افراسیاب خٹک کہتے ہیں کہ تاریخ گاڑی کے ’’سائڈ مرر‘‘ (Side Mirror) جیسی ہوتی ہے۔ اس سے آپ دیکھتے پیچھے ہیں، لیکن سفر آگے کی جانب ہوتا ہے۔
آج کل ایک گانا مشہور ہوا ہے: ’’زہ بچے د احمد شاہ او ابدالی!‘‘ احمد شاہ ابدالی افغان جنگ جو تھا، جس کی یلغار اور حملوں کی وجہ سے وہ افغانستان میں ہیرو مانا جاتا ہے۔ احمد شاہ ابدالی یا درانی کا شجرہ آگے ہوتا ہوا شاہ شجاع تک آتا ہے، جس کو تاریخ محض ایک کٹھ پتلی کے طور پر یاد رکھتی ہے۔ اب اگر ہم واقعی اپنا نسب احمد شاہ سے جوڑیں گے، تو بیچ میں شاہ شجاع بھی آئے گا… یا پھر ہم پشتون قبیلوں کی آپس میں ہونے والی جنگوں سے واقف نہیں۔ تاریخ تو یہی بتاتی ہے کہ دوست محمد کے بارکزئ اور شاہ شجاع کے درانی قبیلے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے… اور ہماری تاریخ ایسے ہی تضادات سے بھری پڑی ہے۔
کسی گانے کو تاریخی طور پر صحیح یا غلط نہیں کہا جاسکتا… لیکن ہمارے کچھ ادیب جب تاریخ کو گانے کی دھن پہ ہی بیان کریں گے، تو ہم تاریخ سے سیکھیں گے نہیں، بل کہ تاریخ کو اپنے احساسِ برتری کا ذریعہ ہی سمجھیں گے۔
ایک صاحب تو یہ تک کہتا ہے کہ پارلیمان ہمارے ’’لوئے جرگہ‘‘ سے نکلی ہے اور مشین ’’میچن‘‘ سے۔ قافیہ اور ردیف شاعری کا حصہ ہیں، تاریخ کا نہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جب رومی مشین کا لفظ ’’میچن‘‘ سے اور سینٹ، لویہ جرگہ سے نکالا جا رہا تھا، تب یہاں پشتونوں کی بولی اویستا کی فارسی تھی۔ اسی حساب سے تو ایرانیوں کو بھی یہ کہنا چاہیے کہ آپ کے الفاظ ’’فادر‘‘ اور ’’مدر‘‘ ہماری زبان کے پِدر اور مادر ہیں۔
ان دانش وروں کی باتیں سن کے یہی لگتا ہے کہ پشتو باقی زبانوں سے نہیں نکلی، بل کہ پشتو ہی سے باقی زبانیں نکلی ہیں۔ یہ احساسِ برتری ہمارے قوم پرست سیاست دانوں کا کمال ہے، جو پشتونوں کو 5 ہزار سال پرانا بتاتے ہیں۔ یہ ایک طرح کی چالاکی ہے، کیوں کہ 5 ہزار سال پہلے کون سا ہیروڈوٹس موجود تھا، جو اس بات کو کنفرم کرتا؟ لیکن اب تاریخ صرف کتابوں میں نہیں کھنڈرات کے کتبوں پر بھی درج ملتی ہے۔ اسی سر زمین پر سب سے پرانی تہذیب وادیِ ہلمند کی ہے… لیکن آرکیالوجی یہی بتاتی ہے کہ وادیِ ہلمند کی تہذیب میں پشتو تھی نہ پشتون… تو 5 ہزار سال تاریخ کا بیانیہ محض ایک افسانہ ہی ہوا۔
تاریخ کو فِکشن سے الگ کرنا تاریخ دانوں ہی کی ذمے داری ہے… لیکن نیشنلسٹ بیانیہ دنیا میں کہیں بھی ہو، وہ تاریخ کو روندھ کر ہی آگے بڑھتا ہے۔
اقبال احمد نے نیشنل ازم کے بارے میں کہا تھا You distort history by glorifying your own, and you distort history by darkening the others.
امریکہ کے تاریخ دانوں میں تھامس فلیمنگ اور رابرٹ واٹسن نے بانیانِ امریکہ کے جنسی سکینڈلز کے بارے میں لکھا، تاکہ اُن کے سیاسی کارناموں کی وجہ سے اُن کے "Cult” نہ بن سکیں۔ اس کا مقصد جارج واشنگٹن اور بینجمن فرینکلن کو عام انسان ماننا تھا نہ کہ دیوتا۔
لیکن یہاں قصہ اُلٹ ہے۔ یہاں جو بت تراشے گۓ ہیں، اُن کو ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید بڑھا چڑھا کر پیش کِیا جاتا ہے۔ بُت تراشنے میں تو ہم پہلے ہی ماہر تھے۔ بامیان کے بتوں کی انگلیوں میں سے بڑے بڑے ٹرک تک گزرتے تھے، وہ فن تو مرگیا۔ اب تخیل میں ہم سکندر کو ہتھ کڑی پہنا کر پشتون جرگے کے سامنے پیش کرتے ہیں اور وہاں سے وہ اپنی ماں کو خط بھیجتا ہے کہ مَیں شیر کے جبڑے سے کیسے آزاد ہوں گا؟
یہی نہیں ہم خالد بن ولید کے ساتھ بھی اپنا نسب جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیوں کہ وہ بہادر تھا۔ غزنی اور غوری جیسے تُرکوں کو بھی پشتون ٹھہراتے ہیں۔ جیسے یہ شعر ملاحظہ ہو:
خالد او ابدالی غوندی تیر شوی ستا نیکونہ
یہ تو رہیں عام غلط فہمیاں… ڈاکٹر سلطانِ روم صاحب کی کتاب ’’پشتون تاریخ لیکنہ‘‘ میں وہ عام مغالطے بھی شامل ہیں، جن پر ہمارا پڑھا لکھا طبقہ ابھی تک یقین کرتا ہے۔ جیسے جندول کا عمرا خان (افغان نیپولین)۔ جندول کے عمرا خان کو یہ خطاب وِنسٹن چرچل نے اپنی کتاب ’’ملاکنڈ فیلڈ فورس‘‘ میں دِیا تھا۔ چرچل کو خطابات دینے کا بہت شوق تھا۔ وہ تو گاندھی کو بھی ’’ننگا فقیر‘‘ کہتا تھا۔ مَیں بہ ذاتِ خود اب تک یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ آخر عمرا خان کو ’’افغان نپولین‘‘ کا خطاب دِیا کیوں گیا تھا؟ افغانستان میں پناہ لینا، وائسراۓ سے ملاقات کی خواہش اور کمشنر پشاور کو دھڑا دھڑ خطوط لکھنے کا عمل عمرا خان کے اپنے کردار پر سوالات اُٹھاتا ہے۔ ایسے میں نپولین سے مماثلت کی کیا تُک بنتی ہے؟
لیکن خیر ہے، جہاں اتنے سارے راۓ بہادر، خان بہادر بنے ہوئے ہیں، وہاں عمرا خان کو نپولین بنانے پر زیادہ تشویش نہیں ہونی چاہیے۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ سبھاش چندر بوس، انگریزوں کی نظر میں ’’وار کریمنل‘‘ اور عمرا خان ’’نپولین‘‘۔
یہی نہیں، خوشحال خان خٹک کو بھی "Warrior Poet” کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے… جب کہ اُن کے اپنے شعروں میں پختونوں کے خلاف منافرت اور مغلوں کی وفاداری کے واضح ثبوت موجود ہیں۔ جیسے کہ
لکہ زۂ وُم پہ راستئ پہ درستئ
د مغل پہ خدمت نہ وُہ بل افغان
(مفہوم): کوئی اور افغان، مغلوں کا اتنا وفادار نہیں تھا، جتنا کہ مَیں تھا۔
د مغل د پارہ ما توری وھلی
پختنو بہ راتہ کڑے ڈیرے کنزلے
(مفہوم): مَیں مغلوں کے لیے لڑ رہا تھا اور پشتون مجھ پر لعنت بھیج رہے تھے۔
خوشحال خان خٹک کے محولہ بالا اشعار اُن کے اپنے ہیں۔ ڈاکٹر سلطان روم صاحب کی کتاب "Swat through the millennia” کے چیپٹر نمبر 9 میں ایسے اور واقعات اور اشعار درج ہیں، جو خوشحال خٹک کے "Warrior Poet” والے امیج کے اوپر سوالات اُٹھاتے ہیں۔
Colonial Stereotypes جیسے کے پشتون بہادر ہے، پشتون ناقابلِ شکست ہے… ایسی بیان بازی نے پشتونوں کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ ہم آج تک یہی مانتے چلے آ رہے ہیں کہ روس کو ہم نے شکست دی اور سوویت یونین کو ہم نے توڑا۔ پشتون نہیں جانتے، لیکن جماعتِ اسلامی کا امیر میاں طفیل جانتا تھا، جب اُس نے کہا: ’’ہمیں پتا بھی نہیں چلا کہ امریکہ نے ہمیں کیسے استعمال کِیا؟‘‘ عوام کو تو رہنے دیں، موجودہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی خود کہتا ہے: ’’یہ پختونخوا ہے، یہاں سے سکندر اور چنگیز روتے ہوۓ واپس گۓ ہیں۔‘‘
ہم کیوں سچ بولنے سے کتراتے ہیں کہ سکندر کے جرنیل سیلیوکس نے اس خطے پہ حکومت کی ہے۔ ہمیں یہ بھی بتانا چاہیے کہ رنجیت سنگھ کی فوج پشاور تک آئی تھی۔ پشتونوں کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ There is no such thing as Racial Purity.
تاریخ سیکھنے کے لیے ہوتی ہے۔ ہم گاڑی کے سائڈ مرر سے پیچھے دیکھ تو رہے ہیں، لیکن اُس پہ اتنا دھول ہے کہ ہمیں منظر صاف دکھائی نہیں دے رہا۔ جب جرمن قوم کو سمجھ آگئی، تو اب وہ "Heil Hitler” کہتی ہے، نہ "Sieg Heil” ہی کرتی ہے۔
ہمیں بھی خود سے سوال کرنا چاہیے کہ ہمیں آخر ہیروز بنانے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے…؟
خلیل جبران کا کہنا ہے: ’’افسوس اُس قوم پر جو کپڑا پہنتی ہے، بُنتی نہیں۔ افسوس اُس قوم پر جو بدمعاش کو ہیرو کہتی ہے۔‘‘
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










