یہ ادب ، تاریخ ،تحقیق، براڈکاسٹنگ، صحافت، فلسفے، جمہوری اقدار وغیرہ کی مجبوری ہے کہ مذہبی نظریات سے اختلاف کے باوجود قلندر مومند کو ایک خانے تک محدود نہیں کرسکتے۔ وہ اعلا شاعر بھی تھے، معتبر محقق بھی تھے، نقاد بھی تھے، صحافی بھی تھے، استاد بھی تھے اور اپنے عہد کے سماجی شعور کے نمایندگی بھی کرتے تھے۔ پشتو ادب اور تاریخ میں یہ سب رنگ مل کر قلندر مومند کو ایک دھنک میں تبدیل کرکے غیر معمولی شخصیت بناتے ہیں۔
قلندر نے اپنی پوری زندگی ادب، تحقیق، صحافت، جمہوری اقدار اور فکری آزادی کے فروغ کے لیے وقف کی۔ آج بھی جب پشتو ادب میں جدید تنقید، علمی دیانت اور فکری جرات کی بات ہوتی ہے، تو قلندر مومند کا نام احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
یکم ستمبر 1930ء کو پشاور کے علاقے بازید خیل میں پیدا ہونے والے صاحب زادہ حبیب الرحمان نے ’’قلندر‘‘ تخلص رکھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ تخلص ہی اُن کی مستقل شناخت بن گیا۔ اُن کی شخصیت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ اُنھیں پشتو ادب میں ’’روایتی اسیر‘‘ نہیں، بل کہ روایت شکن ادیب مانا جاتا ہے۔ وہ روایت کو تحقیق کی کسوٹی پر پرکھنے کے قائل تھے۔ اُنھوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد انگریزی ادب، قانون، عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی اور کئی زبانوں پر عبور حاصل کیا۔ یہی علمی وسعت بعد میں اُن کے تحقیقی کاموں کی بنیاد بنی۔
تدریس کے شعبے میں بھی قلندر نے نمایاں خدمات انجام دیں۔ اُنھوں نے نوجوان نسل کو محض کتابی علم نہیں دیا، بل کہ اُنھیں تنقیدی سوچ، سوال کرنے کی جرات اور تحقیق کی اہمیت سے بھی روشناس کرایا۔ قانون کے شعبے سے وابستگی اور تعلیمی اداروں میں خدمات نے اُنھیں معاشرے کی فکری تعمیر کا ایک اہم ستون بنا دیا… تاہم اگر اُن کو صرف استاد کہا جائے، تو یہ اُن کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ وہ ایک غیر معمولی شاعر تھے۔ اُن کی شاعری روایتی عشقیہ مضامین سے آگے بڑھ کر انسان، سماج، آزادی، قومی شناخت، جبر، استحصال اور مزاحمت کے موضوعات کا احاطہ کرتی ہے۔ اُن کے ہاں شاعری محض جذبات کا اظہار نہیں، بل کہ ایک فکری اور سماجی عمل ہے۔ اُن کا قلم معاشرے کی خامیوں کی نشان دہی کرتا ہے اور انسان کو آزادیِ فکر کا درس دیتا ہے۔
صحافت کے میدان میں بھی قلندر مومند کا کردار انتہائی اہم تھا۔ اُنھوں نے مختلف اخبارات اور رسائل سے وابستہ ہوکر عوامی مسائل کو اجاگر کیا۔ اُنھیں پشاور پریس کلب کے بانی صدر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ یہ اعزاز صرف ایک انتظامی منصب نہیں، بل کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ آزاد صحافت اور آزادیِ اظہار کے مضبوط حامی تھے۔
قلندر مومند کی سب سے نمایاں پہچان اُن کا تحقیقی کام ہے۔ پشتو ادب کے بعض مسلمہ تاریخی متون کو عقیدت کی بہ جائے تحقیق کی نظر سے دیکھا۔ اُن کی کتاب ’’پٹہ خزانہ فی المیزان‘‘ نے علمی دنیا میں ایک نئی بحث کو جنم دیا۔ اُنھوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ تاریخی اور ادبی دستاویزات کو بغیر تحقیق کے قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح اُنھوں نے "خیرالبیان” سمیت کئی کلاسیکی متون کا تنقیدی جائزہ لیا۔ قلندر کے نزدیک ادب کا احترام ضروری ہے، مگر احترام کا مطلب ’’اندھی عقیدت‘‘ نہیں ہونا چاہیے۔
اسی تحقیقی جرات نے قلندر کو تعریف اور تنقید دونوں کا مرکز بنایا۔ ایک طبقہ اُنھیں علمی دیانت کی علامت سمجھتا ہے، تو دوسرا اُن کے بعض نظریات سے اختلاف رکھتا ہے… لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اُنھوں نے پشتو ادب میں تحقیق کے معیار کو بلند کیا اور نئی نسل کو سوال اٹھانے کا حوصلہ دیا۔
مذہبی حوالے سے بھی قلندر مومند کے بارے میں بہت سی تنقیدیں کی جاتی ہیں۔ اول، اُن کا جماعتِ احمدیہ سے تعلق کا بیانیہ۔ دوم، اُن کا مذہبی حقیقت پسندی کا فلسفہ۔
پہلے میں بہ حیثیتِ مسلمان اُن سے اختلاف لازمی ہے… مگر دوسرے میں حقیقت یہ ہے کہ وہ مذہب کے مخالف نہیں تھے، بل کہ مذہب کے نام پر جمود، انتہا پسندی اور غیر تنقیدی رویوں کے ناقد تھے۔ اُن کا مؤقف تھا کہ مذہبی، تاریخی اور ادبی بیانیوں کو تحقیق کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔ اُنھوں نے کبھی مذہبی عقائد کی توہین کی وکالت نہیں کی، بل کہ علم، عقل اور تنقیدی شعور کو فروغ دینے کی بات کی۔ تاہم اُن کی بے باک طبیعت کے باعث قدامت پسند حلقوں نے اُنھیں سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا… اور یہی سلسلہ آج بھی پوری شدت سے جاری ہے۔
سیاسی طور پر قلندر مومند پشتون قوم پرست اور جمہوری تحریکوں سے وابستہ رہے۔ وہ عدم تشدد، وفاقی جمہوریت، صوبائی خودمختاری اور عوامی حقوق کے حامی تھے۔ اُنھوں نے آمریت اور مرکزی طرزِ حکم رانی پر کھل کر تنقید کی اور اپنے نظریات کی قیمت بھی ادا کی۔
قلندر مومند کی ادبی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ اُن کی نمایاں تصانیف میں ’’صباون‘‘، ’’رنڑائی‘‘، ’’گجرے‘‘، ’’دریاب‘‘ (پشتو لغت، ایک انتہائی گراں قدر کام)، ’’پٹہ خزانہ فی المیزان‘‘، ’’د خیرالبیان تنقیدی مطالعه‘‘ اور دیگر تحقیقی و تنقیدی کتب شامل ہیں۔ اُنھوں نے عالمی ادب کو بھی پشتو زبان میں متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ شکسپیئر کے شہرۂ آفاق تصانیف کو پشتو ادب میں ترجمہ کیا۔ ریڈیو اور ٹیلی وِژن پر بھی اُن کے افکار، شاعری اور ادبی گفت گو کو نمایاں جگہ دی گئی، اگرچہ اُن کی اصل شناخت کسی براڈ کاسٹر کی نہیں، بل کہ ایک ادیب، محقق اور دانش ور ہی کی رہی۔
آج قلندر مومند کے انتقال کے دو دہائیوں سے زائد عرصے بعد بھی اُن کا نام زندہ ہے۔ کیوں کہ بڑے لوگ اپنی جسمانی موجودگی سے نہیں، بل کہ اپنے افکار سے زندہ رہتے ہیں۔ اُنھوں نے پشتو ادب کو صرف خوب صورت الفاظ ہی نہیں دیے، بل کہ اسے فکری جرات، تحقیقی وقار اور سوال کرنے کا حوصلہ بھی عطا کیا۔
ہمارے معاشرے میں آج بھی اندھی تقلید، فکری تقسیم اور علمی جمود موجود ہے۔ ایسے میں قلندر مومند کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کسی بھی قوم کی ترقی کا راستہ سوال، تحقیق، مکالمے اور آزاد فکر سے ہوکر گزرتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ قلندر مومند کو ایک شاعر یا محقق کے بہ جائے ایک پورے فکری عہد کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ بہ حیثیت ایک طالب علم یا قاری، قلندر مومند کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ پشتو ادب میں دل چسپی رکھنے والے اس مردِ قلندر سے پہلو تہی نہیں کرسکتے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










