عید ہمارے معاشرے میں صرف ایک مذہبی تہوار نہیں، بل کہ اپنے بزرگوں، اپنے آبائی گھروں، اپنی مٹی اور اپنی جڑوں سے جڑنے کا ایک خوب صورت موقع بھی ہوتی ہے۔ خاص طور پر اُن لوگوں کے لیے، جو روزگار، تعلیم یا دیگر مجبوریوں کی وجہ سے اپنے علاقوں سے دور شہروں میں رہتے ہیں۔ اُن کے لیے عید اپنے والدین، بہن بھائیوں، عزیزوں اور دوستوں سے ملنے کا ایک ایسا موقع بن جاتی ہے، جس کا انتظار پورا سال کیا جاتا ہے۔
میری بھی ہر عید کی طرح اِس بار کوشش تھی کہ سوات میں اپنے آبائی گھر پہنچ سکوں۔ کیوں کہ میرے بابا علیل ہیں۔ عمر کے اُس حصے میں ہیں، جہاں اولاد کا انتظار، زندگی کی سب سے بڑی خوشی بن جاتا ہے۔ گاؤں کے تمام قریبی رشتے دار بھی وہیں رہتے ہیں۔ اس لیے عید پر گھر جانا میرے لیے محض ایک سفر نہیں، بل کہ ایک ذمے داری اور ایک جذباتی ضرورت بھی ہوتی ہے… لیکن اس بار راولپنڈی سے سوات تک کے سفر نے مجھے ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کا احساس دلایا کہ ہمارے ملک میں عام آدمی کی عزت، جان اور آرام کی شاید کوئی قیمت نہیں رہی۔
راولپنڈی کے اڈے پر پہنچا، تو محسوس ہوا، جیسے عید کا موسم نہیں، بل کہ انسانی مجبوریوں کی ایک منڈی لگی ہوئی ہو، جہاں ہر چیز بکتی ہے… اور سب سے سستی چیز انسان کی عزت اور آرام ہے۔ گاڑیوں کے باہر لمبی قطاریں تھیں۔ لوگ اپنے بچوں اور سامان کے ساتھ کھڑے تھے۔ ہر شخص جلد از جلد اپنے گھر پہنچنے کی کوشش میں تھا، لیکن اس صورتِ حال سے فائدہ اٹھانے والوں کی بھی کمی نہیں تھی۔ چار افراد کے لیے مختص سیٹوں پر پانچ پانچ افراد بٹھائے جا رہے تھے۔ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح چپکے ہوئے تھے، جیسے کسی مال بردار گاڑی میں سامان رکھا جاتا ہے۔ ہماری سیٹ نسبتاً بہتر تھی۔ کیوں کہ اس پر صرف تین افراد تھے، لیکن دوسری سیٹوں پر پانچ پانچ افراد کو بٹھا دیا گیا تھا۔ کئی جگہوں پر اضافی کرایہ وصول کرنے کی باتیں بھی سننے میں آئیں اور لوگ مجبوری میں خاموشی سے پیسے دیتے رہے۔ کیوں کہ اُن کے سامنے صرف ایک مقصد تھا کہ کسی طرح عید سے پہلے اپنے گھروں تک پہنچ جائیں۔
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ’’ٹرانسپورٹ اتھارٹی‘‘ نامی ادارہ آخر کس کام کے لیے بنایا گیا ہے؟ اگر اڈوں پر مسافروں کی تعداد اور گاڑیوں کی گنجایش کو یقینی بنانا اس کی ذمے داری نہیں، تو پھر اس کی ذمے داری کیا ہے؟ اگر مقررہ کرائے سے زیادہ رقم وصول کرنا جرم ہے، تو پھر یہ جرم کھلے عام کیوں ہو رہا ہے؟ اگر اوور لوڈنگ قانوناً ممنوع ہے، تو پھر اس کی روک تھام کون کرے گا؟
لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ادارے اکثر صرف کاغذوں میں موجود ہوتے ہیں۔ زمینی حقیقت میں اُن کا وجود ڈھونڈنا مشکل ہو جاتا ہے۔
راولپنڈی سے مینگورہ تک کے سفر میں جو سب سے افسوس ناک منظر دیکھنے کو ملا وہ یہ تھا کہ 28 سیٹوں والی گاڑی میں تقریباً 40 افراد کو بٹھایا گیا تھا۔ لوگ گلیاروں میں کھڑے تھے۔ بچوں کو گودوں میں اٹھایا گیا تھا۔ سامان سیٹوں کے نیچے اور اوپر ہر جگہ ٹھونسا گیا تھا… لیکن پورے راستے میں کسی چیک پوسٹ نے سوال کیا، نہ کسی سرکاری اہل کار نے گاڑی روک کر پوچھا کہ گاڑی میں کتنے مسافر سوار ہیں؟ ایسا محسوس ہو رہا تھا، جیسے قانون صرف عام شہری کے لیے ہے، جب کہ ’’ٹرانسپورٹ مافیا‘‘ کو مکمل آزادی حاصل ہے۔
اس صورتِ حال کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ ہم نے اوور لوڈنگ کو معمول سمجھ لیا ہے۔ اب کسی گاڑی میں گنجایش سے زیادہ افراد بیٹھے ہوں، تو کسی کو حیرت نہیں ہوتی۔ حال آں کہ یہی وہ چیز ہے، جو حادثات کے وقت سب سے زیادہ جانی نقصان کا باعث بنتی ہے۔ جب ایک گاڑی اپنی مقررہ گنجایش سے کہیں زیادہ بوجھ اٹھا رہی ہو، تو اُس کے بریک، سسپنشن ٹائر اور پورا ڈھانچا اضافی دباو کا شکار ہوتا ہے اور ذرا سی غلطی بھی بڑے سانحے میں تبدیل ہوسکتی ہے… لیکن چوں کہ ہم نے ایسے مناظر روزانہ دیکھنے کی عادت بنالی ہے، اس لیے ہمیں ان میں کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا۔
مینگورہ پہنچنے کے بعد جب بحرین کی طرف سفر شروع ہوا، تو ایک اور تشویش ناک حقیقت سامنے آئی۔ سوات جیسے خوب صورت علاقے میں، جہاں سڑکیں پہاڑوں کے درمیان بل کھاتی ہوئی گزرتی ہیں۔ جہاں ایک طرف گہری کھائیاں اور دوسری طرف بلند پہاڑ موجود ہوتے ہیں… وہاں آٹو رکشے اس انداز میں دوڑ رہے تھے، جیسے وہ جدید اور طاقت ور گاڑیاں ہوں۔ بعض رکشے ہائی ایس گاڑیوں کو اوور ٹیک کر رہے تھے۔ بعض خطرناک موڑوں پر بھی رفتار کم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کر رہے تھے۔ سب سے افسوس ناک بات یہ تھی کہ اُن میں سوار لوگوں کی جانیں مکمل طور پر ڈرائیور کی مہارت یا شاید قسمت کے رحم و کرم پر تھیں۔
اس سے بھی زیادہ خوف ناک منظر وہ تھا، جب کئی رکشوں میں اسکول کے بچوں کو ضرورت سے زیادہ تعداد میں بٹھایا گیا تھا۔ بعض بچے پیچھے لٹک کر سفر کر رہے تھے۔ بعض افراد رکشے کے کناروں سے پکڑ کر کھڑے تھے۔ یہ منظر کسی مہذب معاشرے کا نہیں، بل کہ ایسی جگہ کا معلوم ہوتا تھا، جہاں انسانی جان کی کوئی اہمیت نہ ہو۔ اگر خدا نہ خواستہ ایسے کسی رکشے کا توازن بگڑ جائے، یا سامنے سے آنے والی گاڑی سے معمولی سا تصادم ہو جائے، تو نتیجہ کیا ہوگا؟ اس کا تصور بھی لرزا دینے والا ہے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں حادثات سے پہلے کسی کو خطرہ نظر نہیں آتا۔ جب تک کوئی بڑی بس کھائی میں نہ گر جائے، جب تک درجنوں لاشیں سڑک پر نہ بکھر جائیں، جب تک ٹی وی چینل بریکنگ نیوز نہ چلائیں… تب تک کسی ادارے کی نیند نہیں کھلتی۔ پھر چند دن افسوس کیا جاتا ہے۔ تحقیقات کا اعلان ہوتا ہے۔ ذمے داروں کے خلاف کارروائی کی باتیں کی جاتی ہیں… اور کچھ دن بعد سب کچھ پہلے جیسا ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں حادثات بار بار ہوتے ہیں۔ کیوں کہ ہم حادثے کے اسباب ختم کرنے کے بہ جائے صرف حادثے کے بعد ماتم کرنے کے عادی ہوچکے ہیں۔
سوات پاکستان کے خوب صورت ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں ہر سال لاکھوں سیاح آتے ہیں۔ لوگ اپنے خاندانوں کے ساتھ سفر کرتے ہیں… لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہاں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بڑھتی ہوئی بے ضابطگیاں مستقبل کے لیے ایک خطرناک اشارہ ہیں۔ اگر آج اوور لوڈنگ کو نہ روکا گیا، اگر خطرناک ڈرائیونگ کے خلاف کارروائی نہ کی گئی، اگر رکشوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے واضح قوانین پر عمل درآمد نہ کرایا گیا، تو آنے والے دنوں میں کسی بڑے سانحے کا انتظار کرنا پڑے گا۔
یہ مسئلہ صرف حکومت کا نہیں، بل کہ معاشرے کا بھی ہے۔ عوام کو بھی اپنی جان کی اہمیت سمجھنی ہوگی۔ چند روپے بچانے یا چند منٹ پہلے منزل تک پہنچنے کی خواہش میں اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی خطرے میں ڈالنا دانش مندی نہیں… لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ جب محفوظ متبادل دست یاب نہ ہو، تو لوگ مجبوری میں خطرناک ذرائع استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے اصل ذمے داری اُن اداروں پر عائد ہوتی ہے، جو عوام کو محفوظ سفری سہولیات فراہم کرنے کے پابند ہیں۔
عید خوشیوں کا نام ہے، والدین کی دعاؤں کا نام ہے، اپنے گاؤں کی مٹی کی خوش بو کا نام ہے، اپنے بچپن کی یادوں سے ملاقات کا نام ہے… لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں عید کا سفر اکثر ایک آزمایش بن جاتا ہے، جہاں مسافر اپنے آرام عزت اور بعض اوقات اپنی جان تک کو داو پر لگا کر سفر کرتے ہیں۔ شاید اس ملک میں عام آدمی کی سب سے بڑی غلطی یہی ہے کہ وہ ایک بہتر زندگی اور محفوظ سفر کی توقع رکھتا ہے۔ حال آں کہ اسے بار بار یہ باور کرایا جاتا ہے کہ وہ صرف ایک مسافر نہیں، بل کہ ایک ایسا ہجوم ہے، جسے گاڑیوں میں بھر کر منزل تک پہنچا دینا ہی کافی سمجھا جاتا ہے۔
خدا نہ کرے کہ کل کسی رکشے، کسی ہائی ایس یا کسی مسافر گاڑی کا کوئی بڑا حادثہ ہو اور پھر وہی لوگ ٹیلی وِژن سکرینوں پر بیٹھ کر افسوس کا اظہار کریں، جو آج اپنی ذمے داریاں ادا کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ اب بھی موقع ہے… اگر متعلقہ ادارے جاگ جائیں، اگر قانون پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے، اور اگر انسانی جان کو واقعی اہمیت دی جائے… تو بے شمار زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں۔ لیکن اگر موجودہ صورتِ حال برقرار رہی، تو پھر کسی بڑے سانحے کے بعد ہاتھ ملنے اور تعزیتی بیانات جاری کرنے کے سوا ہمارے پاس کچھ نہیں بچے گا… اور شاید اس وقت بہت دیر ہوچکی ہوگی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










