بھٹو کا سوشلزم… ادھورا مگر روشن خواب‎

Blogger Comrade Sajid Aman

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کچھ شخصیات محض راہ نما نہیں ہوتے، بل کہ عہد بن جاتے ہیں۔ وہ اپنے زمانے سے آگے کا خواب دیکھتے ہیں اور عوام کے شعور میں ایک نئی زبان پیدا کرتے ہیں۔ 1970ء کی دہائی میں ایسا ہی ایک عہد جنم لیتا ہے، جب ذوالفقار علی بھٹو نے سیاست کو اشرافیہ کے بند ایوانوں سے نکال کر عوامی طاقت کا استعارہ بنا دیا۔ ان کا نعرہ ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ صرف انتخابی نعرہ نہیں تھا، بل کہ ایک معاشی اور سماجی فلسفہ تھا، جس نے پاکستان کے محروم اور دبے ہوئے طبقات کو پہلی بار یہ احساس دلایا کہ ریاست اُن کی بھی ہوسکتی ہے۔
گو کہ بھٹو کا سوشلزم خالص مارکسی سانچے میں ڈھلا ہوا نظریہ نہیں تھا، بل کہ یہ ایک مقامی تعبیر تھا، جسے ’’اسلامی سوشلزم‘‘ کا نام دیا گیا… یا انڈین نیشنل کانگریس کے جمہوری سوشلزم، مارکیٹ سوشل ازم کے مشرقی یورپی ماڈل کی طرح، مگر سوویت یونین اور چائینہ کے خالص مارکسی نظریات پر کار بند انقلابی سوشلزم نہیں۔ اس نظریے میں معاشی انصاف، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ریاستی فلاح کو اسلامی مساوات کے اصول سے جوڑا گیا۔ یہ ایک نیا تجربہ تھا، معروضی حالات کو سامنے رکھ کر… بھٹو سمجھتے تھے کہ پاکستان جیسے معاشرے میں طبقاتی استحصال کے خاتمے کے بغیر جمہوریت محض ایک رسمی ڈھانچا رہ جائے گی۔ اس لیے ان کی سیاست کا بنیادی ہدف طاقت کے ارتکاز کو توڑنا اور معاشی ڈھانچے میں تبدیلی لانا تھا۔
تاہم بھٹو کی جد و جہد انفرادی نہیں تھی۔ ان کے ساتھ ایک نظریاتی لائق  ٹیم موجود تھی، جس نے سوشلزم کو پارٹی کے منشور اور ریاستی پالیسیوں کی شکل دی۔ اس ٹیم میں سب سے اہم نام جے اے رحیم کا تھا، جنھوں نے پیپلز پارٹی کے ابتدائی نظریاتی خط و خال مرتب کیے اور پارٹی کو محض اقتدار کی جماعت نہیں، بل کہ ایک فکری تحریک بنانے کی کوشش کی۔ اسی طرح ڈاکٹر مبشر حسن نے سوشلسٹ معاشی پالیسیوں کو عملی قالب دیا اور ریاستی معیشت کے تصور کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔ ایسے کئی نظریاتی ساتھی… یہ وہ لوگ تھے، جو جلسوں کے نعروں سے آگے بڑھ کر ایک فلاحی ریاست کے عملی خاکے پر کام کر رہے تھے۔
1972ء کی ’’نیشنلائزیشن‘‘ بھٹو کے سوشلسٹ پروگرام کا سب سے نمایاں قدم تھی۔ بڑے صنعتی ادارے، بینک اور تعلیمی ادارے ریاستی تحویل میں لے کر انھوں نے سرمایہ دارانہ اجارہ داری کو چیلنج کیا۔ اس اقدام نے مزدوروں اور نچلے طبقات میں امید کی لہر دوڑا دی، اگرچہ اس کے ساتھ انتظامی مسائل اور معاشی جمود جیسے تضادات بھی پیدا ہوئے۔ اسی دور میں مزدور قوانین میں اصلاحات، ٹریڈ یونین کے حقوق اور تنخواہوں میں اضافے جیسے اقدامات نے پہلی بار مزدور کو ریاستی سطح پر ایک باوقار شناخت دی۔
زرعی اصلاحات بھی بھٹو کے سوشلسٹ ایجنڈے کا اہم حصہ تھیں۔ جاگیرداری کے صدیوں پرانے ڈھانچے کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی، زمین کی حد مقرر کی گئی اور بے زمین کسان کے حق کی بات کی گئی۔ اگرچہ یہ اصلاحات مکمل انقلابی نہ تھیں، مگر انھوں نے طاقت کے روایتی مراکز کو ہلا ضرور دیا۔ بھٹو کا اصل مقصد یہی تھا کہ ریاست محض طاقت ور طبقات کی محافظ نہ رہے، بل کہ کم زور طبقات کی سرپرست بنے۔
ان تمام اقدامات کی آئینی بنیاد 1973ء کے آئین میں رکھی گئی، جس نے بنیادی حقوق، صوبائی خود مختاری اور فلاحی ریاست کے اصولوں کو تسلیم کیا۔ یہ آئین دراصل بھٹو کے ’’سوشلسٹ وِژن‘‘ کا سیاسی و قانونی عکس تھا… مگر یہاں ایک بنیادی تضاد بھی موجود رہا، جو کسی اژدھے سے کم نہ تھا۔ ریاستی ڈھانچا اور بیوروکریسی وہی تھی، جو ماضی کی اشرافیہ کی خدمت کرتی آئی تھی اور فوائد لیتی تھیں۔ یوں نظریہ انقلابی تھا، مگر ادارہ جاتی ساخت اصلاحی حدود میں قید رہی۔
1977ء کے سیاسی بحران اور بعد ازاں فوجی مداخلت نے اس پورے سوشلسٹ تجربے کو اچانک روک دیا۔ بھٹو کا خاتمہ صرف ایک راہ نما کا سیاسی انجام نہیں تھا، بل کہ ایک ایسے عوامی سوشلسٹ خواب کی معطلی بھی تھا، جو ابھی اپنی مکمل شکل اختیار نہیں کر پایا تھا۔
بھٹو کا زوال ایک حادثہ نہیں تھا، بل کہ سرمایہ دارانہ نظام جو ایک منظم جرم ہے، کا مجرمانہ کردار تھا۔ عالمی سامراجی طاقتوں نے پہلے مشرقی پاکستان میں سوشلزم کو روکا اور ملک کے دو ٹکڑے کیے۔ کیوں کہ وہاں اشرافیہ کے خلاف آواز بلند تھی۔ اس کو بنگالی قوم پرستی میں گم کر دیا گیا۔ رہے سہے حصے مغربی پاکستان میں ملا ملٹری مل کر سرمایہ دارانہ نظام کے بچاو کی اننگز کھیلنے لگے۔
اس کے بعد پیپلز پارٹی نے جمہوریت کی بہ حالی کی جد و جہد تو جاری رکھی، مگر سوشلزم بہ تدریج ایک عملی پروگرام سے زیادہ ایک تاریخی ورثہ بنتا گیا، جسے بعد میں بینظیر بھٹو نے جمہوری حقوق اور عوامی سیاست کی صورت میں زندہ رکھنے کی کوشش کی۔
آج جب ہم بھٹو، اُن کی ٹیم اور سوشلزم کے اقدامات کا جائزہ لیتے ہیں، تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک ادھورا مگر روشن خواب تھا۔ اُس خواب نے محروم طبقات کو زبان دی، سیاست کو عوامی رنگ دیا اور یہ سوال ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا کہ کیا پاکستان میں معاشی انصاف کے بغیر حقیقی جمہوریت ممکن ہے؟ بھٹو کا سوشلزم شاید مکمل نظام میں تبدیل نہ ہوسکا، مگر اس نے سیاسی شعور میں ایک ایسی چنگاری ضرور پیدا کی، جو آج بھی ہر اُس شخص کے دل میں جلتی ہے، جو برابری، انصاف اور فلاحی ریاست کا خواب دیکھتا ہے۔
قارئین! ہمیں تاریخ کو تمام محرکات کے ساتھ باریکی سے دیکھنا ہے، تاریخ کو سمجھنا ہے اور سرمایہ دارانہ نظام سے مستفید ہوکر شکلیں بدلنے والوں کو پہچاننا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے