پر آج بھی اختلافات موجود ہیں۔ ترکئی، جو صرف ڈیڑھ برس پہلے انقلاب کے سب سے بڑے راہ نما بن کر ابھرے تھے، خاموشی سے تاریخ کا حصہ بن گئے۔
ترکئی کی رخصتی کے بعد حفیظ اللہ امین افغانستان کے بلاشرکتِ غیرے حکم ران بن گئے۔ انھوں نے اعلان کیا کہ انقلاب اپنی راہ پر گام زن رہے گا، مگر حقیقت یہ تھی کہ ان کی حکومت کو پہلے سے کہیں زیادہ مشکلات کا سامنا تھا۔ ملک کے بیش تر دیہی علاقوں میں مزاحمت پھیل چکی تھی، فوج کے اندر اعتماد کم زور ہو رہا تھا اور سوویت قیادت ان پر مکمل اعتماد کھو بیٹھی تھی۔
ماسکو میں یہ خدشہ بھی بڑھنے لگا کہ امین شاید سوویت یونین سے فاصلہ اختیار کرکے کسی نئی خارجہ پالیسی کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ اس بارے میں بھی مؤرخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض کے مطابق یہ خدشہ مبالغہ آمیز تھا، جب کہ بعض کا خیال ہے کہ سوویت قیادت نے واقعی امین کی وفاداری پر سوال اٹھانا شروع کر دیا تھا۔ بہ ہر حال، ایک بات واضح تھی کہ ماسکو اب امین کو افغانستان میں اپنے مفادات کے لیے قابلِ اعتماد ساتھی نہیں سمجھ رہا تھا۔
اسی دوران افغانستان میں مسلح مزاحمت تیزی سے مضبوط ہوتی گئی۔ مختلف اسلامی تنظیمیں، قبائلی گروہ اور حکومت مخالف عناصر مختلف علاقوں میں سرگرم تھے۔ اگرچہ اُس وقت تک یہ مکمل طور پر متحد نہیں تھے، لیکن ان کا مشترکہ ہدف کمیونسٹ حکومت کا خاتمہ تھا۔ افغانستان کی سرحدوں کے پار بھی اس مزاحمت کو ہم دردی اور مختلف نوعیت کی حمایت ملنے لگی، جس نے حکومت کی مشکلات میں اضافہ کیا۔
دسمبر 1979 تک سوویت قیادت اس نتیجے پر پہنچ چکی تھی کہ اگر فوری اقدام نہ کیا گیا، تو کابل میں ان کی اتحادی حکومت مکمل طور پر گرسکتی ہے۔ اُس وقت تک سوویت مشیر پہلے ہی افغانستان میں موجود تھے، مگر اب بحث اس بات پر ہو رہی تھی کہ آیا بہ راہِ راست فوجی مداخلت کی جائے یا نہیں؟ ابتدا میں سوویت قیادت کے اندر بھی اس فیصلے پر اختلاف تھا… لیکن بالآخر مداخلت کا فیصلہ کرلیا گیا۔
یہ فیصلہ نہ صرف افغانستان، بل کہ پوری دنیا کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوا۔ سرد جنگ اب صرف سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہنے والی تھی، بل کہ اس کا ایک اہم محاذ افغانستان کی سرزمین بننے جا رہا تھا۔ دسمبر 1979 کی آخری راتیں تاریخ کے ان لمحات میں شمار ہونے لگیں، جب ایک عالمی طاقت نے اپنے ہمسایہ ملک میں بہ راہِ راست فوج بھیجنے کا فیصلہ کیا۔
افغانستان کی سرحدوں کی طرف بڑھتے ہوئے سوویت ٹینکوں اور فوجی قافلوں کو شاید خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ چند ہفتوں یا چند مہینوں کے لیے نہیں، بل کہ تقریباً ایک دہائی پر محیط ایسی جنگ میں داخل ہو رہے ہیں، جو آخرِکار نہ صرف افغانستان، بل کہ خود سوویت یونین کی تاریخ پر بھی گہرے نقوش چھوڑے گی۔ (جاری ہے)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










