جمال عبدالناصر، عرب وقار کی علامت

Blogger Comrade Sajid Aman

قاہرہ کی گرم شاموں میں ایک زمانہ ایسا بھی تھا، جب ریڈیو کی آواز پورے عرب جہاں میں گونجتی تھی۔ لوگ چائے خانوں میں جمع ہوتے، بازاروں میں خاموشیاں چھا جاتیں اور گھروں میں کان ایک آواز پر لگ جاتے۔ وہ آواز ایک ایسے راہ نما کی تھی، جس کے الفاظ میں شکستہ قوموں کے لیے امید اور محکوم معاشروں کے لیے وقار کا پیغام ہوتا تھا۔ یہ آواز مصر کے صدر جمال عبد الناصر کی تھی۔ بیس ویں صدی کے وسط میں عرب دنیا کے لیے ناصر صرف ایک حکم ران نہیں تھے، بل کہ ایک خواب، ایک احساس، ایک فخر، ایک امید اور ایک سیاسی تحریک کی علامت بن چکے تھے۔
جمال عبدالناصر کی کہانی دراصل ایک ایسے عہد کی کہانی ہے، جس میں عرب دنیا نو آبادیاتی طاقتوں کے اثر سے نکل کر اپنی شناخت تلاش کر رہی تھی۔ مصر، جو صدیوں سے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور ثقافت کا مرکز رہا تھا، برطانوی اثر و رسوخ اور ایک کم زور شاہی نظام کے باعث داخلی کم زوریوں کا شکار تھا۔ ایسے ماحول میں ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والا نوجوان فوجی افسر (ناصر) تاریخ کے افق پر نمودار ہوا۔ اُس نے نہ صرف مصر، بل کہ پورے عرب خطے کی سیاست کا رُخ بدلنے کی کوشش کی۔
ناصر 1918 میں اسکندریہ میں پیدا ہوئے۔ ناصر کے والد سرکاری ملازم تھے اور ملازمت کے باعث خاندان کو مصر کے مختلف شہروں میں رہنا پڑا۔ اس مسلسل نقلِ مکانی نے نوجوان ناصر کو مصری معاشرے کی مختلف شکلوں سے گہری واقفیت عطا کی… کہیں غریب کسان، کہیں شہری مزدور اور کہیں وہ اشرافیہ جو اقتدار کے قریب تھی۔ یہ سماجی و طبقاتی تضاد اُن کے ذہن میں ایک سوال بن کر ابھرا کہ ایک ہی ملک میں زندگی اتنی مختلف کیوں ہے؟
نوجوانی کے دنوں ہی میں مصر کی سڑکوں پر سیاسی بے چینی موجود تھی۔ استعماری برطانوی موجودگی، معاشی مشکلات اور سیاسی عدم استحکام نے طلبہ اور نوجوانوں کو احتجاج پر آمادہ کر رکھا تھا۔ ناصر بھی ان مظاہروں کا حصہ بنے۔ مذکورہ تجربات نے اُن کے اندر یہ احساس راسخ کیا کہ قوم کی عزت اور خود مختاری محض نعرہ نہیں، بل کہ ایک مسلسل جد و جہد ہے۔
فوجی زندگی میں داخل ہونے کے بعد جمال عبدالناصر کے نظریات مزید واضح ہوتے گئے۔ قاہرہ کی فوجی اکیڈمی میں تعلیم نے اُنھیں نظم و ضبط عطا کیا، مگر اس سے بھی زیادہ اہم وہ رفاقتیں تھیں، جو دوسرے نوجوان افسروں کے ساتھ قائم ہوئیں۔ انھی افسروں کے ساتھ مل کر ناصر نے مستقبل کے مصر کا خواب دیکھنا شروع کیا۔
1948 کی عرب اسرائیل جنگ اس خواب کے لیے ایک فیصلہ کن لمحہ ثابت ہوئی۔ اس جنگ میں جمال عبدالناصر نے محاذ پر لڑتے ہوئے عرب فوجوں کی کم زوری اور سیاسی قیادت کی نااہلی کو قریب سے دیکھا۔ اس شکست نے اُنھیں اندر سے بدل دیا اور یہ احساس دلایا کہ اگر عرب معاشرے اپنی کم زوریوں کا علاج نہ کریں، تو انھیں مسلسل ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی فکر نے فوج کے اندر ایک خفیہ حلقے کو جنم دیا، جسے بعد میں ’’فری آفیسرز‘‘ کے نام سے جانا گیا۔ یہ نوجوان افسران مصر کے سیاسی نظام میں بنیادی تبدیلی چاہتے تھے۔ اُن کا یقین تھا کہ شاہی نظام نہ تو عوام کی نمایندگی کرتا ہے اور نہ قومی وقار کی حفاظت ہی کرسکتا ہے۔
1952 کی ایک رات مصر کی تاریخ بدل گئی۔ فوجی افسروں کے مذکورہ گروہ نے بغاوت کرکے شاہی اقتدار کا خاتمہ کر دیا اور بادشاہ فاروق کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ ابتدا میں قیادت جنرل نجیب کے ہاتھ میں آئی، لیکن جلد ہی یہ واضح ہوگیا کہ انقلاب کا اصل معمار ناصر ہی تھا۔
چند ہی برسوں میں جمال عبدالناصر مصر کے سب سے طاقت ور راہ نما بن گئے۔ اُن کی سیاست کا مرکز، قومی وقار اور سماجی انصاف تھا۔ اُن کا خیال تھا کہ ایک ایسا معاشرہ قائم ہونا چاہیے، جہاں کسان اور مزدور بھی قومی ترقی میں برابر کے شریک ہوں۔ اسی سوچ کے تحت زرعی اصلاحات کی گئیں، بڑی جاگیروں کو ختم کیا گیا اور صنعتوں کو ریاستی کنٹرول میں لیا گیا۔ قومی وسائل پر تمام عوام کا یک ساں حق تسلیم کیا گیا۔
جمال عبدالناصر کے دور کا سب سے ڈرامائی لمحہ 1956 میں سامنے آیا، جب اُنھوں نے اعلان کیا کہ نہر سوئز اب مصر کی ملکیت ہوگی۔ یہ نہر طویل عرصے سے برطانوی اور فرانسیسی مفادات کے زیرِ اثر تھی اور عالمی تجارت کے لیے بے حد اہم تھی۔ ناصر کے اس فیصلے نے مغربی طاقتوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ جلد ہی صورتِ حال ایک فوجی بحران میں تبدیل ہوگئی، جسے تاریخ میں سویز بحران کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ برطانیہ، فرانس اور اسرائیل نے مل کر مصر پر حملہ کر دیا۔ اگرچہ جنگی لحاظ سے مصر کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن عالمی دباو نے حملہ آور ممالک کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ اس واقعے نے ناصر کو عرب دنیا میں ایک ہیرو بنا دیا۔
جمال عبدالناصر کا سب بڑا خواب ’’عرب اتحاد‘‘ تھا۔ اُن کا یقین تھا کہ عرب دنیا کی تقسیم ہی اس کی سب سے بڑی کم زوری ہے۔ اسی نظریے کے تحت مصر اور شام نے مل کر یونائٹیڈ عرب ریپبلک قائم کی۔ اگرچہ یہ اتحاد زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا، لیکن اس نے عرب قوم پرستی کے جذبے کو نئی زندگی دی۔
سرد جنگ کے زمانے میں جمال عبدالناصر نے ایک محتاط خارجہ پالیسی اختیار کی۔ وہ مکمل طور پر مغرب کے ساتھ جانا چاہتے تھے اور نہ مشرقی بلاک کے ساتھ… لیکن جب مغربی ممالک نے مصر کی معاشی ضروریات میں تعاون سے گریز کیا، تو ناصر نے سوویت یونین کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار کرلیے۔ اسی تعاون کے نتیجے میں مصر میں عظیم الشان اسوان ڈیم تعمیر ہوا، جس نے مصر کی زراعت اور معیشت میں اہم کردار ادا کیا۔
ان باتوں کے باوجود جمال عبدالناصر کی زندگی صرف کام یابیوں سے عبارت نہیں تھی۔ 1967 کی جنگ، جسے ’’شش روزہ جنگ‘‘ کہا جاتا ہے، اُن کے سیاسی سفر کا سب سے مشکل لمحہ ثابت ہوئی۔ اس جنگ میں اسرائیل نے مصر اور اس کے اتحادیوں کو شکست دی اور مصر کو جزیرہ نما سینا سے ہاتھ دھونا پڑا۔ یہ واقعہ ناصر کے لیے شدید صدمہ تھا اور عرب دنیا کے لیے بھی ایک تلخ حقیقت تھا۔ اس کے باوجود اُن کی شخصیت کی کشش مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ بہت سے عربوں کے لیے وہ اب بھی اُس خواب کی علامت ہیں، جس میں آزادی، اتحاد اور وقار کا تصور شامل تھا۔
1970 میں جمال عبدالناصر کا اچانک انتقال ہوا، تو قاہرہ کی سڑکوں پر انسانوں کا سمندر اُمڈ آیا۔ لاکھوں لوگ اپنے راہ نما کو آخری سلام پیش کرنے کے لیے نکل آئے۔ اُن کا جنازہ صرف ایک صدر کی رخصتی نہیں تھا، بل کہ ایک عہد کے اختتام کی علامت بھی تھا۔
جمال عبدالناصر کے بعد مصر کی سیاست کا رُخ بدل گیا اور اُن کے جانشین انور سادات نے مختلف راستہ اختیار کیا، مگر عرب دنیا کی سیاسی یادداشت میں اُن کا کردار آج بھی زندہ ہے۔ اُن کی تقاریر، اُن کا اندازِ قیادت اور اُن کے قومی وقار پر اصرار اب بھی ایک تاریخی حوالہ ہیں۔ شاید اسی لیے عرب دنیا میں آج بھی جب قومی وقار اور آزادی کی بات ہوتی ہے، تو کہیں نہ کہیں جمال عبدالناصر کا نام ضرور سنائی دیتا ہے۔ وہ ایک انسان تھے، اُن سے غلطیاں بھی ہوئیں، مگر اُنھوں نے ایک پوری نسل کو یہ یقین دلایا کہ تاریخ صرف طاقت ور قومیں نہیں بناتیں، بل کہ وہ قومیں بھی بناسکتی ہیں، جو خواب دیکھنے اور اُن کے لیے لڑنے کا حوصلہ رکھتی ہوں۔
عرب دنیا نے جمال عبدالناصر کے بعد ایسا لیڈر نہ دیکھا، جو عربوں کے وقار کی بات اسی جرات سے کرسکے… امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی وہی طاقت رکھتا ہو، عربوں کے وسائل پر عرب کے اختیار کی بات کرتا ہو، طبقاتی تقسیم کے خلاف کھڑا ہو اور عوام پر مطلق العنان بادشاہت کے خاتمے کی صدا بلند کرتا ہو۔ آج تک عرب دنیا اس بنجر پن کی قیمت چکا رہی ہے، جس نے لیڈر پیدا کرنے کی اپنی صلاحیت کھو دی ہے۔ (ختم شد!)
نمایاں اصطلاحات اور ان کی وضاحت:
1) قاہرہ (Cairo):۔  قاہرہ مصر کا دارالحکومت اور افریقہ کا سب سے بڑا شہر ہے، جو دریائے نیل کے کنارے واقع ہے۔ اسے ’’ہزار میناروں کا شہر‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ شہر قدیم تاریخ، اسلامی ورثے اور جدید زندگی کا امتزاج ہے۔
2) اسکندریہ (Alexandria, Egypt):۔ یہ مصر کا دوسرا بڑا شہر ہے، جو بحیرۂ روم کے کنارے واقع ہے اور اپنی تاریخی لائبریری و روشنی کے مینار (Pharos Lighthouse) کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور رہا۔ یہ شہر 331 قبل مسیح میں سکندرِ اعظم نے قائم کیا تھا اور آج بھی مصر کا سب سے اہم بندرگاہی و صنعتی مرکز ہے۔
2) ’’فری آفیسرز‘‘ (Free Officers):۔ یہ مصر کے فوجی افسران کا ایک خفیہ گروہ تھا، جس نے 23 جولائی 1952 کو بادشاہت کا تختہ اُلٹ کر انقلاب برپا کیا اور مصر کو جمہوریہ میں تبدیل کیا۔ اس تحریک کی قیادت محمد نجیب اور جمال عبدالناصر نے کی۔
3) نہر سویز (Suez Canal):۔ یہ دراصل مصر میں ایک مصنوعی آبی گزرگاہ ہے، جو بحیرۂ روم کو بحیرۂ احمر سے جوڑتی ہے اور یورپ و ایشیا کے درمیان سب سے مختصر سمندری راستہ فراہم کرتی ہے۔ یہ 1869 میں مکمل ہوئی اور آج بھی دنیا کی سب سے اہم تجارتی گذرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔
4) سویز بحران (Suez Crisis):۔ یہ 1956 کا ایک بین الاقوامی تنازع تھا، جو مصر کے صدر جمال عبدالناصر کے نہرِ سوئز کو قومی ملکیت میں لینے کے بعد شروع ہوا۔ برطانیہ، فرانس اور اسرائیل نے مصر پر حملہ کیا، مگر عالمی دباو کے باعث اُنھیں پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ نتیجتاً مصر سیاسی طور پر فاتح ثابت ہوا۔
5) یونائٹیڈ عرب ریپبلک (UAR):۔ یہ مصر اور شام کے درمیان ایک سیاسی اتحاد تھا، جو 1958 میں قائم ہوا۔ اس اتحاد کا مقصد عرب قوم پرستی اور اتحاد کو فروغ دینا تھا۔ جمال عبدالناصر اس کے سربراہ تھے۔ تاہم، 1961 میں شام نے علاحدگی اختیار کرلی اور یہ اتحاد ختم ہوگیا۔ مصر نے 1971 تک اپنے سرکاری نام کے طور پر ’’یونائٹیڈ عرب ریپبلک‘‘ استعمال کیا۔
6) سرد جنگ (Cold War):۔ یہ دراصل ایک طویل سیاسی و نظریاتی کش مہ کش تھی، جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان شروع ہوئی اور 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے پر انجام تک پہنچی۔ یہ بہ راہِ راست جنگ نہیں تھی، بل کہ سیاسی، معاشی، فوجی اور نظریاتی محاذوں پر مقابلہ تھی۔
7) اسوان ڈیم (Aswan High Dam):۔ یہ مصر میں دریائے نیل پر بنایا گیا ایک عظیم الشان بند ہے، جو جدید انجینئرنگ کا شاہ کار سمجھا جاتا ہے۔ یہ ڈیم 1970 میں مکمل ہوا اور مصر کی معیشت و توانائی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
تحریر میں شامل نمایاں اصطلاحات کی وضاحت ’’مائیکروسافٹ کوپائیلٹ‘‘ کی مدد سے کی گئی ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے