آئین، ’’پریزن کوڈ‘‘ اور عدالتی ذمے داری 

Blogger Advocate Naseer Ullah

پاکستان کے آئینی نظام میں یہ اصول بنیادی حیثیت رکھتا ہے کہ ریاستی ادارے، عدالتیں اور انتظامیہ سب آئین اور قانون کے تابع ہیں۔ جب کسی معاشرے میں بنیادی انسانی حقوق معطل ہونے لگیں، شنوائی میں تاخیر ہو اور انصاف کے عمل پر سوالات اٹھنے لگیں، تو اس صورتِ حال میں وکلا کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے۔ وکلا نہ صرف عدالتوں میں قانونی چارہ جوئی کے ذریعے انصاف کی راہ ہم وار کرتے ہیں، بل کہ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکم رانی کے لیے آواز بھی بلند کرتے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں وکلا نے کئی مواقع پر عدالتی نظام کو فعال بنانے اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ جب عدالتوں پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ مقدمات کے فیصلوں میں غیر ضروری تاخیر کرتی ہیں، یا ریاستی اداروں کے دباو میں فیصلے کرتی ہیں، تو اس سے انصاف کے نظام پر عوام کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ عدالتوں کی بنیادی ذمے داری یہ ہے کہ وہ ہر مقدمے میں آزادانہ، شفاف اور غیر جانب دارانہ انصاف فراہم کریں۔
اگر کسی سیاسی کارکن یا راہ نما کے خلاف مقدمات بنائے جائیں، تو عدالتوں کا فرض ہے کہ وہ تحقیقات اور شواہد کی بنیاد پر فیصلے کریں۔ محض تکنیکی نِکات یا غیر ضروری تاخیر انصاف کے عمل کو کم زور کرتی ہے۔ انصاف کی تاخیر دراصل انصاف سے انکار کے مترادف سمجھی جاتی ہے۔
پاکستانی معاشرے میں اس وقت کئی طرح کے بحران دیکھنے کو ملتے ہیں۔ مہنگائی، سیاسی کشیدگی، دہشت گردی، اور انتظامی مسائل نے عوامی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ ایسے حالات میں ریاستی اداروں، خاص طور پر عدلیہ، پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قانون اور آئین کی بالادستی کو یقینی بنائیں۔ اگر عوام کو یہ محسوس ہو کہ انصاف کے ادارے اپنی ذمے داری پوری نہیں کر رہے، تو اس سے ریاستی ڈھانچے پر اعتماد کم زور ہوسکتا ہے۔
قیدیوں اور زیرِ حراست افراد کے حقوق کے حوالے سے پاکستان کے قوانین واضح ہیں۔ "Prisons Act 1894” اور ’’جیل رولز‘‘ کے تحت ہر قیدی کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمے داری ہے۔ قیدی اپنی آزادی سے محروم ضرور ہوتا ہے، لیکن وہ اپنے بنیادی انسانی حقوق سے محروم نہیں ہوتا۔ اسی لیے قانون قیدی کو اپنے خاندان سے ملاقات، وکیل سے مشاورت اور مناسب طبی علاج کی سہولت فراہم کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 10-A ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل کا حق دیتا ہے۔ اس حق کا ایک لازمی جزو یہ ہے کہ ملزم کو اپنے وکیل تک رسائی حاصل ہو۔ اگر کسی زیرِ حراست شخص کو وکیل سے ملاقات کی اجازت نہ دی جائے، تو یہ انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح جیل قوانین کے مطابق قیدی کے اہل خانہ کو بھی مخصوص ضوابط کے تحت ملاقات کی اجازت ہوتی ہے۔
طبی سہولیات کے حوالے سے بھی جیل قوانین واضح ہیں۔ ہر جیل میں میڈیکل آفیسر کی موجودگی لازمی ہوتی ہے اور اگر کسی قیدی کی صحت خراب ہو، تو اسے سرکاری ہسپتال منتقل کیا جاسکتا ہے۔ بعض حالات میں عدالت کی اجازت سے قیدی کا معائنہ نجی معالج سے بھی کروایا جاسکتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ قیدی کی صحت اور جان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
اگر کسی قیدی کے حوالے سے یہ شکایات سامنے آئیں کہ اسے وکیل سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، خاندان کو ملاقات سے روکا جا رہا ہے، یا مناسب علاج فراہم نہیں کیا جا رہا، تو اس کا قانونی حل موجود ہے۔ ایسے معاملات میں متعلقہ عدالتوں، خصوصاً ہائی کورٹس، میں آئینی درخواست (Writ Petition) دائر کی جاسکتی ہے۔ عدالتیں ایسے معاملات میں جیل حکام سے وضاحت طلب کرتی ہیں اور ضرورت پڑنے پر ملاقات، طبی معائنہ یا ہسپتال منتقلی کے احکامات جاری کرسکتی ہیں۔
اگر کسی زیرِ حراست شخص کے بارے میں یہ شکایات سامنے آئیں کہ اسے وکیل سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، خاندان کو ملاقات سے روکا جا رہا ہے، یا اس کے علاج کے حوالے سے مناسب اقدامات نہیں کیے جا رہے، تو یہ معاملہ محض سیاسی نہیں، بل کہ آئینی اور قانونی حقوق کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ ایسے حالات میں وکلا کا فرض ہوتا ہے کہ وہ عدالتوں کے ذریعے ان حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی اقدامات کریں۔
اس تناظر میں بعض حلقوں کی رائے یہ ہے کہ اگر مقدمات طویل عرصے تک زیرِ التوا رہیں اور قیدیوں کے بنیادی حقوق کے حوالے سے خدشات پیدا ہوں، تو وکلا کو منظم اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں ایک تجویز یہ بھی دی جاتی ہے کہ پہلے مرحلے میں آئی ایل ایف (انصاف لائرز فورم) کے وکلا کو پاکستان کی تمام صوبائی ہائی کورٹس، خصوصاً اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے باہر احتجاجی یا ہڑتالی کیمپ قائم کرنے چاہییں، تاکہ عدالتی توجہ اس مسئلے کی طرف مبذول کروائی جاسکے۔
اس کے بعد دوسرے مرحلے میں یہ مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ جب تک عمران خان اور دیگر سیاسی قیدیوں کے مقدمات کی سماعت مؤثر انداز میں شروع نہیں ہوتی، اس وقت تک عدالتی احاطوں اور بار رومز میں صبح و شام احتجاجی دھرنا جاری رکھا جائے۔ اس مطالبے کا مقصد یہ بتایا جاتا ہے کہ عدالتوں کو اس بات کی یاد دہانی کروائی جائے کہ انصاف کی فراہمی میں تاخیر عوامی اعتماد کو متاثر کرسکتی ہے۔
اسی طرح یہ مطالبہ بھی سامنے آتا ہے کہ جیل قوانین کے مطابق قیدیوں کو وکلا، اہلِ خانہ اور ذاتی معالجین تک رسائی فراہم کی جائے۔ اگر کسی قیدی کی صحت کے حوالے سے تشویش موجود ہو، تو اسے مناسب طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور ضرورت پڑنے پر اسے کسی مستند ہسپتال، جیسے الشفاء ہسپتال یا کسی اور مناسب طبی مرکز، منتقل کیا جائے تاکہ علاج کے تقاضے پورے کیے جاسکیں۔
قانونی اصول کے مطابق ایسے تمام مطالبات کا حتمی فیصلہ عدالتوں کو کرنا ہوتا ہے۔ وکلا کا کردار یہ ہے کہ وہ عدالتوں کے سامنے دلائل اور قانونی نِکات پیش کریں اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے آئینی راستہ اختیار کریں۔ احتجاج یا دھرنے کا مقصد بھی اسی وقت مؤثر ہوتا ہے، جب وہ آئین اور قانون کی حدود کے اندر رہتے ہوئے انصاف کے مطالبے کو اجاگر کرے۔
پاکستان میں مقدمات کی تاخیر ایک بڑا مسئلہ ہے۔ لاکھوں مقدمات عدالتوں میں زیرِ التوا ہیں جس کی وجہ سے انصاف کی فراہمی سست ہو جاتی ہے۔ اس مسئلے کا تعلق صرف کسی ایک سیاسی مقدمے سے نہیں، بل کہ پورے عدالتی نظام کی ساختی کم زوریوں سے ہے۔ اس کے حل کے لیے عدالتی اصلاحات، ججوں کی تعداد میں اضافہ اور مقدمات کے مؤثر انتظام کی ضرورت ہے۔
ایسے حالات میں وکلا کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ وکلا آئین کے محافظ اور قانون کے عملی نفاذ کے لیے ایک اہم ستون سمجھے جاتے ہیں۔ اگر کسی معاملے میں بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہوں، تو وکلا عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں اور قانونی دلائل کے ذریعے انصاف کی راہ ہم وار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ احتجاج بھی ایک جمہوری حق ہے، تاہم اس کا مقصد ہمیشہ آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے انصاف کے حصول کو یقینی بنانا ہونا چاہیے۔
بالآخر کسی بھی جمہوری معاشرے کی بقا اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ وہاں قانون کی حکم رانی قائم ہو اور انصاف کے ادارے آزادانہ طور پر کام کریں۔ قیدیوں کے حقوق، وکیل تک رسائی اور طبی سہولیات جیسے معاملات صرف کسی ایک فرد یا سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں، بل کہ آئین اور قانون کی بالادستی کا سوال ہیں۔ جب ریاست اپنے قوانین کے مطابق شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرتی ہے، تو اس سے نہ صرف انصاف قائم ہوتا ہے، بل کہ ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد بھی مضبوط ہوتا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے