چے گویرا کی زندگی پر قلم اٹھانا محض ایک تاریخی شخصیت کی سوانح لکھنا نہیں، بل کہ بیس ویں صدی کی سیاسی ہل چل، نظریاتی کش مہ کش اور انقلابی خوابوں کی پوری داستان بیان کرنا ہے۔ وہ اُن چند لوگوں میں شامل تھے، جنھوں نے اپنی زندگی کو ایک نظریے کے ساتھ اس حد تک جوڑ دیا تھا کہ فرد اور نظریہ ایک دوسرے کا استعارہ بن گئے۔
چے گویرا کا نام آج بھی دنیا کے مختلف حصوں میں مزاحمت، بغاوت اور انصاف کی تلاش کی علامت کے طور پر لیا جاتا ہے۔ ان کی تصویر دیواروں، پوسٹروں اور کتابوں کے سر ورق پر نظر آتی ہے، مگر اس تصویر کے پیچھے ایک پیچیدہ انسان، ایک ڈاکٹر، ایک مفکر، ایک جنگ جو اور ایک خواب دیکھنے والا موجود تھا… یہی بات آج پڑھنے والوں کے سامنے رکھنی ضروری ہے۔
چے گویرا کی کہانی ارجنٹینا کے تیسرے بڑے شہر روساریو سے شروع ہوتی ہے، جہاں وہ 1928 عیسوی میں پیدا ہوئے۔ اُن کا اصل نام ’’ارنیستو گویرا‘‘ تھا۔ والد ارنیستو گویرا لنچ اور والدہ سیلیا دے لا سرنا ایک تعلیم یافتہ اور آزاد خیال گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ گھر میں کتابوں کی فراوانی تھی اور سیاسی و ادبی مباحث عام تھے۔ بچپن ہی سے چے گویرا کو دمے کی شدید بیماری لاحق تھی، جس نے اُن کے جسم کو کم زور مگر ارادے کو مضبوط بنا دیا۔ یہی وہ ابتدائی تجربہ تھا، جس نے چے گویرا میں مشکلات کا مقابلہ کرنے کی ضد پیدا کی۔
چے گویرا کا بچپن ارجنٹینا کے مختلف شہروں میں گزرا۔ کیوں کہ اُن کے والدین کو اُن کی صحت کے لیے بار بار ماحول بدلنا پڑتا تھا… مگر ہر جگہ چے گویرا کی دل چسپی مطالعے میں بڑھتی رہی۔ نوجوانی میں اُنھوں نے فلسفہ، تاریخ اور ادب کا گہرا مطالعہ کیا۔ اس پر خاص طور پر کارل مارکس، اینگلز اور ولادیمیر لینن کے نظریات کا اثر پڑا۔ مذکورہ مصنفین کی تحریروں نے اُن کے ذہن میں یہ تصور پیدا کیا کہ دنیا کی معاشی اور سماجی ناہم واریاں محض حادثاتی نہیں، بل کہ ایک مخصوص معاشی نظام کا نتیجہ ہیں۔
اسی دوران میں چے گویرا نے ڈاکٹر بننے کا فیصلہ کیا اور یونیورسٹی آف بیونس آئرس میں طب کی تعلیم حاصل کرنے لگے… مگر اُن کی فکری بیداری صرف کتابوں کے ذریعے نہیں ہوئی، بل کہ ایک سفر نے اُنھیں اندر سے بدل دیا۔ 1952 عیسوی میں اُنھوں نے اپنے دوست البرٹو گریناڈو کے ساتھ موٹر سائیکل پر جنوبی امریکہ کے سفر پر نکلنے کا فیصلہ کیا۔ یہ سفر چے گویرا کی زندگی کا ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔
مذکورہ سفر کے دوران میں انھوں نے چلی، پیرو، کولمبیا اور وینزویلا کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ وہاں چے نے مزدوروں، کسانوں اور مقامی آبادیوں کی غربت اور محرومی کو قریب سے دیکھا۔ پیرو میں ایک کوڑھیوں (جذام) کی کالونی میں چے نے مریضوں کے ساتھ کئی ہفتے گزارے۔ یہ تجربہ اُن کے لیے انسانی تکلیف کی ایک نئی حقیقت کا انکشاف تھا۔ اس سفر کی یادداشتیں بعد میں اُن کی کتاب The Motorcycle Diaries میں محفوظ ہوئیں۔
اس سفر کے بعد چے گویرا کی سوچ میں ایک واضح تبدیلی آگئی۔ اب وہ محض ایک ڈاکٹر نہیں رہنا چاہتے تھے، بل کہ اُنھیں یقین ہوگیا تھا کہ سماجی انصاف کے لیے سیاسی تبدیلی ضروری ہے۔ اسی زمانے میں وہ لاطینی امریکہ کے بائیں بازو کے حلقوں کے قریب آنے لگے۔ اُنھوں نے امریکہ کی خارجہ پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ کیوں کہ اُن کے نزدیک سامراجی اور استعماری مداخلت نے لاطینی امریکہ کے کئی ممالک میں آمریتوں کو تقویت دی۔
1955 عیسوی میں میکسیکو میں چے گویرا کی ملاقات ایک نوجوان کیوبن انقلابی فیڈل کاسترو سے ہوئی۔ یہی ملاقات اُن کی زندگی کا سب سے اہم موڑ ثابت ہوئی۔ کاسترو اُس وقت کیوبا میں آمریت کے خلاف مسلح بغاوت کی تیاری کر رہا تھا۔ کیوبا پر اس وقت فلخینسیو باتیستا کی حکومت تھی، جو دراصل امریکہ کی کٹھ پتلی سمجھی جاتی تھی۔
ارنیستو گویرا نے اس تحریک میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا اور جلد ہی وہ اس گروہ کے اہم رکن بن گئے۔ 1956 عیسوی میں کاسترو اور اُس کے ساتھیوں نے کشتی Granma کے ذریعے کیوبا کا رُخ کیا۔ ابتدا میں یہ مہم تقریباً ناکام ہوگئی۔ کیوں کہ حکومتی فوج نے اُن پر حملہ کر دیا اور صرف چند باغی ہی بچ سکے… مگر یہی چھوٹا سا گروہ بعد میں سیرا مائیسترا کے پہاڑوں میں گوریلا جنگ لڑنے لگا۔
یہاں چے گویرا نے نہ صرف ایک جنگ جو، بل کہ ایک نظریاتی راہ نما کے طور پر اپنی صلاحیتوں کو منوایا۔ چے گویرا نے گوریلا جنگ کے اصولوں پر ایک کتاب Guerrilla Warfare بھی لکھی، جس میں اُنھوں نے یہ نظریہ پیش کیا کہ ایک چھوٹا انقلابی گروہ، اگر عوامی حمایت حاصل کرلے، تو وہ ایک بڑی ریاستی فوج کو بھی شکست دے سکتا ہے۔
1959 عیسوی میں کیوبا کا انقلاب کام یاب ہوا اور باتیستا حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ انقلاب کے بعد چے گویرا کو نئی حکومت میں کئی اہم ذمے داریاں دی گئیں۔ وہ نیشنل بینک آف کیوبا کے سربراہ بنے اور بعد میں محکمۂ صنعت کے وزیر بھی رہے۔ اُنھوں نے معیشت کو سوشلسٹ خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کی۔ اُن کی معاشی سوچ کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ سوشلسٹ معیشت صرف مادی مراعات پر نہیں، بل کہ اخلاقی تحریک پر بھی قائم ہونی چاہیے۔ چے گویرا نے ’’نئے سوشلسٹ انسان‘‘ کا تصور پیش کیا، جو ذاتی مفاد کے بہ جائے اجتماعی بھلائی کو ترجیح دے۔
اسی دور میں امریکہ اور کیوبا کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہوگئے۔ 1961 عیسوی میں امریکہ کی حمایت یافتہ جَلاوطن قوتوں نے کیوبا پر حملہ کیا، جسے تاریخ میں Bay of Pigs Invasion کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ حملہ ناکام ہوگیا، مگر اس کے بعد کیوبا سرد جنگ کی سیاست کا ایک اہم مرکز بن گیا۔
چے گویرا کا وژن صرف کیوبا تک محدود نہیں تھا، بل کہ وہ عالمی انقلاب کے حامی تھے۔ اُنھوں نے افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے کئی ممالک کا دورہ کیا اور نوآبادیاتی نظام کے خلاف تحریکوں کی حمایت کی۔
1965 عیسوی میں چے گویرا خفیہ طور پر کانگو گئے، جہاں اُنھوں نے ایک انقلابی تحریک کی مدد کرنے کی کوشش کی، مگر یہ تجربہ کام یاب نہ ہوسکا۔ مقامی اختلافات اور تنظیمی کم زوریوں نے اس جد و جہد کو ناکام بنا دیا۔ اس کے بعد چے گویرا نے بولیویا کا رخ کیا، تاکہ ایک نئی گوریلا تحریک شروع کی جاسکے۔ اُن کا خیال تھا کہ یہاں سے پورے خطے میں انقلاب کی آگ پھیل سکتی ہے، مگر حالات اُن کے حق میں نہیں تھے۔
1967 عیسوی میں بولیویا کی فوج نے چے گویرا کو گرفتار کرلیا اور اگلے دن، 9 اکتوبر کو، لا ہیگوئیرا کے مقام پر اُنھیں گولی مار دی گئی۔ اُس وقت اُن کی عمر صرف 39 برس تھی۔
چے گویرا کی موت کے بعد اُن کی شخصیت ایک عالمی علامت بن گئی۔ فوٹوگرافر البرٹو کوردا کی لی ہوئی اُن کی تصویر دنیا کی سب سے مشہور انقلابی تصاویر میں شمار ہوتی ہے۔ پاکستان اور جنوبی ایشیا میں بھی چے گویرا کے نظریات نے بائیں بازو کی سیاست کو متاثر کیا۔ 1960 عیسوی اور 1970 عیسوی کی دہائی میں کئی نوجوان اُنھیں مزاحمت کی علامت سمجھتے تھے۔
چے گویرا کی زندگی تضادات سے بھری ہوئی تھی۔ وہ ایک حساس انسان ہونے کے ساتھ ساتھ سخت گیر انقلابی بھی۔ اُن کے مداح اُنھیں مظلوموں کا ہیرو کہتے ہیں، جب کہ ناقدین اُنھیں ایک متنازع شخصیت قرار دیتے ہیں… مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ اُنھوں نے بیس ویں صدی کی سیاست پر گہرا اثر ڈالا۔
چے گویرا کی زندگی ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ تاریخ صرف ریاستوں اور حکومتوں سے نہیں بنتی، بل کہ بعض اوقات ایک فرد بھی اپنے نظریے اور جرات کے ذریعے ایک پورے عہد کی علامت بن جاتا ہے۔
پی کیپ، گاڑیوں اور دیواروں پر چے گویرا کی تصویر یا اُن کی مخصوص کیپ پہنے کوئی شخص نظر آئے، تو اُس عظیم انقلابی کو یاد کریں، جنھوں نے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف اور مزدوروں، کسانوں اور محروم طبقات کے لیے اپنی زندگی وقف کی، جد و جہد کی، لڑے اور مار دیے گئے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










