سوات و قبائلی اضلاع، پس ماندگی کی سزا؟

Blogger Noor Muhammad Kanju

آئینی تاریخ کے جھروکوں میں جھانکیں, تو معلوم ہوتا ہے کہ سنہ 1947 سے لے کر 2018 تک، سابقہ فاٹا اور پاٹا کے علاقوں کو مملکتِ پاکستان کے دیگر حصوں کی نسبت ایک منفرد اور الگ آئینی حیثیت حاصل تھی۔ 1973 کے آئین کے تحت ان علاقوں کو ٹیکسوں کے نظام سے استثنا دیا گیا تھا، جس کے باعث سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 اور انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کا اطلاق یہاں نہیں ہوتا تھا۔ اس رعایت کا بنیادی مقصد ان جغرافیائی طور پر کٹے ہوئے علاقوں کو معاشی تحفظ فراہم کرنا تھا, جو دہائیوں سے شدید محرومیوں کا شکار چلے آ رہے تھے۔
یہ علاقے طویل عرصے تک دہشت گردی، شورش اور طالبانائزیشن کی خوف ناک آگ میں جلتے رہے، جس نے یہاں کی مقامی معیشت، بنیادی انفراسٹرکچر اور روزگار کے ذرائع کو یک سر تباہ کر کے رکھ دیا۔ رہی سہی کسر قدرت کے بے رحم تھپیڑوں نے پوری کر دی؛ پہلے 2005 کے تباہ کن زلزلے نے بستیوں کی بستیاں ملیا میٹ کر دیں اور پھر 2010 کے ہول ناک سیلاب نے رہی سہی کسر نکالتے ہوئے پورے خطے کو معاشی طور پر دہائیوں پیچھے دھکیل دیا۔ ان پے در پے قدرتی اور انسانی المیوں کے باعث ان پس ماندہ اور دور افتادہ سرحدی علاقوں کو معاشی طور پر مستحکم کرنا اور وہاں کے جفا کش باسیوں کے زخموں پر مرہم رکھنا ریاست کی اولین ذمے داری تھی، تاکہ انھیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا موقع مل سکے۔
مگر وقت نے ایک نیا موڑ لیا اور سنہ 2018 میں 25ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ان علاقوں کا دیرینہ آئینی استثنا ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا گیا۔ اس ترمیم کے نتیجے میں جہاں ان اضلاع کو خیبر پختونخوا میں ضم کرکے یک ساں حقوق کی نوید سنائی گئی، وہاں وفاقی قوانین اور ٹیکسوں کے بھاری نظام کو بھی ان علاقوں تک توسیع دے دی گئی۔ تاہم، اس اچانک تبدیلی کے معاشی جھٹکے سے مقامی آبادی کو بچانے کے لیے حکومت نے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت ان علاقوں کو 30 جون 2025 تک سیلز ٹیکس سے عارضی ریلیف فراہم کیا۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ گذشتہ برس کے فنانس بل 2025 میں اس استثنا میں کوئی توسیع نہیں کی گئی، اور اس سے بھی بڑھ کر لمحۂ فکریہ یہ رہا کہ عوام کے منتخب کردہ نمایندوں، قومی اسمبلی کے ارکان اور سینیٹروں نے اس اہم ترین موڑ پر پارلیمان میں کوئی مؤثر آواز نہیں اٹھائی، جس کا خمیازہ آج وہاں کی معیشت بھگت رہی ہے۔
اب کہانی کا دوسرا اور زیادہ دردناک رُخ موجودہ فنانس بل 2026 کے ذریعے سامنے آیا ہے۔ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت ان اضلاع کو 2018 سے لے کر 30 جون 2026 تک انکم ٹیکس اور ’’وِدہولڈنگ ٹیکس‘‘ سے جو قانونی تحفظ ملا ہوا تھا، وہ بھی ختم ہوچکا ہے۔ فنانس بل 2026 میں اس استثنا کو برقرار رکھنے کی کوئی زحمت نہیں کی گئی، جس کے نتیجے میں رواں ماہ یکم جولائی 2026 سے سابقہ فاٹا اور پاٹا میں انکم ٹیکس اور ہر قسم کے وِدہولڈنگ ٹیکس کا باقاعدہ نفاذ ہوچکا ہے۔ اس فیصلے نے پس ماندگی کی دلدل میں پھنسے ان علاقوں پر معاشی بوجھ کا ایک نیا پہاڑ توڑ دیا ہے۔
نئے قانون کے مطابق، اب ہر وہ فرد جس کی سالانہ آمدنی چھے لاکھ روپے سے تجاوز کرے گی، وہ ٹیکس کے شکنجے میں آئے گا۔ تن خواہ دار طبقہ ہو یا دکان مکان کا کرایہ وصول کرنے والا مالک، جائیداد کی خرید و فروخت ہو، یا کوئی چھوٹا بڑا کاروبار، ٹھیکے ہوں یا اشیا کی درآمدات، سرمایہ جاتی منافع ہو یا روزمرہ کی کوئی اور آمدن، اب ہر چیز پر وِدہولڈنگ ٹیکس کی چھریاں چلیں گی۔ یہ صورتِ حال محض ایک نیا ٹیکس نافذ کرنے تک محدود نہیں، بل کہ یہ ان پیچیدگیوں کا آغاز ہے، جو عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر ہیں۔ کاروباری طبقہ، ملازمین اور عام عوام اب نہ صرف انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے دفتری گورکھ دھندوں اور وکیلوں کی فیسوں کے بوجھ تلے دبیں گے، بل کہ ان بھاری ٹیکسوں کے بہ راہِ راست نتیجے میں مہنگائی کا ایک ایسا طوفان اُٹھے گا، جو غریب کا چولھا ٹھنڈا کر دے گا۔
ان سنگین حالات میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان مظلوم علاقوں کے باسی خاموشی سے اس معاشی جبر کو تسلیم کرلیں؟ وقت کا تقاضا ہے کہ سابقہ فاٹا اور پاٹا کے تمام طبقات یک جا ہو جائیں۔ طلبہ، اساتذہ، دانش ور، معالج، انجینئر، نرس، وکلا، سول سوسائٹی کے نمایندے، تاجر، دکان دار، صنعت کار اور تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنان اپنے فکری اور نظریاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ایک پیج پر آئیں۔ یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں، بل کہ پُرامن، آئینی اور جمہوری طریقے سے اپنی آواز بلند کرنے کا ہے۔ ہڑتالیں، احتجاج اور منظم تحاریک کے ذریعے حکومتِ وقت تک یہ پیغام پہنچایا جائے کہ ان پس ماندہ اضلاع میں انکم ٹیکس کے استثنا میں فوری طور پر توسیع کی جائے اور سیلز ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ فی الفور واپس لیا جائے۔ جب تک عوام خود اپنے حقوق کے لیے کھڑے نہیں ہوں گے، اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکم ران اُن کی محرومیوں کا تدارک کبھی نہیں کریں گے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے