خود احتسابی کا عمل  جاری رہنا چاہے

Blogger Zubair Torwali

گذشتہ  چند دنوں سے چند پشتون لکھاری پشتون سماج کے اندر  غیرت اور پشتون ولی کے نام سے ثقافتی انتہا پسندی پر لکھ رہے ہیں اور اس عمل کو خود احتسابی سے جوڑ رہے ہیں۔ کسی بھی سماج کی ترقی کے لیے لازمی ہے کہ وہ اپنے اندر جھانکے اور جہالت کے دور کے اُن فرسودہ روایات اور ثقافتی رومانیت کو پرکھے، جو اس سماج کو پیچھے کی طرف دھکیل رہا ہے۔ اسی حوالے سے یہاں  چند تاریخی حوالوں سے اس خود احتسابی کی جانب اشارہ کرنا مقصود ہے، تاکہ کچھ اپنے گریبانوں میں ذرا تاریخی طور پر بھی جھانکا جاسکے۔ عوامی جڑت اور یک جہتی کے  لیے ضروری ہے کہ سماج اور معاشرے میں یک سانیت تھوپنے کی بہ جائے ثقافتی، سیاسی، لسانی، نسلی اور صنفی شناختوں کی تفریق کو تسلیم کرتے ہوئے ایک تکثیری معاشرے کی طرف بڑھا جائے۔  اس کے لیے ضروری ہے کہ تہذیبی اور ثقافتی نرگسیت سے نکل کر اور ہمیشہ ساری خرابیوں کے لیے دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانے کی بہ جائے خود اپنے گریبانوں میں جھانکا جائے۔
یہ بات بھی مدِ نظر رکھنا لازمی ہے کہ کوئی بھی ثقافت خالص نہیں رہ سکتی۔ مختلف ثقافتوں کو مختلف قوموں سے منسوب کرنا صرف علمی آسانی کی خاطر کیا جاتا ہے اور موجودہ تناظر کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ یوں کوئی بھی ثقافت جامد نہیں رہ سکتی اور نہ رہنی ہی چاہے۔ اس سورج کے نیچے کوئی ثقافت نئی نہیں، بل کہ ایک ارتقائی عمل سے گزر کر ہر ثقافت اپنے اندر ماضی کو لے کر آگے بڑھتی ہے۔ ثبات صرف ایک تغیر کو ہے۔ تاریخ کے اورق سے پتا چلتا ہے کہ پشتونوں کو بہادر اور غیور کَہ کر ان کو اس ثقافتی خمار میں مبتلا کیے رکھا ہے۔
جماعتِ اسلامی سے وابسطہ ایک دوست نے ایک بار بڑی خوش گوار حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”وہ کون سا جذبہ تھا، جس نے سید احمد بریلوی شہید کو اس خطے میں جہاد کرنے پر اکسایا؟“
واقعی مجھے بھی حیرت ہے کہ اتر پردیش سے اٹھے اس جہادی نے پشاور اور صوابی ہی کو اپنے جہاد کا مرکز کیوں بنایا؟ وہ رنجیت سنگھ کے خلاف لڑ رہا تھا، جس کا مرکز پنجاب ہی تھا۔ حیرت اس بات پر بھی ہے کہ کس طرح اُنھوں نے آکر اس خطے میں شریعت نافذ کی اور خوانین کی جگہ مولویوں کو دی۔
ہوسکتا ہے کہ یہاں کے پٹھان، امیر خان کی ایسٹ انڈیا کمپنی  کی حمایت کی وجہ سے غصّہ تھے (سید احمد بریلوی خود بھی امیر خان کے ملازم رہ چکے تھے) تاہم وہ آسانی سے پنجاب میں جہاد  کرسکتے تھے، لیکن اُن کو شاید وہاں وہ  افرادی قوت نہیں ملی، جو اٹک پل سے مغرب کی جانب تیار تھی۔ وہ 18ویں صدی میں جہاد کر رہے تھے اور جب اکوڑہ خٹک میں سکھوں کو وقتی طور پر شکست ہوئی، تو سید احمد بریلوی کو خلیفہ اور امام چنا گیا۔ اس کے بعد مکمل جہاد کا اعلان کیا گیا۔
(تفصیلات کے لیے عائشہ جلال کی کتاب "Partisans of Allah: Jihad in South Asia” پڑھیں۔)
سید احمد بریلوی تو 18ویں صدی کی کہانی ہے۔ ذرا پیچھے جاتے ہیں۔ ابوالقاسم محمود بن سبکتگین المعروف محمود غزنوی، جو ایک ترکی غلام کے بیٹے تھے اور غزنی میں پیدا ہوئے تھے، جنھوں نے ہندوستان پر 11ویں صدی میں 17 حملے کیے تھے۔ اُن کی فوج میں ایک بڑی تعداد پٹھانوں کی تھی۔ محمود غزنوی  کی افواج نے سوات میں ہندو شاہی کی بادشاہت راج گیری کے آخری بادشاہ کو 11ویں صدی میں تخت سے اُتارا تھا۔ اس سے پہلے اُنھوں نے کشمیر اور افغانستان کے درۂ نور کو بھی فتح کیا تھا کہ نور درے میں اُن کو ”کافروں“ کے موجود ہونے کا پتا چلا تھا۔
16ویں صدی ہی میں بایزید انصاری المعروف پیر روشن جو روایت کےمطابق ارمڑ تھے، اور عالمِ دین ہونے کے ساتھ ساتھ مغلوں کے خلاف لڑ رہے تھے۔ اُن کو روشن پیر اس لیے کہا جاتا ہے کہ اُن کے خیالات کافی روشن خیال تھے۔ انھی کے خلاف بادشاہ اکبر نے اخوند درویزہ بابا اور پیر بابا کی مدد طلب کی۔ درویزہ بابا نے اُن کو پیر تاریک مشہور کیا اور اُن کی تعلیمات کے خلاف کتابیں لکھنی شروع کیں۔ خوشحال خان خٹک کا ’’سوات نامہ‘‘ اس پر روشنی ڈالتا ہے۔
دوہ کارہ دی پہ سوات کے کہ خفی دی کہ جلی
مخزن د درویزہ دے یا دفتر د شیخ ملی
(ترجمہ): سوات میں کار ہائے نمایاں دو ہیں۔ اخون درویزہ کی مخزن یا دفترِ شیخ ملی۔
مجھے نہیں معلوم کہ اخوند درویزہ اور پیر بابا  پٹھان تھے، یا تاجک… لیکن اُن کا ساتھ پٹھان ہی دے رہے تھے۔ اسی طرح اخون سالاک اور پیر سباق بابا وغیرہ کے ساتھ بھی سارے پٹھان ہی تھے۔ یہ لوگ سوات، کوہستان، دیر وغیرہ میں جہاد پر مامور تھے اور مقامی لوگوں سے زمینیں قبضہ کرکے اپنے لشکریوں میں تقسیم کر رہے تھے۔
عبد الرحمان برکزئی جن کو امیر عبد الرحمان کہا جاتا ہے اور جو 1880ء تا 1901ء افغانستان کے امیر رہ چکے ہیں، اُن کو عموماً  ’’آئرن امیر‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اُنھوں نے دری بولنے والوں اور ہزارہ لوگوں کے ساتھ ساتھ کٹار (پورا نورستان جس کو اُس وقت باہر کے لوگ کافرستان بھی کہتے تھے) اور پشائی لوگوں کے خلاف جہاد کرکے ان کو مسلمان ہی نہیں، بل کہ غلام بھی بنایا۔ وہ کیا جذبہ تھا، جس کے تحت امیر عبد الرحمان نے بسترِ مرگ پر آہ بھر کر کہا  کہ وہ صرف 64 فی صد مقامی ”کافروں“ کو مارڈالنے میں کام یاب ہوا۔
امیر عبد الرحمان نے پورے نورستان کو 1895ء میں تہہ تیغ کیا۔ وہاں سے کئی کالاش لوگ بھاگ کر ’’ڈیورینڈ لائن‘‘ کے مشرق کی طرف چترال آگئے۔ امیر عبدلرحمان یہاں بھی اُن کا پیچھا کرنا چاہتا تھا، لیکن برطانوی راج نے منع کیا۔ کیوں کہ اس وقت وہ برطانیہ اور افغانستان کے بیچ سرحدی لکیر ڈیورینڈ لائن پر 1892ء میں راضی ہوچکے تھے۔ یہاں جو چند کالاش بچے ہیں، اُس وقت برطانوی حکومت کی مداخلت کی وجہ سے بچ گئے۔ اس طرح بدخشان سے بھی کئی لوگ امیر عبد الرحمان کے حملوں سے بھاگ کر چترال اور یارقند گئے یا فرغانہ چلے گئے۔
ان سب باتوں سےانکار کیا جاسکتا ہے کہ ”ہماری تاریخ دشمن نے لکھی ہے۔“ البتہ اس جملے سے نرگسیت اور ثقافتی و جنگ جویانہ تفاخر کی غلط فہمی مزید پختہ ہوجاتی ہے۔  یہ الزام اپنی جگہ درست ہے کہ ریاستِ پاکستان نے ہی درجِ بالا جنگ جو حضرات کو نصاب کی کتب میں ہیرو بنا کر پیش کیا ہے، بل کہ اپنے اسلحے کے نام بھی انھی سے منسوب کیے ہیں۔ تاہم لوک گیتوں اور شاعری میں ان لوگوں کو جس قدر سراہا جاتا ہے، وہ بھی ایک حقیقت ہے۔
پاکستان نے ایسا صرف بھارت کے خلاف اور اپنی الگ مگر جعلی شناخت بنانے کی خاطر کیا کہ جس کی جڑیں کاٹ کر محدود کر دی گئیں، جس کی یہاں شروع دن سے مخالفت کی جاتی ہے، مگر ذرا ٹھہر کر اس پورے مسئلے کو نسلی یا ثقافتی آئینے سے دیکھنے کی بہ جائے اس پوری تاریخ اور سماجی طور پر جاری تفاخر و غیرت کو پرکھنا ہے۔
مجھے اکثر یہ بات ستاتی ہے کہ شمالی پاکستان میں ہم غیر پشتونوں کی تاریخ مٹ چکی ہے اور ہمارے ہاں ایسی تاریخی ہستیاں نہیں ہیں، جن پر فخر کیا جاسکے۔ ایسی ہستیوں کا نہ ہونا ایک لحاظ سے مفید بھی ہے کہ کہیں ہم بھی جنگ جو اور سفاکوں کے گیت گاتے رہتے اور ایک رومانوی قوم پرستی کے شکار رہتے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے