کیا فلسفہ ایک ادق سا لفظ ہے، جس سے عام آدمی، زندگی، معاشرے، سماج، معشیت، تہذیب، ثقافت سے کوئی تعلق نہیں…؟ مگر جواب ہرگز ’’ہاں‘‘ نہیں…! بل کہ انسان جب پہلی بار رات کے اندھیرے میں آسمان کی طرف دیکھ کر یہ سوچنے لگا کہ یہ ستارے کیا ہیں، زندگی کیوں ہے، موت کے بعد کیا ہوتا ہے، اچھائی اور برائی کی حقیقت کیا ہے، انسان آخر اس دنیا میں کیوں آیا ہے…؟ تب دراصل فلسفے کی پہلی چنگاری روشن ہوئی۔
فلسفہ کسی ایک کتاب، ایک قوم یا ایک فرد کی ایجاد نہیں، بل کہ انسانی حیرت، جہاں اس کا علم ختم ہو جائے۔ تجسس، آگے کیا ہے، اور شعور کی طویل مسافت کا نام ہے۔ لفظ ’’فلسفہ‘‘ یونانی زبان کے دو الفاظ ’’فیلو‘‘ اور ’’سوفیا‘‘ سے نکلا ہے، جن کے معنی ہیں ’’حکمت سے محبت‘‘۔ گویا فلسفہ وہ جست جو ہے، جس میں انسان صرف معلومات حاصل نہیں کرتا، بل کہ حقیقت کے باطن تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ عام آدمی زندگی گزارتا ہے، مگر اس کے برعکس فلسفی، زندگی کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسفہ صرف چند مشکل اصطلاحات یا کتابوں کا نام نہیں، بل کہ یہ سوچنے کا ایک انداز، سوال اٹھانے کی ایک روایت اور حقیقت تک پہنچنے کی مسلسل کوشش ہے۔
قدیم زمانے میں انسان فطرت کے مظاہر کو دیوتاؤں اور مافوق الفطرت قوتوں سے جوڑتا تھا۔ بارش ہوتی، تو اسے خداؤں کا کرم سمجھا جاتا۔ زلزلہ آتا، تو دیوتاؤں کا غضب مانا جاتا… لیکن جب یونان کے مفکرین نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا ہر واقعے کے پیچھے کوئی عقلی سبب بھی ہوسکتا ہے؟ تب فلسفے نے باقاعدہ علمی صورت اختیار کی۔ سقراط، افلاطون اور ارسطو جیسے مفکرین نے انسان، اخلاق، سیاست، علم اور کائنات پر ایسے سوالات اٹھائے، جنھوں نے آنے والی صدیوں کی فکری بنیاد رکھ دی۔ سقراط نے کہا تھا کہ ’’غیر آزمودہ زندگی جینے کے قابل نہیں۔‘‘ یہی جملہ فلسفے کی روح کی عکاسی کرتا ہے۔ فلسفہ انسان کو اندھی تقلید سے نکال کر سوچنے، پرکھنے اور سوال کرنے کی جرات دیتا ہے۔
فلسفے کی تاریخ صرف یونان تک محدود نہیں۔ ہندوستان، چین، ایران اور مسلم دنیا میں بھی فلسفیانہ روایتیں بہت مضبوط رہیں۔ برصغیر میں مہاتما بدھ، ورہمان مہاویر اور اپنشدوں کے مفکرین نے وجود، روح اور نجات کے سوالات پر غور کیا۔ چین میں کنفیوشس اور لاؤتزو نے اخلاق اور سماجی نظم پر فلسفیانہ فکر پیش کی۔ مسلم دنیا میں جب یونانی علوم کا ترجمہ ہوا، تو فلسفے کو نئی جہت ملی۔ ابنِ سینا، الفارابی اور ابنِ رشد جیسے مفکرین نے عقل اور وحی (مذہب) کے تعلق پر گہرا مباحثہ کیا۔ انھوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مذہب اور عقل ایک دوسرے کے مخالف نہیں، بل کہ حقیقت کی تلاش کے دو مختلف راستے ہیں۔ مسلم تہذیب کے سنہری دور میں فلسفہ، طب، ریاضی اور فلکیات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے علوم تھے۔ اس دور میں علم کو تقسیم نہیں کیا جاتا تھا، بل کہ انسان کو ایک مکمل فکری اکائی سمجھا جاتا تھا۔
فلسفے اور سائنس کا تعلق بھی اسی مقام پر سمجھ میں آتا ہے۔ آج لوگ فلسفے اور سائنس کو الگ الگ دنیائیں سمجھتے ہیں، حال آں کہ سائنس دراصل فلسفے ہی کی کوکھ سے پیدا ہوئی۔ ابتدا میں طبیعیات، فلکیات اور ریاضی کو ’’فطری فلسفہ‘‘ کہا جاتا تھا۔ سائنس سوال پوچھتی ہے کہ ’’یہ کیسے ہوتا ہے؟‘‘ جب کہ فلسفہ یہ پوچھتا ہے کہ ’’یہ کیوں ہوتا ہے؟‘‘
سائنس تجربہ، مشاہدہ اور ثبوت پر انحصار کرتی ہے، جب کہ فلسفہ عقل، استدلال اور تنقیدی فکر کے ذریعے حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔
دونوں میں اختلاف ضرور ہے، مگر دشمنی نہیں۔ اگر فلسفہ سوال نہ اٹھاتا، تو سائنس کو تحقیق کا راستہ نہ ملتا… اور اگر سائنس تجربات نہ کرتی، تو فلسفہ محض خیالی بحث بن کر رہ جاتا۔ آج بھی سائنس کی ہر بڑی دریافت کے پیچھے کوئی نہ کوئی فلسفیانہ سوال موجود ہوتا ہے۔ مصنوعی ذہانت، جینیاتی تبدیلی، خلائی تحقیق اور انسانی شعور جیسے مسائل اب بھی فلسفے اور سائنس دونوں کو ایک ساتھ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔
فلسفے میں اختلافات بھی اسی لیے پیدا ہوئے کہ انسان کی عقل، تجربات اور حالات ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کسی فلسفی نے عقل کو سب سے بڑا ذریعہ مانا، کسی نے تجربے کو، کسی نے روحانیت کو اور کسی نے مادیت کو۔ افلاطون نے مثالی دنیا کا تصور پیش کیا، جب کہ ارسطو نے حقیقت کو مادی دنیا میں تلاش کیا۔ کارل مارکس نے معیشت اور طبقاتی کش مہ کش کو تاریخ کی بنیاد قرار دیا، جب کہ فریڈرک نطشے نے روایتی اخلاقیات کو چیلنج کیا۔ کسی نے انسان کو آزاد ارادے کا مالک کہا اور کسی نے اسے حالات کا اسیر سمجھا۔ یہی اختلافات دراصل فلسفے کی زندگی ہیں۔ کیوں کہ فلسفہ جامد یقین کا نہیں، بل کہ مسلسل مکالمے کا نام ہے۔ جہاں سوال ختم ہوجائیں، وہاں فلسفہ بھی مر جاتا ہے۔
معاشرے کے ساتھ فلسفے کا تعلق نہایت گہرا ہے۔ ہر معاشرہ کسی نہ کسی فلسفے کے تحت زندگی گزارتا ہے، چاہے اسے اس کا شعور ہو یا نہ ہو۔ انصاف کیا ہے، ریاست کی حدود کیا ہونی چاہییں، عورت اور مرد کے حقوق کیا ہیں، آزادی کی تعریف کیا ہے، تعلیم کا مقصد کیا ہونا چاہیے…؟ یہ سب بنیادی طور پر فلسفیانہ سوالات ہیں۔ دنیا کی بڑی سیاسی تحریکیں اور انقلابات بھی فلسفیانہ افکار سے جنم لیتے رہے ہیں۔ جمہوریت، سوشل ازم، سرمایہ داری، قوم پرستی اور انسانی حقوق جیسے تصورات محض سیاسی نعرے نہیں، بل کہ فلسفیانہ نظریات کی عملی شکلیں ہیں۔ جب معاشرہ سوال اٹھانا چھوڑ دے، اختلافِ رائے کو جرم سمجھنے لگے اور صرف روایت کو سچ مان لے، تو فکری جمود پیدا ہوجاتا ہے۔ فلسفہ انسان کو تنقیدی شعور دیتا ہے۔ اسے یہ سکھاتا ہے کہ ہر بات کو عقل کی کسوٹی پر پرکھا جائے۔
تاریخ میں فلسفے کا عروج بھی آیا اور زوال بھی۔ یونان میں فلسفہ اپنے عروج پر تھا، تو علم، ادب اور سیاست نئی بلندیوں تک پہنچے۔ مسلم دنیا میں بغداد، قرطبہ اور بخارا علم و حکمت کے مراکز بنے تو فلسفہ، سائنس اور فنون نے بے مثال ترقی کی… لیکن جب مذہبی تنگ نظری، سیاسی جبر اور فکری خوف نے جگہ بنائی، تو فلسفہ کم زور پڑنے لگا۔ کئی معاشروں میں سوال پوچھنے والوں کو باغی قرار دیا گیا۔ کتابیں جلائی گئیں، مفکرین کو خاموش کیا گیا اور تحقیق کی جگہ تقلید نے لے لی۔
یورپ میں بھی ایک وقت ایسا آیا، جب کلیسا کی سختی نے آزاد فکر کو محدود کردیا، مگر بعد میں نشاۃِ ثانیہ اور روشن خیالی کی تحریکوں نے فلسفے کو نئی زندگی دی۔ جدید دنیا کی ترقی میں اسی آزاد فکر کا بہت بڑا حصہ ہے۔
آج کے دور میں بھی بعض لوگ فلسفے کو غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک فلسفہ صرف پیچیدہ بحثوں اور بے نتیجہ سوالوں کا مجموعہ ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ فلسفہ آج پہلے سے زیادہ اہم ہوچکا ہے۔ ٹیکنالوجی نے انسان کو طاقت تو دے دی ہے، مگر یہ فیصلہ اب بھی فلسفہ ہی کرتا ہے کہ اس طاقت کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ ایٹم بم بنایا جاسکتا ہے، مگر اسے استعمال کرنا اخلاقی ہے یا نہیں؟ یہ سوال سائنس نہیں، بل کہ فلسفہ طے کرتا ہے۔ مصنوعی ذہانت انسان کی مدد بھی کرسکتی ہے اور اس کے لیے خطرہ بھی بن سکتی ہے، اس کا فیصلہ صرف ٹیکنالوجی نہیں، بل کہ انسانی فکر کرے گی۔ اسی لیے فلسفہ محض ماضی کا علم نہیں، بل کہ مستقبل کی ضرورت بھی ہے۔
اصل میں فلسفہ انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ زندگی صرف کھانے، کمانے اور وقت گزارنے کا نام نہیں۔ انسان ایک سوچنے والی ہستی ہے، اور سوچ ہی اسے باقی مخلوقات سے ممتاز بناتی ہے۔ فلسفہ ہمیں یقین اور شک کے درمیان توازن سکھاتا ہے، اختلاف کے باوجود برداشت پیدا کرتا ہے اور حقیقت کے قریب لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ انسان کو اندھی تقلید سے نکال کر شعور کی روشنی دیتا ہے۔ شاید اسی لیے ہر وہ دور زندہ اور متحرک سمجھا جاتا ہے، جس میں سوال کرنے والے لوگ موجود ہوں… اور ہر وہ معاشرہ زوال کا شکار ہو جاتا ہے، جہاں سوال پوچھنے سے خوف آنے لگے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










