ہیم، غزالی، پوپر اور سائنس کی کسوٹی

Blogger Comrade Sajid Aman

آج کے ہنگامہ خیز دور میں جہاں اطلاعات کی یلغار نے ہر فرد کو ایک ’’رائے ساز‘‘ بنا دیا ہے، سچ کی پہچان پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہوچکی ہے۔ ہر طرف بیانیے ہیں، دعوے ہیں اور اپنے اپنے ’’سچ‘‘ کی تشہیر ہے۔ ایسے میں یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ آخر سچ ہے کیا؟ کیا وہ جو ہمیں درست محسوس ہو… یا وہ جو ہر آزمایش کے بعد بھی قائم رہے؟
فلسفے کی دنیا میں اس سوال کا ایک اہم جواب 18ویں صدی کے اسکاٹش مفکر ’’ڈیوڈ ہیم‘‘ (David Hume) نے دینے کی کوشش کی۔
ہیم کا کہنا تھا کہ انسان کا علم بنیادی طور پر تجربے پر قائم ہے۔ ہم جو کچھ جانتے ہیں، وہ ہمارے حواس کے ذریعے حاصل ہوتا ہے… لیکن اس سادہ سے دعوے کے پیچھے ایک گہرا شک پوشیدہ تھا۔ ہیم نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا ہم واقعی دنیا کے ’’اصلی‘‘ اسباب کو جانتے ہیں، یا محض واقعات کی تکرار کو دیکھ کر ایک تعلق قائم کرلیتے ہیں؟
مثال کے طور پر آگ کا جلانا ایک کھلی حقیقت معلوم ہوتی ہے… لیکن ہیم کے مطابق ہم نے کبھی جلانے کی قوت کو خود نہیں دیکھا۔ ہم نے صرف یہ مشاہدہ کیا ہے کہ آگ کے ساتھ جلنے کا عمل جڑا ہوا ہے۔ یوں ہمارا یقین دراصل مشاہدات کی تکرار سے پیدا ہونے والی ایک ذہنی عادت بن جاتا ہے۔
اس طرح دیگر مثالیں کالی بلی آگے سے گزرنے اور آنکھ پھڑکنے کے نتائج وغیرہ ہیں۔ اس نقطۂ نظر نے علم کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا اور انسان کو اپنی یقین دہانیوں پر نظرِثانی پر مجبور کر دیا۔
دل چسپ امر یہ ہے کہ یہی بحث ہمیں اسلامی فکر کی روایت میں بھی ملتی ہے۔ 11ویں صدی کے عالم ’’امام غزالی‘‘  نے بھی سبب و مسبب کے تعلق پر سوال اٹھایا تھا۔ اُن کے نزدیک آگ کا جلانا اس کی اپنی قوت نہیں، بل کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کا اظہار ہے… یعنی کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے، وہ بہ راہِ راست خدائی ارادے کے تحت وقوع پذیر ہوتا ہے۔ 
اس اعتبار سے ہیم اور غزالی دونوں ایک اہم نکتے پر ہم آہنگ نظر آتے ہیں کہ ’’سبب‘‘ کا تصور اتنا سادہ نہیں، جتنا عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ ان کے نتائج مختلف ہیں، یعنی ایک شک پر پہنچتا ہے اور ایک یقین پر۔
یہی وہ مقام ہے جہاں جدید سائنس اپنی ایک الگ راہ اختیار کرتی ہے۔ سائنس نہ تو مکمل شک کو اپناتی ہے اور نہ مطلق یقین کا دعوا ہی کرتی ہے… بل کہ وہ ایک ایسا طریقۂ کار اختیار کرتی ہے، جس میں ہر نظریے کو مسلسل جانچا اور پرکھا جاتا ہے۔ 20ویں صدی کے فلسفی ’’کارل پوپر‘‘ (Karl Popper) نے اسی اصول کو ’’فالسفی کیشن‘‘ (Falsification) کا نام دیا۔ ان کے مطابق کوئی نظریہ اس وقت تک سائنسی نہیں کہلا سکتا، جب تک اسے غلط ثابت کرنے کا امکان موجود نہ ہو۔
یہ اُصول ایک آسان راستہ بناتا ہے، جو اوپر کے مفکرین کا ٹھوس جواب بنتا ہے۔ سچ وہ نہیں جو محض درست محسوس ہو، بل کہ وہ ہے، جو غلط ثابت ہونے کی ہر ممکن کوشش کے باوجود برقرار رہے۔ گویا سائنس میں سچ ایک عارضی حیثیت رکھتا ہے، جو ہر نئی تحقیق کے ساتھ بدل بھی سکتا ہے اور مضبوط بھی ہوسکتا ہے۔
تاہم یہاں ایک بنیادی نکتہ ہمیشہ اہمیت کے ساتھ یاد رہے کہ فالسفی کیشن کا اصول سائنس کے دائرے میں تو کارآمد ہے، لیکن اسے عقائد اور مذہبی ایمان پر منطبق کرنا درست نہیں۔ مذہب کا تعلق اُن سوالات سے ہے، جو تجربے اور مشاہدے سے ماورا ہیں۔ جیسے مقصدِ حیات، اخلاقی قدریں اور خدا کا وجود… اگر ہم مذہب کو سائنس کی کسوٹی پر پرکھنے کی کوشش کریں گے، تو ہم مذہب کو صحیح طور پر سمجھ سکیں گے اور نہ سائنس کی حدود کو۔
موجودہ دور میں جہاں سچ اور جھوٹ کی تمیز مشکل ہوگئی ہے، ہمیں ان تینوں فکری دھاروں سے راہ نمائی لینے کی ضرورت ہے۔ ہیم ہمیں احتیاط اور سوال کرنے کا حوصلہ دیتا ہے، غزالی ہمیں یقین کی معنویت بتاتے ہیں اور پوپر ہمیں سکھاتا ہے کہ علم کو زندہ رکھنے کے لیے اسے مسلسل آزمایش سے گزارنا ضروری ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سچ کی تلاش کوئی آسان مرحلہ نہیں، بل کہ ایک مسلسل جد و جہد ہے۔ اس جد و جہد میں نہ صرف ہمیں دنیا کو سمجھنا ہوتا ہے، بل کہ اپنے یقین، اپنے شبہات اور اپنی فکری حدود کو بھی پہچاننا ہوتا ہے۔ یہی شعور ایک باشعور معاشرے کی بنیاد بنتا ہے۔ ایسا معاشرہ جو اندھی تقلید میں مبتلا ہو اور نہ مکمل شکوک و شبہات اور اوہام کا شکار ہی ہو۔
سچ شاید ایک منزل نہیں، بل کہ ایک سفر ہے… اور اس سفر میں سوال کرنا بھی ضروری ہے اور کچھ اُصولوں پر قائم رہنا بھی۔ یہی توازن ہمیں فکری انتشار سے نکال کر ایک بامعنی سَمت کی طرف لے جاسکتا ہے اور یہی ہماری اور ہماری معاشرے کی کمی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے