سوشل میڈیا پر پختون کی نئی شناخت: موقع یا المیہ؟

Blogger Noor Muhammad Kanju

پختونوں کو ہمیشہ سے یہ شکایت رہی ہے کہ پاکستان کا مین اسٹریم میڈیا اُن کی درست نمایندگی نہیں کرتا۔ کبھی اُنھیں دہشت گردی کے استعارے کے طور پر پیش کیا گیا، کبھی جاہل، بے وقوف اور غیر مہذب کرداروں میں قید کر دیا گیا، جب کہ ڈراموں اور فلموں میں اکثر اُن کا کردار چوکیدار، گارڈ یا ایسے شخص کا رہا، جو صرف مزاح کا ذریعہ بن سکے۔ یہ رویہ نہ صرف لاکھوں پختونوں کی توہین تھا، بل کہ ایک عظیم تہذیب، تاریخ اور ثقافت کو چند دقیانوسی تصورات تک محدود کرنے کی کوشش بھی تھی۔ اسی لیے پختون دانش ور، ادیب، صحافی اور نوجوان برسوں سے اس غلط پروفائلنگ کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں۔
پھر وقت نے کروٹ لی۔ انٹرنیٹ عام ہوا، سوشل میڈیا وجود میں آیا اور بالخصوص ٹک ٹاک، یوٹیوب اور فیس بک نے ہر شخص کو یہ اختیار دے دیا کہ وہ خود اپنی شناخت دنیا کے سامنے پیش کرے۔ اب کسی ٹی وی چینل، فلم ساز یا پروڈیوسر کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی۔ ہر نوجوان اپنے موبائل فون کے ذریعے لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتا تھا۔ یہ ایک تاریخی موقع تھا کہ پختون اپنی مہمان نوازی، اپنی شایستگی، اپنی علمی روایت، اپنی شاعری، اپنی موسیقی، اپنے فنون، اپنی ثقافت اور اپنی تہذیبی اقدار کو دنیا کے سامنے پیش کرتے اور برسوں سے قائم منفی تاثر کو مثبت شناخت میں بدل دیتے۔
بدقسمتی سے اس سنہری موقع سے ہر کسی نے مثبت فائدہ نہیں اٹھایا۔ سوشل میڈیا کی دنیا میں جلد شہرت حاصل کرنے کی دوڑ نے بہت سے لوگوں کو آسان راستہ دکھایا۔ اُنھیں معلوم ہوا کہ علم سے زیادہ شور بکتا ہے، کردار سے زیادہ تنازع وائرل ہوتا ہے اور تہذیب سے زیادہ بدزبانی پر ’’ویوز‘‘ آتے ہیں۔ چناں چہ ایسے ٹک ٹاکرز سامنے آنے لگے، جن کی پہچان کسی ہنر سے تھی، نہ کسی علم سے اور نہ کسی سماجی خدمت سے، بل کہ گالم گلوچ، ذاتی کردار کُشی، ایک دوسرے کی تضحیک، غیر اخلاقی لائیوز اور روزانہ کے تنازعات سے تھی۔ افسوس یہ ہے کہ ’’الگورتھم‘‘ (Algorithm) بھی اکثر اسی مواد کو زیادہ لوگوں تک پہنچاتا ہے، جس میں شور، لڑائی اور اشتعال زیادہ ہو۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا کے مختلف حصوں میں بیٹھا ہوا ناظر، جو شاید پہلی مرتبہ کسی پختون کو سوشل میڈیا پر دیکھ رہا ہو، وہ انھی چند شور مچانے والے کرداروں کو پوری قوم کا نمایندہ سمجھنے لگتا ہے۔ حال آں کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ پختون معاشرے میں ہزاروں اساتذہ، ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، شاعر، ادیب، کھلاڑی، محقق، کاروباری شخصیات اور سماجی کارکن موجود ہیں، جو خاموشی سے اپنے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں، مگر چوں کہ وہ گالم گلوچ نہیں کرتے، اس لیے وہ وائرل بھی نہیں ہوتے۔
یہ مسئلہ صرف پختون معاشرے کا نہیں، بل کہ پورے سوشل میڈیا کلچر کا ہے… مگر پختون معاشرہ اس لیے زیادہ متاثر ہوتا ہے کہ وہ پہلے ہی منفی پروفائلنگ کا شکوہ کرتا آیا ہے۔ جب ہم خود اپنے ہاتھوں سے اپنی تہذیب کا مذاق بنائیں، اپنی زبان کو گالی میں بدل دیں اور اپنی شناخت کو تماشا بنا دیں، تو پھر دوسروں سے شکوہ کرنے کا اخلاقی جواز بھی کم زور پڑ جاتا ہے۔
یہاں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ کیا قصور صرف اُن ٹک ٹاکرز کا ہے…؟ شاید نہیں! اس میں ہم سب برابر کے شریک ہیں۔ ہم ہی وہ لوگ ہیں، جو تعلیمی ویڈیو کو چند سو ’’ویوز‘‘ دیتے ہیں، مگر دو افراد کی لڑائی لاکھوں مرتبہ دیکھتے ہیں۔
ہم ہی وہ لوگ ہیں جو ایک استاد، شاعر یا محقق کی گفت گو کو نظر انداز کر دیتے ہیں، لیکن گالی دینے والوں کو راتوں رات مشہور بنا دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا کا اُصول بہت سادہ ہے؛ وہی مواد زیادہ پھیلتا ہے، جسے زیادہ لوگ دیکھتے اور شیئر کرتے ہیں۔ اگر ناظرین اپنی ترجیحات بدل دیں، تو تخلیق کار بھی اپنا رویہ بدلنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ٹک ٹاک یا کسی دوسرے پلیٹ فارم کو مکمل طور پر برا نہیں کہا جاسکتا۔ اسی پلیٹ فارم نے بے شمار نوجوانوں کو روزگار دیا، چھوٹے کاروباروں کو ترقی دی، فن کاروں کو پہچان دی، اساتذہ کو طلبہ تک پہنچایا اور کئی باصلاحیت افراد کو عالمی سطح پر متعارف کرایا۔ مسئلہ پلیٹ فارم نہیں، بل کہ اس کا استعمال ہے۔ ایک ہی موبائل فون سے کوئی قرآن کی تعلیم دیتا ہے، کوئی سائنس پڑھاتا ہے، کوئی شاعری سناتا ہے اور کوئی صرف نفرت، گالی اور تماشا فروخت کرتا ہے۔ انتخاب ہمیشہ انسان کا ہوتا ہے۔
پختون نوجوانوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ آنے والی نسلیں اُنھیں کس نام سے یاد رکھیں گی؟ کیا وہ خوشحال خان خٹک، رحمان بابا، حمزہ شنواری اور باچا خان کی فکری روایت کو آگے بڑھائیں گے، یا چند لمحوں کی شہرت اور چند تحائف کی خاطر اپنی زبان اور اپنی ثقافت کو بازار کا تماشا بنائیں گے؟ قوموں کی عزت صرف نعروں سے نہیں، بل کہ کردار، علم اور تہذیب سے بنتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ خاندان، تعلیمی ادارے، سماجی تنظیمیں اور خود سوشل میڈیا استعمال کرنے والے نوجوان اس رجحان پر سنجیدگی سے غور کریں۔ ایسے تخلیق کاروں کی حوصلہ افزائی کی جائے جو مُثبت، علمی اور اخلاقی مواد پیش کر رہے ہیں، جب کہ گالم گلوچ، تضحیک اور نفرت پر مبنی مواد کو نظر انداز کیا جائے۔ جب معاشرہ اپنی پسند بدل لے گا، تو سوشل میڈیا کا منظرنامہ بھی خود بہ خود بدلنا شروع ہو جائے گا۔
آخر میں سوال صرف یہ نہیں کہ ٹک ٹاک پر کون کیا کر رہا ہے… بل کہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم دنیا کو اپنی کون سی تصویر دکھانا چاہتے ہیں؟ اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا پختون کو علم، کردار، شایستگی، مہمان نوازی اور غیرت کی علامت سمجھے، تو پھر ہمیں اپنے اعمال سے بھی یہی ثابت کرنا ہوگا۔ بہ صورتِ دیگر تاریخ یہ ضرور لکھے گی کہ جس ٹیکنالوجی نے ہمیں اپنی اصل شناخت دنیا کے سامنے پیش کرنے کا بہترین موقع دیا تھا، ہم نے اُسی کو اپنی شناخت مسخ کرنے کا ذریعہ بنالیا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے