عالم پہ سہ دے او سید عالم پہ سہ دے!

Blogger Noor Muhammad Kanju

سائنس اور ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی نے آج انسان کے قدم چاند پر جما دیے ہیں اور اب وہاں انسانی بستیاں بسانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ کائنات کی وسعتوں کو تسخیر کرنے کا یہ جنون اس بات کی علامت ہونا چاہیے تھا کہ بنی نوع انسان اب رنگ، نسل اور ذات پات کے تنگ نظری کے حصار سے نکل کر ایک وسیع تر انسانی تشخص میں ڈھل چکا ہے… لیکن افسوس ناک صورتِ حال یہ ہے کہ جہاں دنیا ستاروں پر کمند ڈال رہی ہے، وہاں ہم اب بھی ماضی کے قبرستانوں سے نسلی تفاخر اور قبائلی تعصبات کے مردے نکال کر اُنھیں زندہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے پُرامن خطے بالعموم اور سوات و شانگلہ کے سنگلاخ مگر علم پرور علاقے بالخصوص آج ایک ایسی خطرناک لہر کی لپیٹ میں ہیں، جو صدیوں سے ساتھ رہنے والے بھائیوں کو چھوٹے چھوٹے نسلی گروہوں اور قبیلوں میں تقسیم کر رہی ہے۔ یہ صورتِ حال نہ صرف تشویش ناک ہے، بل کہ ہمارے معاشرتی ڈھانچے کے لیے ایک زہرِ قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔
صدیوں سے ان علاقوں میں بسنے والے لوگ ایک ہی تہذیب، ایک ہی زبان اور ایک ہی دین کے رشتے میں بندھے ہوئے تھے۔ یہاں کے کوہ ساروں نے کبھی یہ تفریق نہیں کی تھی کہ اُن کے دامن میں بسنے والا کون سا قبیلہ برتر ہے اور کون سا کم تر… لیکن اچانک پیدا ہونے والی اس نسلی منافرت کے پیچھے چھپے مقاصد پر غور کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
جب بھی کسی معاشرے میں سیاسی یا معاشی مفادات کا حصول مشکل ہو جاتا ہے، تو مخصوص گروہ عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے جذباتی نعروں کا سہارا لیتے ہیں۔ نسلی تفاخر ایک ایسا ہی جذباتی ہتھ یار ہے، جسے استعمال کرکے لوگوں کو تقسیم کرنا نہایت آسان ہوتا ہے۔ اس لہر کے پیچھے وہ طاقتیں کار فرما ہوسکتی ہیں، جو اس خطے کے اتحاد کو پارہ پارہ کرکے اپنے مخصوص سیاسی ایجنڈے کی تکمیل چاہتی ہیں۔ جب لوگ قبیلوں میں بٹ جائیں گے، تو اُن کی اجتماعی قوت ختم ہو جائے گی اور وہ باآسانی استحصالی قوتوں کا شکار بن جائیں گے۔
ذات پات اور نسل پرستی کا یہ بت اس وقت سب سے زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے، جب اسے برتری کا معیار بنا لیا جائے۔ خود کو دوسروں سے اعلا اور برتر سمجھنے کی یہ نفسیاتی بیماری انسانیت کی توہین ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے نسل کو بنیاد بنا کر خود کو برتر سمجھا، اس کا انجام تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہ نکلا۔ سوات اور شانگلہ جیسے علاقوں میں، جہاں شرح خواندگی اور شعور کی سطح بلند ہونی چاہیے تھی، وہاں اس قسم کے رجحانات کا پنپنا اس بات کی دلیل ہے کہ ہم نے تعلیم تو حاصل کرلی مگر تربیت کے اس مرحلے سے محروم رہ گئے، جو انسان کو وسیع القلب بناتا ہے۔ برتری کا معیار تقوا، علم اور انسانیت کی خدمت ہونا چاہیے تھا، نہ کہ وہ خون جو سب کی رگوں میں ایک ہی رنگ کا دوڑ رہا ہے۔
ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم سب اس بات پر کامل ایمان رکھتے ہیں کہ پوری انسانیت ایک ہی مرد اور ایک ہی عورت، یعنی آدم اور حوا کی اولاد ہے۔ اس عقیدے کے علم بردار ہونے کے باوجود جب ہم نسل پرستی کی آڑ میں ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں ہوتے ہیں، تو یہ ہمارے قول و فعل کے تضاد کو آشکار کرتا ہے۔ جس دین اور جس ثقافت نے ہمیں مساوات کا درس دیا، آج ہم اُسی کے بنیادی اُصولوں کو پسِ پشت ڈال کر جہالت کے اس دور میں واپس جا رہے ہیں، جہاں انسان کی پہچان اس کے کام یا کردار سے نہیں، بل کہ اس کے قبیلے سے ہوتی تھی۔ یہ تضاد ہمارے معاشرے کے فکری زوال کی واضح نشانی ہے کہ ہم ایک طرف تو آفاقی سچائیوں کا دعوا کرتے ہیں اور دوسری طرف معمولی نسلی اختلافات پر اپنے بھائی کا خون بہانے پر تلے بیٹھے ہیں۔
اگر ہم ترقی یافتہ اقوام کی تاریخ کا مطالعہ کریں، تو معلوم ہوتا ہے کہ اُنھوں نے ان تعصبات کو صدیوں پہلے دفن کر دیا تھا۔ اُن کی ترقی کا راز ہی اس بات میں پوشیدہ ہے کہ اُنھوں نے فرد کی صلاحیت کو اُس کی نسل یا ذات پر مقدم رکھا۔ اُنھوں نے سیکھا کہ ایک متحد قوم ہی عالمی سطح پر اپنا لوہا منوا سکتی ہے۔ اس کے برعکس ہم آج بھی انھی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں، جن سے دنیا نجات پاچکی ہے۔
سوات اور شانگلہ کے غیور عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ دشمن کی چال بہت گہری ہے۔ ہمیں تقسیم کرکے وہ دراصل ہماری امنگوں اور ہماری ترقی کے خوابوں کو قتل کرنا چاہتا ہے۔ اگر ہم نے بروقت ہوش کے ناخن نہ لیے اور ان چھوٹے چھوٹے قبیلوں کے خول سے باہر نہ نکلے، تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم نسلی تفاخر کے اس بت کو پاش پاش کرکے دوبارہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں، تاکہ چاند پر بستیاں بسانے والے دور میں کہیں ہم زمین پر اپنی شناخت ہی نہ کھو بیٹھیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے