کسی بھی ریاست کے قیام کا مقصد صرف جغرافیائی آزادی حاصل کرنا نہیں ہوتا، بل کہ ریاست کا وجود جمہوری اور سیاسی اقدار کی روشنی میں عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے عمل میں آتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے سیاسی اور جمہوری اقدار و روایات کبھی اُس معیار پر پورا نہیں اُترے، جس پر فخر کیا جاسکے۔ پاکستان میں ہونے والے تقریباً تمام انتخابات شدید سیاسی تنازعات اور دھاندلی کے الزامات کی زد میں رہے ہیں۔ خواہ انتخابات 1977ء کے ہوں، یا 2024ء کے… کسی بھی انتخاب کو مکمل طور پر شفاف قرار نہیں دیا جاسکتا۔ پاکستان کا جمہوری سفر ہمیشہ اتار چڑھاو کا شکار رہا ہے، جو آئینی جد و جہد اور فوجی مداخلتوں کی ایک طویل تاریخ پر محیط ہے۔ اس تاریخ میں اکثر جمہوریت ہی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ دوسری جانب عدالتوں کی جانب سے آمرانہ اقدامات کو آئینی جواز فراہم کرنے کے روایتی رویے نے بھی جمہوری روایات کی جڑیں کم زور کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان اور ہندوستان ایک ہی جمہوری سیاسی عمل کے نتیجے میں دنیا کے نقشے پر دو آزاد ریاستوں کی صورت میں وجود میں آئے۔ دونوں ممالک کو پارلیمانی روایات ورثے میں ملیں اور دونوں نے آزاد ریاستوں کی حیثیت سے جمہوری سفر کا آغاز کیا، جو ان کے لیے ایک طے شدہ راستہ تھا۔ ہندوستان اپنی جمہوری روایات، اقدار اور سیاسی کلچر پر کاربند رہا اور ہر پانچ سال بعد انتخابات کا انعقاد کرتا رہا، جب کہ پاکستان کو بعض ’’نادیدہ قوتوں‘‘ کی مداخلت کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث مختصر جمہوری ادوار میں بھی حقیقی جمہوریت کو پنپنے کا موقع نہ مل سکا۔
پاکستان میں نادیدہ قوتوں نے بلاواسطہ یا بالواسطہ مداخلت اور سیاست کو کنٹرول کرکے جمہوریت کو کبھی اپنے اصل راستے پر چلنے نہیں دیا، جب کہ سیاست دان بھی اس کھیل میں ان کے برابر کے شریک رہے ہیں اور آج بھی ہیں۔ یہی نادیدہ طاقتیں بعض سیاست دانوں کو اپنی نرسریوں میں پروان چڑھاتی ہیں، اسی لیے ان کے درمیان ہونے والی کش مہ کش اکثر نورا کشتی محسوس ہوتی ہے۔
پاکستانی سیاست کی ایک بڑی خرابی ’’ڈیل‘‘ (Deal) کی سیاست ہے۔ اسی لیے ہماری قومی سیاست اور جمہوریت کا پینڈولم ہمیشہ ’’ڈیلز‘‘ کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان میں سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین سمجھوتے کے بغیر اپنی بقا ناممکن سمجھتے ہیں۔ ہماری بیش تر سیاسی قیادت مرغِ باد نما اور ابن الوقتی کی عملی تصویر بن چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج طاقت کے مراکز کی پرانی فرمان بردار جماعتوں کے سیاست دان اپنے مفادات اور اقتدار کے حصول کے لیے بڑھ چڑھ کر اپنی خدمات پیش کرنے کے لیے تیار کھڑے ہیں۔ ان کی کوئی مستقل سوچ ہے، نہ کوئی واضح نظریہ… جب کہ سیاست پر اثر انداز ہونے والے اداروں کو بھی ایسے ہی سیاست دان درکار ہوتے ہیں۔
آج بھی ہماری سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین مرغِ باد نما کی طرح ہواؤں کا رُخ دیکھ کر آگے بڑھتے ہیں۔ اقتدار اور ذاتی مفادات کی خاطر وہ ایسی سیاسی جماعتوں سے بھی اتحاد کرلیتے ہیں، جن کے نظریات، سوچ اور مقاصد ایک دوسرے سے مکمل طور پر متصادم ہوتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت، پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت پر تنقید اور کردار کُشی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی تھی۔ بے نظیر بھٹو کو جَلاوطنی پر مجبور کیا گیا، اُن کے شوہر آصف علی زرداری برسوں جیل میں رہے اور اُن کی زبان بند کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی نے ولی خان کو غدارِ وطن قرار دے کر اُنھیں سزائے موت دلوانے کی کوشش کی۔
انتخابی جلسوں میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت پیپلز پارٹی کے راہ نماؤں پر ملک لوٹنے اور چوروں کے ٹولے ہونے کے الزامات لگاتی رہی، جب کہ آصف علی زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹ کر اُن کے پیٹ سے لوٹی ہوئی دولت نکالنے جیسے دعوے بھی کیے جاتے رہے۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی کی قیادت بھی مسلم لیگ (ن) پر اسی نوعیت کے الزامات عائد کرتی رہی۔ مسلم لیگ (ق)، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام (ف)، ایم کیو ایم اور دیگر سیاسی جماعتیں بھی کم و بیش انھی حالات سے دوچار رہیں۔
پھر وہ وقت بھی آیا، جب ان تمام جماعتوں کو اپنے مفادات خطرے میں دکھائی دینے لگے، تو ایک دوسرے کے جانی دشمن تمام سیاسی فریق پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت گرانے کے لیے یک جا ہوگئے۔ تحریکِ انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہی جماعتیں ’’پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ‘‘ (پی ڈی ایم) کی حکومت کے قیام میں شریک رہیں۔ اقتدار اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے آئینِ پاکستان کا حلیہ بگاڑ دیا گیا۔ قومی انتخابات آئینی تقاضوں کے مطابق مقررہ وقت پر نہ کرائے گئے۔ جن نادیدہ قوتوں کی سیاسی مداخلت پر یہ جماعتیں ہر وقت تنقید کرتی رہی تھیں، انھی کی سرپرستی میں 2024ء کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اقتدار میں آئیں، جب کہ دیگر حمایتی جماعتوں کو اُن کی سیاسی حیثیت کے مطابق حکومت میں حصہ دے دیا گیا۔ دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد آئین میں مزید ایسی تبدیلیاں کی گئیں، جن سے ریاستی اداروں اور آئین و قانون کو اپنی مرضی کے تابع بنانے کی کوشش کی گئی۔
گلگت بلتستان کے انتخابات میں دونوں بڑی سیاسی جماعتیں بہ ظاہر ایک دوسرے پر شدید تنقید کرتی رہیں، لیکن جب حکومت سازی کا مرحلہ آیا، تو مخالفت باقی رہی، نہ نظریاتی اختلاف رہا اور نہ سیاسی سوچ کا فرق ہی رہا۔ دونوں نے بہ آسانی مل کر حکومت تشکیل دے دی۔
آزاد کشمیر کے انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ (ن) پر دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے نتائج مسترد کر دیے، جب کہ جواباً وزیر اعلا پنجاب مریم نواز نے بلاول بھٹو زرداری کو آئینہ دیکھنے کا مشورہ دیا۔ دونوں جماعتوں کے دوسرے درجے کے قائدین پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات دے کر ایک دوسرے کی خوب کردار کُشی کر رہے ہیں، لیکن جب کشمیر میں حکومت سازی کا مرحلہ آئے گا، تو بعید نہیں کہ دونوں ایک مرتبہ پھر بیٹھ کر مفاہمت کرلیں۔
ہماری سیاسی جماعتیں درحقیقت جمہوریت کی نہیں، بل کہ مجبوریت کی ساتھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت پر مجبوریت کے سائے روز بہ روز گہرے ہوتے جا رہے ہیں… اور اگر اس سیاسی بیماری کا بروقت علاج نہ کیا گیا، تو اس کا انجام یقیناً جمہوریت کی موت ہی ہوگا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










