پاکستان گذشتہ کئی دہائیوں سے توانائی کے بحران میں مبتلا ہے۔ کبھی بجلی کی لوڈشیڈنگ عوام کی زندگی اجیرن بناتی ہے، کبھی بجلی کے بھاری بل غریب آدمی کی کمر توڑ دیتے ہیں، اور کبھی مہنگے ایندھن کی درآمد قومی معیشت کو دیمک کی طرح چاٹنے لگتی ہے۔ ہر حکومت نے وقتی اقدامات کیے، نئے منصوبوں کے اعلانات کیے، مگر مسئلہ جوں کا توں برقرار رہا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے توانائی کو عوامی ضرورت کے بہ جائے منافع بخش کاروبار بنا دیا ہے۔
آئی پی پیز یعنی نجی بجلی گھروں کے معاہدے اسی پالیسی کی سب سے بڑی مثال ہیں۔ ان معاہدوں کے تحت نجی کمپنیوں کو ایسے غیر معمولی فوائد دیے گئے، جن کا بوجھ بہ راہِ راست عوام پر منتقل ہوا۔ بجلی پیدا ہو یا نہ ہو، حکومت کو ’’کیپسٹی پیمنٹس‘‘ کے نام پر اربوں روپے ادا کرنا پڑتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بجلی روز بہ روز مہنگی ہوتی گئی، جب کہ عوام کی آمدنی وہیں کی وہیں رہی۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ ایک عام آدمی بجلی کا بل دیکھ کر خوف زدہ ہو جاتا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ آئی پی پیز کے معاہدوں پر ازسرِنو غور کرے۔ جو معاہدے قومی مفاد کے خلاف ہیں، انھیں ختم کیا جائے اور توانائی کے شعبے کو دوبارہ قومی تحویل میں لایا جائے۔ اگر تمام بڑے بجلی گھر قومی ملکیت میں آ کر واپڈا یا کسی مضبوط سرکاری ادارے کے تحت چلائے جائیں، تو کم از کم منافع خوری کی وہ دوڑ ختم ہوسکتی ہے، جس نے بجلی کو سونے سے بھی مہنگا بنا دیا ہے۔
یہ بات درست ہے کہ ماضی میں سرکاری اداروں میں بدعنوانی اور نااہلی کے مسائل رہے ہیں، مگر اس کا حل قومی اثاثے نجی سرمایہ داروں کے حوالے کرنا نہیں، بل کہ اداروں کو شفاف اور مؤثر بنانا ہے۔ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک آج بھی توانائی کے بنیادی نظام پر ریاستی کنٹرول رکھتے ہیں، کیوں کہ بجلی صرف ایک کاروبار نہیں، بل کہ قومی سلامتی اور عوامی فلاح کا مسئلہ بھی ہے۔
پاکستان جیسے دھوپ والے ملک میں سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم سورج کی بے پناہ توانائی سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ اگر حکومت واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے، تو اسے بڑے بڑے مہنگے پاور پلانٹس کے بہ جائے سولر انرجی کی طرف جانا ہوگا۔ غریب اور متوسط طبقے کو مفت یا انتہائی کم قیمت پر سولر پلیٹس، بیٹریاں اور کنورٹرز فراہم کیے جائیں۔ گھروں، سکولوں، ہسپتالوں اور سرکاری عمارتوں کو مرحلہ وار شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے۔
اس اقدام کے بے شمار فوائد ہوسکتے ہیں۔
سب سے پہلے تو عام آدمی مہنگی بجلی کے بلوں سے نجات حاصل کرسکے گا۔
دوسرا، لوڈشیڈنگ کا مسئلہ بڑی حد تک ختم ہو جائے گا۔ کیوں کہ بجلی کی پیداوار صرف بڑے پاور اسٹیشنوں تک محدود نہیں رہے گی، بل کہ ہر گھر ایک چھوٹا بجلی گھر بن سکتا ہے۔
تیسرا، پاکستان کا قیمتی زرِ مبادلہ بچے گا، جو اس وقت درآمدی تیل اور ایل این جی خریدنے پر خرچ ہو رہا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ پاکستان ہر سال اربوں ڈالر کا تیل اور گیس درآمد کرتا ہے۔ عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھتے ہی ہماری معیشت بحران کا شکار ہو جاتی ہے۔ اگر ملک میں بڑے پیمانے پر سولر انرجی اپنائی جائے، تو درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوگا، تجارتی خسارہ کم ہوگا اور معیشت نسبتاً مستحکم ہوسکے گی۔
ماحولیاتی آلودگی کا مسئلہ بھی آج پوری دنیا کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ کوئلہ، تیل اور گیس سے چلنے والے بجلی گھر فضا میں زہریلی گیسیں چھوڑتے ہیں، جو نہ صرف ماحول، بل کہ انسانی صحت کے لیے بھی نقصان دِہ ہیں۔ دوسری طرف سولر انرجی صاف، سستی اور ماحول دوست توانائی ہے۔ اگر پاکستان بروقت قابلِ تجدید توانائی کی طرف منتقل نہ ہوا، تو آنے والے برسوں میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات مزید سنگین ہوسکتے ہیں۔
اصل ضرورت ایک ایسی قومی توانائی پالیسی کی ہے، جو سرمایہ دارانہ مفادات کے بہ جائے عوامی ضرورت کو ترجیح دے۔ توانائی کو منافع کی منڈی بنانے کے بہ جائے بنیادی حق سمجھا جائے۔ جب تک چند طاقتور کمپنیاں قومی وسائل سے بے تحاشا منافع کماتی رہیں گی اور عوام مہنگی بجلی خریدنے پر مجبور رہیں گے، تب تک توانائی بحران ختم نہیں ہوگا۔
پاکستان کے پاس سورج کی روشنی بھی ہے، نوجوان افرادی قوت بھی ہے اور تکنیکی صلاحیت بھی۔ اگر ریاست سنجیدگی سے فیصلہ کرے، تو ملک کو مہنگی بجلی، لوڈشیڈنگ اور درآمدی ایندھن کے شکنجے سے نکالا جاسکتا ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہماری ترجیح عوامی فلاح ہے، یا چند طاقت ور طبقات کا منافع…؟
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










