نوجوانوں پر سرمایہ کاری کیجیے!

Blogger Afzal Shah Bacha

کبھی کبھی انسان اپنے اردگرد کے حالات کو دیکھ کر خاموش نہیں رہ سکتا۔ گذشتہ کچھ عرصے سے یہ احساس شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ ہم ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑے ہیں، جہاں نوجوانوں کے مسائل سے چشم پوشی مستقبل کے کسی بڑے اجتماعی سانحے کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
اخبارات کے صفحات پلٹ لیجیے، سوشل میڈیا پر نظر ڈال لیجیے یا اپنے گرد و پیش کا جائزہ لے لیجیے، ہر طرف ایک عجیب سی بے چینی محسوس ہوتی ہے۔ کہیں منشیات نوجوانوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہیں، کہیں جرائم کی شرح بڑھ رہی ہے، کہیں اعلا تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگاری کے ہاتھوں مایوسی کا شکار ہیں اور کہیں بہتر مستقبل کے خواب اُنھیں غیر قانونی راستوں سے بیرونِ ملک جانے پر مجبور کر رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ آخر ہمارے نوجوان منشیات میں سکون کیوں تلاش کر رہے ہیں؟ کیا کوئی نوجوان شوق سے اپنی زندگی تباہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے، یا اس کے پیچھے ایسے اسباب موجود ہیں، جن پر ہم سنجیدگی سے غور کرنے کو تیار نہیں؟
میرے نزدیک منشیات کے خلاف صرف احتجاج کرنا یا ساری ذمے داری پولیس پر ڈال دینا کافی نہیں۔ بلاشبہ منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہے، کیوں کہ وہ چند سکوں کی خاطر پوری نسلوں کا مستقبل داو پر لگا رہے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ نوجوان آخر ان کے جال میں پھنس کیوں جاتے ہیں؟
ہمارے والدین اپنی اولاد کی تعلیم کے لیے عمر بھر کی جمع پونجی خرچ کر دیتے ہیں۔ اُن کی خواہش ہوتی ہے کہ اُن کا بچہ تعلیم حاصل کرکے ایک روشن مستقبل بنائے، خاندان کا سہارا بنے اور معاشرے میں عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارے… لیکن جب یہی نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں دروازے کھٹکھٹاتا پھرتا ہے اور ہر طرف مایوسی اُس کا استقبال کرتی ہے، تو اُس کے خواب بکھرنے لگتے ہیں۔ تاہم صرف بے روزگاری ہی نوجوانوں کے مسائل کی واحد وجہ نہیں۔ معاشی ناہم واری، سماجی تفریق اور انصاف کے نظام پر کم زور اعتماد بھی نوجوانوں کے ذہنوں پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ جب ایک نوجوان یہ دیکھتا ہے کہ محنت اور قابلیت کے باوجود اُس کے لیے آگے بڑھنے کے مواقع محدود ہیں، جب کہ بعض افراد سفارش، تعلقات یا وسائل کی بنیاد پر آسانی سے کام یابیاں حاصل کرلیتے ہیں، تو اُس کے اندر احساسِ محرومی جنم لینے لگتا ہے۔
ایک اور پہلو جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، وہ ہماری اجتماعی سوچ اور تربیت کا فقدان ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں محنت، صبر اور تدریجی کام یابی کے بہ جائے دولت حاصل کرنے کے شارٹ کٹس کو زیادہ اہمیت دی جانے لگی ہے۔ نوجوانوں کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ کام یابی راتوں رات حاصل کی جاسکتی ہے۔ حال آں کہ حقیقت یہ ہے کہ پائیدار کام یابی ہمیشہ مسلسل جد و جہد، اَن تھک محنت، دیانت داری اور وقت کے درست استعمال کا نتیجہ ہوتی ہے۔
اس صورتِ حال میں والدین کی تربیت بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر بچوں کی ذہنی، اخلاقی اور عملی تربیت پر مطلوبہ توجہ نہ دی جائے، اُنھیں محنت کی قدر، ناکامی کا سامنا کرنے کا حوصلہ اور زندگی کے حقیقی چیلنجز سے نمٹنے کا شعور نہ دیا جائے، تو وہ جلد مایوسی اور غلط راستوں کی طرف مائل ہوسکتے ہیں۔ اس لیے نوجوانوں کے مسائل کا حل صرف روزگار پیدا کرنے میں نہیں، بل کہ ایسی نسل کی تربیت میں بھی ہے، جو محنت، کردار اور ذمے داری کو کام یابی کی اصل بنیاد سمجھے۔
اسی طرح جب کسی نوجوان کو یہ محسوس ہو کہ اُسے معاشرتی یا عدالتی سطح پر بروقت اور منصفانہ انصاف نہیں مل رہا، تو اُس کے اندر نظام سے بداعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ یہ بداعتمادی بعض اوقات اُسے قانون اور ضابطوں سے دور لے جاتی ہے اور نتیجتاً کچھ نوجوان غیر قانونی راستوں کو اختیار کرنے لگتے ہیں، جب کہ بعض شدید ذہنی دباو، مایوسی اور تنہائی کے باعث منشیات جیسی تباہ کن عادتوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اُمید صرف روزگار سے نہیں، بل کہ انصاف، برابری اور مواقع کی منصفانہ تقسیم سے بھی جنم لیتی ہے۔
ریاست اپنے شہریوں کو تعلیم، صحت اور روزگار کی ضمانت دیتی ہے، لیکن عملی صورتِ حال سب کے سامنے ہے۔ آج پاکستان میں عام آدمی اپنی تعلیم، علاج اور روزگار کے لیے خود ہی جد و جہد کرنے پر مجبور ہے۔
سوات جیسے خطے میں اگر صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے، تو یہاں ترقی کے بڑے منصوبے ایک طرف اُمید بھی پیدا کرتے ہیں اور دوسری طرف سنجیدہ سوالات بھی اٹھاتے ہیں۔ مثال کے طور پر سوات موٹر وے فیز ٹو پر تقریباً 60 ارب روپے خرچ ہونے کا تخمینہ ہے، جس سے اس خطے کی زرخیز اور سونا اُگلتی زمین متاثر ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر اس خطیر رقم کا ایک بڑا حصہ بہ راہِ راست نوجوانوں کی تعلیم، ہنر مندی، کاروبار اور روزگار پر خرچ کیا جائے، تو کیا اس کے نتائج زیادہ دیرپا اور وسیع نہیں ہوں گے؟
اگر اس رقم کا نصف حصہ بھی نوجوانوں کی ترقی کے لیے مختص کر دیا جائے، تو ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوان باعزت روزگار حاصل کرسکتے ہیں، سیکڑوں نئے کاروبار وجود میں آ سکتے ہیں اور اس کے مُثبت اثرات نہ صرف سوات، بل کہ پوری قومی معیشت پر مرتب ہوسکتے ہیں۔
یہی سوال ہمیں اپنے معاشی ڈھانچے کی طرف بھی لے جاتا ہے۔ ملک کے بینکوں میں کھربوں روپے موجود ہیں، جن سے وہ اپنا کاروبار چلاتے اور منافع حاصل کرتے ہیں، لیکن سوات جیسے علاقوں میں عام لوگوں اور نوجوانوں کے لیے کاروباری قرضوں تک رسائی انتہائی مشکل بنا دی گئی ہے۔ اکثر بینک پراپرٹی کو سیکیورٹی کے طور پر قبول کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں اور اس کی وجہ اسٹیٹ بینک کی پالیسیوں کو قرار دیا جاتا ہے۔ نتیجتاً مقامی نوجوان سرمایہ سے محروم رہ جاتے ہیں اور کاروباری صلاحیت ہونے کے باوجود آگے نہیں بڑھ پاتے۔
دوسری طرف یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ سوات کے لاکھوں لوگ بیرونِ ملک محنت مزدوری کرکے اربوں ڈالر کا زرِ مبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں، جو ملکی معیشت کے استحکام میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اسی طرح یہ خطہ پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار کا ایک بڑا مرکز ہے، جس سے بڑے آڑھتیوں سے لے کر چھوٹے کاروباری افراد تک ہزاروں لوگوں کی روزی وابستہ ہے۔ ایسے میں اگر حکومت ایک بار پھر اس خطے پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کا ارادہ رکھتی ہے، تو یہ فیصلہ سنگین منفی معاشی اور سماجی اثرات کا باعث بن سکتا ہے۔ پہلے ہی یہ خطہ دہشت گردی، غیر یقینی حالات اور قدرتی آفات کا سامنا کر چکا ہے، اس لیے مزید معاشی دباو حالات کو بہتر بنانے کے بہ جائے مزید بگاڑ پیدا کرسکتا ہے۔
اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ یہاں کے نوجوانوں کے بہتر مستقبل کے لیے فوری، عملی اور جامع اقدامات کیے جائیں۔ اگر نوجوانوں کو ہنر، سرمایہ اور منصفانہ مواقع فراہم کیے جائیں، تو یہی خطہ پاکستان کی معیشت میں ایک مضبوط ستون بن سکتا ہے۔ بہ صورتِ دیگر بے روزگاری، مایوسی اور احساسِ محرومی بڑھتا جائے گا، جو آگے چل کر ڈپریشن، منشیات اور غیر قانونی سرگرمیوں میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال، حالات کے جبر کے نتیجے میں جنم لیتے جرائم اور مایوسی کے خلاف سب سے مؤثر ہتھ یار پولیس یا سخت سزائیں نہیں، بل کہ روزگار، تعلیم، انصاف، تربیت اور اُمید ہیں۔
یاد رکھیے، نوجوان کسی بھی قوم کا حال بھی ہیں اور مستقبل بھی۔ سڑکیں، پل، عمارتیں اور موٹر ویز ترقی کی علامت ضرور ہیں، لیکن قوموں کی اصل تعمیر انسانوں سے ہوتی ہے۔ اگر نوجوان مایوسی، بے روزگاری اور محرومی کا شکار ہوں، تو بلند و بالا عمارتیں بھی ترقی کا خواب پورا نہیں کرسکتیں۔
سوات میں بے شمار ایسے ماہرین موجود ہیں، جو زراعت، سیاحت، صحت ،کاروبار،تعلیم، ماحولیات اور دیگر شعبہ جات میں عملی مدد فراہم کرسکتے ہیں۔ حکومت اُن کے تجربات اور خدمات بلا معاوضہ حاصل کرسکتی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے