اصل نقصان کس کا…؟

Blogger Ghufran Tajik

’’جب آپ اپنے تعلقات کو بچانے کے لیے اپنے جذبات کو دباتے ہیں، تو آپ اپنے آپ سے خیانت کر رہے ہوتے ہیں۔‘‘
یہ جملہ بہ ظاہر ذاتی تعلقات کے بارے میں محسوس ہوتا ہے، مگر اس کا دائرہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ سیاست، سماجی قیادت، تنظیمی وابستگی اور عوامی نمایندگی میں بھی یہی اصول پوری شدت سے لاگو ہوتا ہے۔ اگر ’’تعلق‘‘ سے مراد کسی سیاسی جماعت، گروہ، تنظیم یا بااثر شخصیت سے وابستگی ہو، اور ’’اپنے آپ‘‘ سے مراد اپنا علاقہ، اپنے لوگ، اُن کے وسائل، حقوق، محصولات، مسائل اور اُن کا مستقبل ہو، تو پھر خاموشی محض ایک ذاتی انتخاب نہیں رہتی، بل کہ اجتماعی ذمے داری سے انحراف بن جاتی ہے۔
ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی سیاسی جماعت، نظریے یا تنظیم سے وابستہ ہو۔ یہ جمہوری معاشرے کا حسن بھی ہے… لیکن اصل امتحان اُس وقت شروع ہوتا ہے، جب جماعتی مفاد اور عوامی مفاد ایک دوسرے کے سامنے آ کھڑے ہوں۔ ایسے موقع پر سوال یہ نہیں ہوتا کہ آپ کس جماعت سے تعلق رکھتے ہیں، بل کہ سوال یہ ہوتا ہے کہ آپ کی پہلی وفاداری کس کے ساتھ ہے؟
اگر کوئی نمایندہ یا بااثر شخصیت صرف اس خوف سے اپنے علاقے کے مسائل پر خاموش رہے کہ کہیں جماعت ناراض نہ ہو، عہدہ متاثر نہ ہو یا ذاتی تعلقات خراب نہ ہو جائیں، تو اس خاموشی کی قیمت پورا علاقہ ادا کرتا ہے۔ تاریخ بھی ایسے کرداروں کو وفادار نہیں، بل کہ خاموش تماشائی کے طور پر یاد رکھتی ہے۔
یہ تصور کہ خاموش رہنا غیر جانب داری کی علامت ہے، حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ خاموشی بھی ایک واضح فیصلہ ہوتی ہے۔
جب کسی علاقے کے وسائل بے دریغ استعمال ہو رہے ہوں، محصولات کی منصفانہ تقسیم نہیں ہو رہی ہو، ترقیاتی منصوبے مسلسل نظر انداز کیے جا رہے ہوں، نوجوان روزگار سے محروم ہوں، تعلیم اور صحت کا نظام کم زور ہو اور بنیادی سہولیات ناپید ہوں، تو ایسے حالات میں خاموش رہنا دراصل اُس ناانصافی کو قبول کرنے کے مترادف ہے۔
قدرتی وسائل کسی بھی علاقے کی امانت ہوتے ہیں۔ جنگلات، معدنیات، پانی، سیاحت، پن بجلی اور دیگر ذرائع آمدن سے حاصل ہونے والے فوائد میں مقامی آبادی کا جائز حصہ تسلیم کرنا انصاف کا تقاضا ہے۔
اسی طرح اگر کوئی علاقہ قومی خزانے میں نمایاں محصولات جمع کراتا ہے، تو وہاں سڑکیں، ہسپتال، تعلیمی ادارے، روزگار کے مواقع، بنیادی ڈھانچا اور دیگر سہولیات بھی اسی تناسب سے فراہم ہونی چاہییں۔ یہ مطالبہ کسی کے خلاف نہیں، بل کہ آئین، مُساوات اور ریاستی ذمے داری کے مطابق ہے۔
ذمے دار قیادت صرف مسائل کی نشان دہی نہیں کرتی، بل کہ اُن کے قابلِ عمل اور دیرپا حل بھی پیش کرتی ہے۔ اس سلسلے میں چند بنیادی اُصول یہ ہیں:
وسائل کی منصفانہ اور شفاف تقسیم۔
مقامی آبادی کو منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی میں مؤثر نمایندگی دینا۔
محصولات کے استعمال میں مکمل شفافیت اور عوامی نگرانی۔
ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات کا تعین مقامی ضروریات کے مطابق کرنا۔
تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور روزگار میں مستقل سرمایہ کاری۔
منتخب نمایندوں، انتظامیہ اور عوام کے درمیان مؤثر رابطہ اور جواب دہی کا نظام قائم کرنا۔
سیاسی یا سماجی تعلقات اُس وقت تک قابلِ احترام ہوتے ہیں، جب تک وہ عوامی مفاد سے متصادم نہ ہوں۔ اگر تعلقات برقرار رکھنے کی قیمت اپنے علاقے کے حقوق سے دست برداری ہو، تو یہ وفاداری نہیں، بل کہ ذمے داری سے فرار ہے۔
ایک مضبوط کارکن یا راہ نما وہ نہیں، جو ہر فیصلے پر خاموش رہے، بل کہ وہ ہے، جو اپنی جماعت کے اندر رہتے ہوئے بھی دلیل، احترام اور جرات کے ساتھ عوامی مفاد کی نمایندگی کرے۔ جمہوری معاشروں میں اختلافِ رائے کم زوری نہیں، بل کہ اصلاح کا بنیادی ذریعہ ہوتا ہے۔ اپنے علاقے کے وسائل، حقوق، محصولات اور مسائل پر آواز اٹھانا بغاوت نہیں، بل کہ ایک باشعور شہری اور ذمے دار نمایندے کا آئینی و اخلاقی فرض ہے۔
جماعتیں اور حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، مگر علاقے اور عوام ہمیشہ باقی رہتے ہیں۔ اس لیے مستقل وفاداری افراد یا جماعتوں سے نہیں، بل کہ اپنے لوگوں اور اُن کے اجتماعی مفاد سے ہونی چاہیے۔ ہر شخص، خصوصاً عوامی نمایندوں، سماجی کارکنوں اور سیاسی وابستگان کو خود سے ایک سوال ضرور پوچھنا چاہیے: ’’کیا میری خاموشی میرے تعلقات کو تو محفوظ رکھ رہی ہے، لیکن میرے علاقے کے مفادات، وسائل، حقوق اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو نقصان پہنچا رہی ہے؟‘‘ اگر جواب ’’ہاں‘‘ میں ہو، تو پھر خاموشی پر نظرِ ثانی ناگزیر ہے۔
تعلقات اپنی جگہ اہم ہیں، مگر عوام کا اعتماد، اپنے علاقے کے حقوق، وسائل، محصولات اور آنے والی نسلوں کا مستقبل ان سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ تاریخ ہمیشہ انھی لوگوں کو عزت دیتی ہے، جو مشکل وقت میں حق، انصاف اور عوامی مفاد کے لیے آواز بلند کرتے ہیں، نہ کہ انھیں، جو وقتی تعلقات بچانے کی خاطر مستقل قومی اور علاقائی مفادات کو قربان کر دیتے ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے