پاکستان کا ابھرتا ہوا سفارتی کردار

Blogger Ikram Ullah Arif

جب مَیں یہ سطور لکھ رہا ہوں، تو تقریباً پورا پاکستان خوش ہے… اور یہ خوشی بہ جا بھی ہے کہ خدا نے پاکستان ہی کو یہ صلاحیت بخشی کہ ایک خوں ریز جنگ کو کچھ دنوں کے لیے معطل کرنے کا سامان کیا۔ دعا ہے کہ یہ جنگ بندی دائمی ہو اور اس خطے کے تمام لوگ خوشیوں بھری زندگی گزار سکیں۔ کسی کے وہم و گماں میں بھی نہ تھا کہ پاکستان یہ معرکہ بھی انجام دے گا۔
بالکل ایسا ہی ہوا، جب جنگ کے آغاز پر کسی کے خیال میں بھی نہیں تھا کہ ایران اتنا شدید ردِعمل دکھائے گا، مگر پھر ایک ماہ سے زائد جاری رہنے والی جنگ میں ایرانی قوم کا اتحاد، نظام کی ثبات اور فوجی و سیاسی ردِعمل نے پوری دنیا کو ششدر کر دیا۔
بعینہٖ، پاکستان کے بارے میں عالمی سطح پر، خاص طور پر نائن الیون (9/11) کے بعد، جو تاثر قائم کیا گیا تھا— یعنی پاکستان کا نام صرف بم دھماکوں، بدامنی، طالبان اور مایوسی کے ساتھ منسلک کیا گیا تھا— اس کے بعد یہ ممکن نظر نہیں آ رہا تھا… مگر وہ جو کہتے ہیں ناں کہ ’’کون جانے آسمانوں میں کیا فیصلے ہوتے ہیں۔‘‘
ہم سب کو معلوم ہے کہ پاکستان معاشی طور پر کم زور، بل کہ حقیقتاً اپنوں اور غیروں کا مقروض ملک ہے۔ آبادی بہت زیادہ اور وسائل ناکافی ہیں۔ اپنی پیدایش کی پہلی نصف صدی میں دو لخت بھی ہوچکا ہے۔ مشرقی پڑوسی سے ازلی دشمنی اور اب مغربی پڑوسی سے حالتِ جنگ میں ہے۔
ایران کے ساتھ 900 کلومیٹر طویل سرحد بھی رکھتا ہے اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدوں میں بھی شامل ہے۔ ایران اور سعودی عرب طویل عرصے تک شیعہ ازم اور وہابی ازم کو عالم گیر بنانے کے تناظر میں مدمقابل رہے ہیں، اس لیے پاکستان کے لیے دونوں کے ساتھ تعلقات نبھانا ’’پلِ صراط‘‘ پر چلنے سے کم نہیں۔
اسی طرح پاک چین دوستی ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے، تو امریکہ کا پاکستان کو مذاکرات کے لیے ثالث بنانا بھی کسی سیاسی اور تزویراتی معجزے سے کم نہیں۔
پاکستانیوں کی حالیہ پیش رفت پر خوشی یقیناً بنتی ہے۔ کیوں کہ 70 سے زائد ممالک کے سربراہان، دانش وران اور اہم شخصیات نے پاکستان کے ثالثی کردار کو اچھے الفاظ میں سراہا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ایران میں ’’تشکرِ پاکستان ریلی‘‘ کے بعد پاکستان سے محبت میں ایک خوب صورت نغمہ بھی نشر کیا گیا، جس میں پاک-ایران دوستی اور پاکستان کی امن پسندی کو اجاگر کیا گیا ہے۔
اسی طرح سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور ملائیشیا نے بھی پاکستانی کردار کو سراہا ہے۔ البتہ دبئی، بھارت اور اسرائیل کے ردِعمل کو دیکھا جائے، تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تینوں ممالک پاکستانی کردار کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں، بل کہ شاید اس کوشش میں بھی ہیں کہ مذاکرات ناکام ہوں اور جنگ کو دوام حاصل ہو۔
اگر ایسا ہوتا ہے، تو نقصان پاکستان کا نہیں، بل کہ سب سے زیادہ دبئی اور اسرائیل کا ہوگا۔ کیوں کہ وہ بہ راہِ راست ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی زد میں ہیں… اور بھارت کی عالمی سفارتی حکمتِ عملی سمیت ایران کے ساتھ دو طرفہ تعلقات بھی سوالیہ نشان بن جائیں گے۔
لہٰذا پاکستانیوں کو خوش ہونا چاہیے کہ جو کام پوری دنیا کی بہتری کے لیے ہے، اسی کے لیے اسلام آباد کا انتخاب کیا گیا… لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اہم ثالثی کرانے سے پاکستان کے اپنے دیرینہ مسائل یک دم ختم نہیں ہو جائیں گے۔
آبادی کی بے ہنگم بڑھوتری، موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصانات، معاشی مخدوش صورتِ حال، سیاسی آزادیوں کی عدم موجودگی، سماجی ارتقا پر عدم توجہ اور افغانستان کے ساتھ جاری کشیدگی… یہ سب اندرونی مسائل کی ایک طویل فہرست ہیں۔ ان اندرونی مسائل سے نجات حاصل کیے بغیر عالمی سطح پر ایک خوددار اور ذمے دار ریاست کا تاثر شاید پائیدار نہ رہ سکے۔ اس لیے مؤدبانہ گزارش ہے کہ خوشی ضرور منائیں، کیوں کہ امن کی بات اور صلح کے لیے اٹھائے گئے اقدام قابلِ ستایشِ ہیں اور خوشی کے لائق بھی ہیں، مگر اندرونی مسائل سے غفلت بھی نہیں برتنی چاہیے۔
اب وقت آ چکا ہے کہ خاص طور پر دبئی میں پاکستانیوں کی جائیدادیں (جن کی تفصیلات ’’دبئی لیکس‘‘ میں موجود ہیں) واپس پاکستان لائی جائیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے کراچی اور گوادر بندرگاہوں کو نئی زندگی عطا کی ہے، اسی کو برقرار رکھنے کے لیے اندرونی سطح پر امن، سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کے لیے یک سوئی کے ساتھ کام کرنا چاہیے… تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی اور ثالثی کروا کر جو مثبت تاثر عالمی سطح پر پیدا کیا گیا ہے، اسے ضائع نہ ہونے دیا جائے، بل کہ مزید آگے بڑھایا جائے۔
اقبالؔ نے کیا خوب کہا تھا:
اگر جواں ہو مری قوم کے جسور و غیور
قلندری مری کچھ کم سکندری سے نہیں
مشکل اصطلاحات اور ان کی وضاحت:
1) ’’نائن الیون‘‘ (9/11):۔ سے مراد 11 ستمبر 2001 عیسوی کا دن ہے، جب امریکہ میں دہشت گرد حملے ہوئے اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر سمیت کئی عمارتیں تباہ ہوئیں۔ یہ واقعہ عالمی سیاست، سلامتی اور خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلی کا سبب بنا۔
2) ’’شیعہ ازم اور وہابی ازم‘‘ (Shiaism & Wahhabism):۔ شیعہ ازم اور وہابی ازم اسلام کے دو مختلف رجحانات ہیں۔ شیعہ ازم ایک بڑا مذہبی مکتب ہے، جو خلافت و امامت کے تصور پر مرکوز ہے، جب کہ وہابی ازم ایک اصلاحی تحریک ہے، جو سخت توحید اور بدعت کے خلاف جد و جہد پر زور دیتی ہے۔
3) ’’دبئی لیکس‘‘ (Dubai Unlocked):۔ یہ ایک عالمی صحافتی تحقیق ہے، جس میں دبئی کی جائیدادوں کے ریکارڈ افشا ہوئے اور دنیا بھر کے سیاسی و کاروباری افراد کی ملکیت سامنے آئی۔
تحریر میں شامل نمایاں مشکل اصطلاح کی وضاحت ’’مائیکروسافٹ کوپائیلٹ‘‘ کی مدد سے کی گئی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے