آج کے دور میں ریاست کو اکثر اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے گویا وہ کوئی ایسی مقدس ہستی ہو، جس پر سوال اٹھانا مناسب نہ ہو اور جو معاشرے سے بالا تر مقام رکھتی ہو۔ وزرا اور سرکاری اہل کار بعض اوقات ایسی تعبیرات اختیار کرتے ہیں، جن سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ ریاست عام تنقید سے ماورا ہے، یا کسی فرد کی اہمیت اس کی ریاستی اقتدار سے قربت سے متعین ہوتی ہے۔
جب یہ کہا جاتا ہے کہ ’’پاکستان ہے، تو ہم ہیں‘‘ تو یہ جملہ ایک خاص ذہنی ساخت کی نمایندگی کرتا ہے، جس میں ریاست کو انسانی وجود کی بنیاد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس طرزِ فکر میں یہ خطرہ پوشیدہ ہے کہ عارضی منصب دار خود کو ریاست کا امین سمجھنے کے بہ جائے خود ہی کو ریاست کا مظہر سمجھنے لگیں۔
تاریخی حقیقت اس تصور سے مختلف ہے۔ اس خطے کے باشندے، پاکستان کے قیام سے بہت پہلے بھی موجود تھے۔ یہاں کے معاشرے مغل، درّانی، سکھ اور برطانوی ادوار سمیت مختلف سیاسی نظاموں سے گزرے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ معاشرہ تاریخی طور پر ریاست پر مقدم ہے۔ ریاست ایک سیاسی و انتظامی ادارہ ہے، جسے مخصوص حالات میں انسانوں نے تشکیل دیا۔ جس طرح دیگر انسانی ادارے وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں، اسی طرح ریاست بھی تغیر پذیر ہے۔ اسے ابدی اور مقدس قرار دینا تاریخ اور شعور دونوں سے انحراف ہے۔
اوائلِ جدید کے سیاسی مفکرین نے بھی ریاست کو تقدیس کا درجہ نہیں دیا۔ ’’تھامس ہابز‘‘ (Thomas Hobbes) نے اسے بدامنی سے بچاو کا ایک انتظامی حل قرار دیا۔
’’جان لاک‘‘ (John Locke) نے حکومت کی مشروعیت کو عوامی رضا اور حقوق کے تحفظ سے مشروط کیا۔
’’والٹیئر‘‘ (Voltaire) جیسے مفکرین نے اندھی قوت پر تنقید کو لازم قرار دیا۔ اُن کے نزدیک ریاست ایک انسانی تدبیر تھی، نہ کہ ایسی ہستی جو احتساب سے بالا تر ہو۔
معاصر دور میں بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ امانت اور ملکیت کے فرق کو دھندلا دیا گیا ہے۔ ریاست کے پاس اپنی کوئی ذاتی دولت نہیں ہوتی؛ اس کے وسائل عوام کے ٹیکس، قومی اثاثوں اور اجتماعی محنت کا حاصل ہوتے ہیں… لیکن اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عوامی وسائل کو صواب دیدی اختیار سمجھ کر خرچ کیا جاتا ہے۔ بجٹ اور ترقیاتی منصوبوں کو بعض اوقات فیاضی کے انداز میں پیش کیا جاتا ہے، حالاں کہ وہ دراصل اجتماعی سرمائے کی تقسیم ہوتے ہیں۔ یوں برابری پر مبنی تعلق کی جگہ بالا دستی پر مبنی ڈھانچا قائم ہو جاتا ہے۔
’’وزیرِ اعظم لیپ ٹاپ اسکیم‘‘ اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ مقصد طلبہ کو ڈیجیٹل سہولت فراہم کرنا ہے، جو یقیناً قابلِ تحسین ہے۔ تاہم جب حکومت ہزاروں یا لاکھوں لیپ ٹاپ ایک مرکزی خریداری کے نظام کے تحت چند مخصوص کمپنیوں سے خریدتی ہے، تو معاشی فائدہ محدود ہاتھوں میں مرتکز ہو جاتا ہے۔ اگر اسی مقصد کے لیے مستحق طلبہ کو بہ راہِ راست مالی معاونت فراہم کی جاتی اور تعلیمی ادارے خریداری کی تصدیق کرتے، تو نہ صرف طلبہ کو انتخاب کا حق حاصل ہوتا، بل کہ ملک بھر کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار بھی اس معاشی سرگرمی میں شریک ہوسکتے تھے۔ اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ پالیسی کی نیت کے ساتھ ساتھ اس کا ادارہ جاتی ڈھانچا بھی فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے۔
ترقیاتی منصوبوں میں بھی یہی رجحان دیکھا جاسکتا ہے… جب نئی شاہ راہیں، انڈر پاس یا دیگر بنیادی سہولیات تعمیر کی جاتی ہیں، تو ان سے متصل مخصوص علاقوں کی زمینوں کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس اضافے کا بڑا فائدہ ان سرمایہ کاروں اور ہاؤسنگ اسکیموں کو پہنچتا ہے، جو پہلے سے ان زمینوں کے مالک ہوتے ہیں۔ یوں عوامی سرمایہ نجی منافع میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
کراچی میں بحریہ ٹاؤن کے لیے ٹیکس کے پیسے سے ایکسپریس وے تعمیر کی گئی۔ اسے عوامی سہولت کے طور پر پیش کیا گیا، مگر اس کا نمایاں نتیجہ بحریہ ٹاؤن کی اراضی کی قیمت میں اضافہ تھا۔ جب ریاست کسی نجی ہاؤسنگ منصوبے تک بہتر اور تیز رسائی فراہم کرتی ہے، تو وہ دراصل اس منصوبے کی مارکیٹ ویلیو میں اضافہ کرتی ہے۔ یہ اضافہ بلاواسطہ طور پر عوامی وسائل کے ذریعے ممکن ہوتا ہے، جسے معاشی اصطلاح میں سبسڈی کی ایک صورت قرار دیا جاسکتا ہے۔
بحریہ ٹاؤن کراچی خود بھی ایک متنازع منصوبہ رہا۔ اس پر عدالتی سطح پر تفصیلی بحث ہوئی اور بالآخر اسے قانونی حیثیت دی گئی، مگر اس پورے عمل کے دوران میں اس علاقے کے سیکڑوں قدیم دیہات ختم ہوگئے جو صدیوں سے آباد تھے۔ زمین حکومت نے فراہم کی اور نتیجتاً پرانی آبادیاں مٹ گئیں اور ان کی جگہ ایک وسیع نجی رہایشی منصوبہ قائم ہوگیا۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ریاستی ادارے کس حد تک قدیم آبادیوں اور مقامی حقوق کے تحفظ کے پابند ہیں۔
پشاور میں ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کے لیے رنگ روڈ سے ورسک روڈ کے ذریعے جمرود روڈ اور حیات آباد تک سڑک کی تعمیر بھی اسی نوعیت کی مثال ہے۔ اسے عوامی سہولت اور ٹریفک کی بہتری کے عنوان سے پیش کیا گیا، مگر اس کا نمایاں فائدہ ڈی ایچ اے کی زمینوں کی قیمت میں اضافے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ ڈی ایچ اے پشاور کے قیام کے دوران میں درجنوں دیہات اور وسیع زرعی اراضی ختم ہوئی۔ اب مزید زرعی زمینوں اور دلدلی علاقوں کو رہایشی اور تجارتی مقاصد کے لیے تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ترقی کے نام پر زمین کی ماہیت بدلتی ہے، مگر معاشی فائدہ محدود طبقے کو حاصل ہوتا ہے۔
جب سڑکیں، بجلی، پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کسی مخصوص منصوبے کے گرد مرکوز کی جائیں، تو وہ بہ ظاہر عوامی خدمت معلوم ہوتی ہیں، لیکن عملی طور پر وہ نجی اثاثوں کی قدر میں اضافہ کرتی ہیں۔ اس سے یہ بنیادی سوال ابھرتا ہے کہ ریاست بہ طور ادارہ کس کے مفاد کو اولیت دے رہی ہے؟
عالمی سطح پر دولت کی تقسیم اس سوال کو مزید گہرا کرتی ہے۔ ریاستیں موجود ہیں، حکومتیں سرگرم ہیں، مگر دنیا کی تقریباً 88 یا 89 فی صد دولت محض تقریباً 100 خاندانوں یا افراد کے ہاتھوں میں مرتکز ہے۔ یہ اعداد و شمار اس شدید عدم مساوات کی نشان دہی کرتے ہیں، جو موجودہ عالمی معاشی ڈھانچے میں پائی جاتی ہے۔ اگر ریاستی نظام واقعی اجتماعی فلاح کے لیے کام کر رہے ہوتے، تو دولت کا یہ ارتکاز اس حد تک نہ ہوتا۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ریاستوں کا وجود بہ ذاتِ خود مساوات کی ضمانت نہیں۔
اسی طرح عالمی فوجی اخراجات کے اعداد و شمار بھی اہم ہیں۔ 2023 عیسوی میں دنیا بھر میں فوجی اخراجات تقریباً 2.44 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئے، جو عالمی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا تقریباً 2.3 فی صد بنتے ہیں۔ 2024 عیسوی میں یہ اخراجات بڑھ کر تقریباً 2.7 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئے۔ یوکرین کی جنگ اور غزہ میں عسکری کشیدگی جیسے عوامل نے ان اخراجات میں اضافے میں کردار ادا کیا۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ ریاستیں جب چاہیں، تو بے پناہ وسائل کو نہایت سرعت سے مجتمع اور خرچ کرسکتی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہی اجتماعی عزم تعلیم، صحت، ماحولیاتی تحفظ اور سماجی بہبود کے شعبوں میں بھی دکھایا جاسکتا ہے؟
ماحولیات کے باب میں بھی ریاستی ترجیحات قابلِ غور ہیں۔ اسلام آباد میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کے دوران میں درختوں کی وسیع پیمانے پر کٹائی کی گئی۔ خصوصاً معرکۂ حق یادگار کی تعمیر کے لیے تقریباً 200 درخت کاٹے گئے۔ اس کے علاوہ شہری توسیع اور نئی تعمیرات کے باعث بھی سبزہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ اگر ترقی کا مفہوم قدرتی توازن کی قیمت پر حاصل کیا جائے، تو یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ کیا ہمارے ترقیاتی تصورات پائیدار ہیں؟
اداروں کے اندرونی ڈھانچے میں بھی اگر تنقید کو نافرمانی اور سوال کو بغاوت سمجھ لیا جائے، تو اصلاح کا امکان محدود ہو جاتا ہے۔ ایک صحت مند انسانی ادارہ وہی ہوتا ہے، جو احتساب، مکالمے اور اصلاح کی گنجایش کو برقرار رکھے۔
ریاست کے وجود سے انکار ممکن نہیں؛ وہ ایک عملی حقیقت ہے… مگر وہ کوئی مقدس ہستی نہیں، بل کہ انسانوں کی تشکیل کردہ ایک ادارہ جاتی ساخت ہے۔ جس طرح اسے تخلیق کیا گیا، اُسی طرح اسے تبدیل بھی کیا جاسکتا ہے۔ اگر اسے تقدیس کا حصار دے دیا جائے، تو وہ چند بااثر طبقات کے مفادات کی نگہ بان بن سکتی ہے… لیکن اگر اسے ایک انسانی ادارہ سمجھا جائے، تو معاشرہ یہ حق رکھتا ہے کہ وہ اس کی ترجیحات، وسائل کی تقسیم اور طاقت کے استعمال پر سوال اٹھائے اور اسے اپنی اجتماعی ضرورتوں اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ڈھالے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










