برداشت، مکالمہ اور پُرامن انتقالِ اقتدار

Blogger Muhammad Ishaq Zahid

جمہوریت کو عموماً ایک نظامِ حکومت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن اگر اس کی روح اور بنیادی فلسفے کو سمجھا جائے، تو جمہوریت دراصل اقتدار کی پُرامن منتقلی کا ایک ایسا طریقۂ کار ہے، جو معاشروں کو تصادم، خوں ریزی اور سیاسی انتقام سے بچاتا ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں اقتدار کی منتقلی کے متعدد طریقے رائج رہے ہیں۔ کہیں بادشاہت تھی، کہیں موروثی حکم رانی، کہیں طاقت کے زور پر حکومتیں قائم ہوئیں اور کہیں فوجی قوت فیصلہ کُن کردار ادا کرتی رہی… مگر انسانی معاشروں کی ارتقائی منزلوں نے یہ ثابت کیا کہ اقتدار کی منتقلی کا سب سے کم نقصان دِہ اور نسبتاً بہتر راستہ جمہوریت ہی ہے۔
جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے، حکومت بنانے یا انتخابات کرانے کا نام نہیں۔ اس کی اصل روح برداشت، مکالمہ، اختلافِ رائے کے احترام اور متنوع خیالات کو قبول کرنے میں پوشیدہ ہے۔ ایک حقیقی جمہوری معاشرے میں کسی فرد یا جماعت کو صرف اس لیے دشمن نہیں سمجھا جاتا کہ اس کی سیاسی رائے مختلف ہے۔ وہاں اختلاف کو دشمنی نہیں، بل کہ فکری تنوع سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مضبوط جمہوری روایات رکھنے والے ممالک میں سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر تنقید ضرور کرتی ہیں، لیکن قومی مفادات، آئین اور جمہوری اقدار کے احترام پر متفق رہتی ہیں۔
بدقسمتی سے پاکستان میں جمہوریت کی یہ حقیقی روح ابھی تک پوری طرح پروان نہیں چڑھ سکی۔ یہاں سیاسی اختلاف اکثر دشمنی کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ مخالف سیاسی کارکن یا راہ نما کو دلیل سے جواب دینے کے بہ جائے غدار، ملک دشمن، گم راہ یا دیگر توہین آمیز القابات سے نوازنا ایک عام سیاسی رویہ بن چکا ہے۔ سیاسی بحث میں دلیل، مکالمہ اور برداشت کے بہ جائے نفرت، الزام تراشی اور کردار کُشی کو فوقیت دی جاتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر جمہوریت برداشت کا نام ہے، تو پھر ہم نے اسے دشمنی اور تشدد کا راستہ کیوں بنالیا؟ اگر سیاست، عوامی خدمت اور قومی مسائل کے حل کا ذریعہ ہے، تو پھر سیاسی کارکن ایک دوسرے کو اپنا حریف سمجھنے کے بہ جائے دشمن کیوں سمجھتے ہیں؟
ان سوالات کے جوابات تلاش کیے بغیر ہم ایک صحت مند سیاسی کلچر تشکیل نہیں دے سکتے۔
اس صورتِ حال کی ایک بڑی وجہ ہماری سیاسی قیادت کا طرزِ عمل بھی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین جب جلسوں، پریس کانفرنسوں اور میڈیا گفت گو میں سخت، اشتعال انگیز اور غیر مہذب زبان استعمال کرتے ہیں، تو اس کے اثرات بہ راہِ راست کارکنوں پر مرتب ہوتے ہیں۔ کارکن اپنے قائدین کی زبان اور رویے ہی کو سیاسی تربیت سمجھتے ہیں۔ نتیجتاً جو الفاظ لیڈر استعمال کرتا ہے، کارکن اس سے کئی قدم آگے بڑھ کر نفرت، بدتمیزی اور بعض اوقات تشدد کا راستہ اختیار کرلیتا ہے۔
یہ ایک فطری حقیقت ہے کہ معاشروں میں نوجوان نسل اپنے سیاسی راہ نماؤں کو رول ماڈل کے طور پر دیکھتی ہے۔ اگر راہ نما تحمل، شایستگی اور دلیل کا راستہ اپنائیں گے، تو نوجوان بھی انھی اقدار کو اختیار کریں گے… لیکن اگر قیادت کا انداز الزام، اشتعال اور نفرت پر مبنی ہوگا، تو نوجوانوں کے اندر بھی یہی رویے پروان چڑھیں گے۔ اس کا نقصان صرف سیاسی جماعتوں کو نہیں، بل کہ پورے معاشرے کو اٹھانا پڑتا ہے۔
پاکستان ایک نوجوان آبادی والا ملک ہے۔ ہماری اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے اور یہی نوجوان مستقبل کی سیاست، معیشت اور ریاستی اداروں کی قیادت سنبھالیں گے۔ اگر آج انھیں نفرت، تقسیم اور تشدد کی سیاست سکھائی گئی، تو کل وہ بھی انھی رویوں کو آگے بڑھائیں گے۔ اس کے برعکس اگر انھیں اختلافِ رائے کا احترام، مکالمے کی اہمیت اور جمہوری اخلاقیات سکھائی جائیں، تو وہ ایک زیادہ مہذب اور مستحکم سیاسی کلچر کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
سیاسی قیادت کی ذمے داری صرف ووٹ حاصل کرنا یا اقتدار میں آنا نہیں ہوتی، بل کہ معاشرے کی سیاسی تربیت بھی اس کی ذمے داریوں میں شامل ہے۔ ہمارے راہ نماؤں کو اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ وہ اپنے کارکنوں اور نوجوان نسل کے لیے کس قسم کی مثال قائم کر رہے ہیں۔ کیا وہ سیاسی مخالفین کے وجود کو تسلیم کرنے اور ان کے احترام کا درس دے رہے ہیں، یا انھیں نفرت اور تصادم کی طرف دھکیل رہے ہیں؟
اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کے درمیان باقاعدہ مکالمے کی ضرورت ہے۔ اختلافات اپنی جگہ، لیکن قومی سطح پر ایک ایسا ماحول پیدا کیا جاسکتا ہے، جہاں سیاسی قائدین کم از کم جمہوری اقدار، انتخابی عمل کے احترام، تشدد کی مذمت اور اخلاقی حدود کی پاس داری پر متفق ہوں۔ دنیا کے کئی جمہوری ممالک میں سیاسی جماعتوں کے درمیان شدید اختلافات کے باوجود کچھ بنیادی اُصولوں پر اتفاق موجود ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی ایسی روایت قائم کی جاسکتی ہے۔
جمہوریت صرف اکثریت کی حکم رانی کا نام نہیں، بل کہ اقلیت اور مخالف رائے کے احترام کا بھی نام ہے۔ جس معاشرے میں اختلاف کو غداری سمجھا جائے، وہاں جمہوریت کم زور ہو جاتی ہے، جب کہ جس معاشرے میں اختلاف کو برداشت کیا جائے، وہاں جمہوریت مضبوط اور مستحکم ہوتی ہے۔
آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت سیاسی برداشت، مکالمے اور اخلاقی سیاست کی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سیاسی مخالف ہمارا دشمن نہیں، بل کہ جمہوری عمل کا ایک لازمی حصہ ہے۔ انتخابات میں کوئی جیتتا ہے اور کوئی ہارتا ہے، لیکن ریاست اور معاشرہ سب کا مشترکہ اثاثہ ہوتے ہیں۔ اگر ہم نے سیاست کو نفرت اور دشمنی کے بہ جائے احترام اور مکالمے کا ذریعہ بنالیا، تو نہ صرف ہماری جمہوریت مضبوط ہوگی، بل کہ آنے والی نسلوں کو بھی ایک بہتر سیاسی ماحول میسر آئے گا۔
جمہوریت کی اصل کام یابی اقتدار حاصل کرنے میں نہیں، بل کہ اختلاف کے باوجود ساتھ چلنے کے ہنر میں ہے۔ یہی وہ سبق ہے، جسے ہمیں بہ طور قوم سیکھنے کی ضرورت ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے