پاکستان کی سیاسی تاریخ میں 1970 عیسوی کی دہائی ایک ایسے موڑ کی حیثیت رکھتی ہے، جہاں ریاست، جمہوریت اور طاقت کے مراکز کے درمیان کش مہ کش نہ صرف عروج پر تھی، بل کہ اس نے آنے والی دہائیوں کی سمت بھی متعین کی۔ ملک ایک غلط سمت میں چل نکلا اور آج بھی اسی پر خراماں خراماں رواں ہے۔
30 مارچ 1973 عیسوی کو سامنے آنے والا واقعہ، جسے عموماً ’’اٹک سازش کیس‘‘ کہا جاتا ہے، دراصل اسی کش مہ کش کی ایک جھلک تھا۔ اس واقعے کو سمجھنے کے لیے اس زمانے کے سیاسی ماحول، ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت، اور فوج کے اندر پائے جانے والے اضطراب کو ایک ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔
1971 عیسوی میں ملک کے ٹوٹنے، یعنی مشرقی پاکستان کی علاحدگی اور بنگلہ دیش کے قیام کے بعد، پاکستان شدید سیاسی اور نفسیاتی بحران سے گزر رہا تھا۔ ایسے میں بھٹو ایک طاقت ور سیاسی راہ نما کے طور پر ابھرے، مگر اُن کی حکومت پر آمرانہ رجحانات کے الزامات بھی لگنے لگے۔ فوج، جو پہلے ہی سقوط کے صدمے میں تھی اور شاید اپنے زخم چاٹ رہی تھی، مبینہ طور پر اندرونی طور پر تقسیم اور بے چینی کا شکار تھی۔ ایسے ماحول میں کچھ درمیانے اور نچلے درجے کے فوجی افسران نے یہ احساس کیا کہ ملک کی قیادت نااہل ہاتھوں میں ہے اور ایک بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔
اسی پس منظر میں بریگیڈیئر ایف بی علی، لیفٹیننٹ کرنل شاہد بشیر اور چند دیگر افسران نے ایک خفیہ منصوبہ تیار کیا۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد بھٹو حکومت کو ہٹا کر ایک ’’انقلابی‘‘ یا عبوری حکومت قائم کرنا تھا۔ اس سازش میں شامل افراد کا تعلق مختلف نظریاتی پس منظر سے تھا، مگر ایک قدرِ مشترک یہ تھی کہ وہ اُس وقت کے موجود نظام سے شدید مایوس تھے۔ اُن میں اکثریت بائیں بازو کے خیالات کی حامل تھی، جو سوشلسٹ طرز کی ریاست چاہتے تھے، جب کہ کچھ دیگر محض فوجی نظم و ضبط اور ’’قومی نجات‘‘ کے نام پر تبدیلی لانا چاہتے تھے۔
حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے بیانیے کے مطابق، اس سازش کا مقصد نہ صرف سویلین حکومت، بل کہ فوجی قیادت کو بھی ہٹانا تھا، اور پھر ائیر مارشل اصغر خان کی سربراہی میں ایک نئی حکومت قائم کرنا تھا، جو اس وقت خود بھی بائیں بازو کے نظریات سے متاثر اور مساوات کے حامی تھے۔ تاہم اس دعوے پر ہمیشہ سوال اٹھتے رہے۔ خود اصغر خان (مرحوم) نے اس منصوبے میں بہ راہِ راست شمولیت کی تردید کی اور کئی مبصرین کے نزدیک یہ نام محض زیبِ داستاں کے لیے استعمال کیا گیا، تاکہ مبینا سازش کو ایک سیاسی رنگ دیا جاسکے اور اسے زیادہ سنگین اور ڈرامائی بناکر پیش کیا جاسکے۔
یہ سازش اُس وقت بے نقاب ہوئی، جب ایک شریک افسر اپنے اعصاب پر بوجھ برداشت نہ کرسکا اور معلومات حکام تک پہنچا دیں؛ یوں عین موقع پر سب کچھ آشکار ہوگیا۔ 30 مارچ 1973 عیسوی کو کئی افسران کو گرفتار کرلیا گیا اور بعد ازاں اٹک میں ایک خصوصی ٹربیونل کے ذریعے اُن پر مقدمہ چلایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ واقعہ ’’اٹک سازش کیس‘‘ کے نام سے معروف ہوا۔ مقدمے کی کارروائی خفیہ نوعیت کی تھی اور عوام تک جو معلومات پہنچیں، وہ زیادہ تر سرکاری بیانیے کے ذریعے آئیں، جس نے اس کیس کو مزید پُراسرار بنا دیا۔ مقدمے کی ساری کارروائی میں شفافیت کا فقدان رہا اور حکومتی بیانیہ عوامی حلقوں میں اکثر مضحکہ خیز بھی سمجھا گیا۔
اگر اس کیس کے محرکات کو گہرائی میں دیکھا جائے، تو یہ محض ایک فوجی بغاوت کی کوشش نہیں تھی، بل کہ ریاست کے اندر موجود مختلف نظریاتی دھاروں کے ٹکراو کی علامت تھی۔ ایک طرف بھٹو کی سویلین بالادستی کا دعوا تھا، تو دوسری طرف فوج کے کچھ حلقے خود کو ریاست کا حقیقی محافظ سمجھتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ بائیں بازو کی انقلابی سوچ بھی بعض افسران میں سرایت کرچکی تھی، جو بھٹو کے مساواتی بیانیے سے بھی آگے بڑھ کر ایک زیادہ ہمہ گیر نظام کے خواہاں تھے۔
گو کہ مقاصد کے لحاظ سے یہ سازش ایک واضح متبادل نظام دینے میں ناکام رہی۔ اگرچہ حکومت گرانا ایک ہدف تھا، مگر اُس کے بعد کیا ہوگا؟ اس پر مکمل اتفاق موجود نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض تجزیہ نگار اسے ایک ’’رومانوی انقلاب‘‘ کی ناکام کوشش قرار دیتے ہیں۔ ایسی کوشش جس میں جذبہ تو تھا، مگر عملی حکمتِ عملی اور وسیع عوامی حمایت کا فقدان تھا۔
دل چسپ اور شاید سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس پوری کہانی کا اصل فاتح کون نکلا؟ بہ ظاہر تو بھٹو حکومت نے اس سازش کو ناکام بنا کر اپنی گرفت مضبوط کی، مگر طویل المدتی تناظر میں دیکھا جائے، تو اس سے فوج کے اندر سیاست میں مداخلت کا دروازہ مزید کھل گیا۔ یہی وہ فضا تھی، جس میں چند سال بعد ضیاء الحق جیسے افسر ابھرے۔
ضیاء الحق نے 1977 عیسوی میں بھٹو حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھالا۔ اگرچہ وہ بہ راہِ راست اٹک سازش کیس کا حصہ نہیں تھے، مگر اس کیس نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ فوج کے اندر سیاسی مداخلت کا رجحان موجود ہے اور اسے مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاسکا۔ مزید یہ کہ بھٹو حکومت کی جانب سے فوجی افسران کے خلاف سخت کارروائیوں نے بھی فوج میں ایک ردِِعمل پیدا کیا، جس نے بعد میں ضیا کے اقتدار پر قبضے کو آسان بنایا۔
یوں دیکھا جائے تو اٹک سازش ایک ناکام بغاوت ضرور تھی، مگر اس کے اثرات دیرپا ثابت ہوئے۔ اس نے نہ صرف ریاستی بیانیے اور حقیقت کے درمیان فاصلے کو نمایاں کیا، بل کہ یہ بھی دکھایا کہ طاقت کی کش مہ کش میں وقتی کام یابی ہمیشہ حتمی فتح نہیں ہوتی۔ اس کہانی کا اصل سبق شاید یہی ہے کہ جب ادارے اپنی آئینی حدود سے تجاوز کرتے ہیں، تو تاریخ کا دھارا غیر متوقع سمتوں میں بہنے لگتا ہے… اور کبھی کبھی اصل فاتح وہ ہوتا ہے، جو منظر پر بعد میں آتا ہے، مگر حالات کو اپنے حق میں موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایک دوسرا نظریہ یہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ پاکستان نے سوویت یونین کے خلاف فرنٹ لائن اسٹیٹ کے طور پر خدمات انجام دینے میں عافیت سمجھی اور یوں سرمایہ دار ممالک کے زیرِ سایہ رہنے میں عافیت جانی۔ بھٹو کے دور سے افغان اپوزیشن، پاکستان میں پنپ رہی تھی اور اُن کی تربیت کا عمل جاری تھا۔ وقت آ پہنچا تھا کہ ’’بلی تھیلے سے باہر آئے‘‘، اور اس نوع کے بیانیوں کے پردے میں اصل کردار خود کو محافظ کے طور پر پیش کرنے لگے۔
بدقسمتی سے، دہائیوں سے اٹک سازش کیس کسی نہ کسی نام سے دہرایا جاتا رہا ہے۔ بھٹو سے لے کر آج تک ہر حکمر ان تقریباً اسی نوعیت کا ایک بیانیہ تشکیل دیتا رہا، فوائد کی امید باندھتا رہا، مگر اس کے حقیقی ثمرات حاصل نہ کرسکا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










