کیا واقعی پاکستان اسلامی ریاست نہیں؟

Advocate Muhammad Riaz

کچھ مخصوص حلقوں کی جانب سے پاکستان کے بارے میں یہ دعوا کیا جاتا ہے کہ ’’پاکستان اسلامی ریاست نہیں۔‘‘
آئیے، اس موضوع پر چند سوالات اُٹھاتے ہیں کہ آیا یہ دعوا آئینی، دینی اور تاریخی حقائق سے ہم آہنگ ہے…… یا جذبات، سطحی فہم اور محدود مطالعے کا نتیجہ ہے۔
سوال:۔کیا واقعی پاکستان اسلامی ریاست نہیں؟
جواب:۔ یہ دعوا آئینی، تاریخی اور دینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ پاکستان ایک آئینی اسلامی ریاست ہے۔ اگرچہ پاکستان ایک کامل یا مثالی اسلامی فلاحی ریاست نہ بن سکا۔ ان دونوں باتوں میں فرق نہ کرنا ہی اصل فکری مغالطہ ہے۔
سوال:۔کسی ریاست کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے کا معیار کیا ہونا چاہیے؟
جواب:۔ جدید دنیا میں کسی بھی ریاست کی نظریاتی شناخت کا سب سے معتبر پیمانہ اس کا آئین ہوتا ہے، نہ کہ افراد یا گروہوں کی ذاتی آرا۔ اگر یہ اُصول تسلیم نہ کیا جائے، تو ہر ریاست کسی نہ کسی کے نزدیک ہر وقت غیر اسلامی قرار دی جا سکتی ہے، جو فکری انتشار کو جنم دیتا ہے۔
سوال:۔ پاکستان کے آئین میں اسلام کی حیثیت کیا ہے؟
جواب:۔پاکستان کا آئین ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ سے شروع ہوتا ہے۔ آئین میں اللہ تعالیٰ کی مطلق حاکمیت، اقتدارِ اعلا کو امانت اور اسلام کو ریاستی مذہب قرار دیا گیا ہے۔ آئین کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین ماننے والا مسلمان اور نہ ماننے والا غیر مسلم قرار پاتا ہے۔ صرف مسلمان فرد ہی پاکستان کا صدر اور وزیرِاعظم بن سکتا ہے۔ قانون سازی کو قرآن و سنت کا پابند بنایا گیا ہے۔ غیر اسلامی قوانین کو عدالت میں چیلنج کرنے کا حق دیا گیا ہے۔ یہ خصوصیات دنیا کے بیش تر مسلم ممالک کے آئین میں بھی موجود نہیں۔
سوال:۔ کیا آئین میں یہ صرف علامتی باتیں نہیں؟
جواب:۔ نہیں……! اسلامی نظریاتی کونسل، وفاقی شرعی عدالت اور شریعت اپیلیٹ بینچ جیسے ادارے اسی آئینی تقاضے کے تحت قائم ہیں۔ یہ درست ہے کہ ان اداروں کی کارکردگی مثالی نہیں، مگر اداروں کی کم زوری آئین کی اسلامی حیثیت کو ختم نہیں کر دیتی۔
سوال:۔ کیا پاکستان کے تمام قوانین اسلامی ہیں؟
جواب:۔ نہیں، مگر اس کے باوجود پاکستان میں اسلامی قوانین آئینی، فوج داری، عائلی، مالی، تعلیمی اور انتخابی شعبوں میں نافذ ہیں۔ حدود آرڈیننس، قانونِ قذف، قصاص و دیت اور مسلمانوں کے لیے شراب نوشی پر پابندی، توہینِ مذہب کی دفعات، فیملی قوانین، زکوٰۃ و عشر آرڈیننس، بیت المال کا قیام، اسلامیات بہ طورِ لازمی مضمون، احترامِ رمضان آرڈیننس، شناختی کارڈ، پاسپورٹ، انتخابی حلف ناموں میں ختمِ نبوتؐ پر ایمان اور اقلیتوں کے لیے مذہبی آزادی، عبادت گاہوں کی حفاظت، یہ تمام قوانین پاکستان کو ایک آئینی اسلامی ریاست کے طور پر مستحکم کرتے ہیں۔ اگرچہ ان کا نفاذ تدریجی اور جزوی ہے۔
سوال:۔ اگر پاکستان اسلامی ریاست ہے، تو سودی نظام کیوں موجود ہے؟
جواب:۔ حال ہی میں ریاست پاکستان نے 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے یکم جنوری 2028ء سے پہلے سودی نظامِ معیشت کو ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان میں سود کے خلاف عدالتی فیصلے، اسلامی بینکاری کا فروغ، سود کے خاتمے کے لیے ریاستی اقدامات بہ ظاہر ناکافی ہیں، مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ریاست سودی نظامِ معیشت ختم نہیں کرنا چاہتی۔
سوال:۔ کیا کسی گناہ کی وجہ سے کسی کو غیر مسلم کہا جاسکتا ہے؟
جواب:۔ اہلِ سنت والجماعت کے فقہا کے نزدیک، اگر ایک فرد مرتد نہ ہو، بل کہ دینِ اسلام پر ایمان رکھتا ہو، لیکن گناہوں میں مبتلا ہو، حتیٰ کہ کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو، تب بھی وہ دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔
یہی اصول ریاست پر بھی لاگو ہوتا ہے ۔ عملی کم زوری کفر نہیں بن جاتی۔
سوال:۔ تو کیا اسی بنیاد پر پاکستان کو غیر اسلامی ریاست کہا جاسکتا ہے؟
جواب:۔ نہیں، عملی کم زوری یا جزوی عدم نفاذ کسی ریاست کے اسلامی تشخص کی نفی نہیں کرتی۔
سوال:۔ کیا پاکستان کے اسلامی تشخص کو علما نے بھی تسلیم کیا ہے؟
جواب:۔ جی ہاں! 1949ء میں قراردادِ مقاصد کی منظوری کے بعد جماعتِ اسلامی نے خود تسلیم کیا کہ ریاست اُصولی طور پر اسلامی بن چکی ہے۔ یہ اعتراف اس لیے اہم ہے کہ جماعتِ اسلامی ابتدا میں قیامِ پاکستان کی ناقد تھی۔ مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا مودودی، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا عبدالستار نیازی، مفتی محمود احمد ایسے جید علمائے کرام کی پاکستان کو بہ طورِ اسلامی ریاست قبول کرنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
سوال:۔ پاکستان کو غیر اسلامی قرار دینے میں اصل خطرہ کیا ہے؟
جواب:۔ اصل خطرہ فتن تکفیر کا ہے، جہاں گناہ اور کم زوری کو کفر کے برابر رکھا جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہی سوچ خارجی فتنوں، خوں ریزی اور انتشار کا سبب بنی۔ آج یہی بیانیہ دہشت گرد تنظیموں کو ریاست، افواج اور عوام کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا جواز فراہم کرتا ہے۔
سوال:۔ کیا طالبان اور ٹی ٹی پی کا پاکستان کو غیر اسلامی کہنا درست ہے؟
جواب:۔ نہیں……! یہ موقف نہ آئینی ہے ، نہ فقہی، نہ تاریخی۔ پاکستان کو غیر اسلامی قرار دے کر معصوم مسلمانوں کے قتل کو جائز سمجھنا اسلام نہیں، بل کہ سیاسی تشدد اور مذہبی بیانیے کا غلط استعمال ہے۔
سوال:۔ تو پھر پاکستان کی اصل حیثیت کیا ہے؟
جواب:۔ کلمۂ طیبہ کے نام پر بننے والی ریاستِ پاکستان، خلافتِ راشدہ کی طرح ایک کامل اسلامی ریاست تو نہیں، مگر قطعی طور یہ ایک غیر اسلامی یا کافر ریاست بھی نہیں ہے…… بل کہ ایک آئینی اسلامی ریاست ہے، جو اپنی منزل کی طرف گام زن ہے، مگر اندرونی کم زوریوں، بیرونی دباو اور فکری انتشار کے باعث سست روی کا شکار ہے۔
سوال:۔ اسلامی ریاست کیسے بنتی ہے؟
جواب:۔ اسلامی ریاست کوئی نعرہ یا وقتی منصوبہ نہیں، بل کہ ایک مسلسل عمل ہے۔
یہ ایک دن میں نافذ نہیں ہوتی، جبر سے قائم نہیں رہتی، قانون سے پہلے معاشرہ بناتی ہے۔ نبی کریم صلعم نے پہلے ایمان و اخلاق کی بنیاد رکھی، پھر ریاستِ مدینہ وجود میں آئی۔ کیا کسی ریاست کو محض عملی کوتاہیوں کی بنیاد پر غیر اسلامی قرار دیا جا سکتا ہے؟ اگر ایسا معیار بنا لیا جائے، تو خلافتِ راشدہ کے بعد تاریخِ اسلام کی کوئی بھی ریاست اسلامی نہیں ٹھہرے گی۔
آخری سوال:۔ اصل سوال کیا ہونا چاہیے؟
جواب:۔ اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان اسلامی ریاست ہے یا نہیں، بل کہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اسلامی معاشرہ بننے کے لیے تیار ہیں؟ کیوں کہ جب معاشرہ دیانت دار، انصاف پسند اورصوم و صلوۃ کا پابند ہو، جھوٹ، بدکاری اور بدعنوانی سے پاک ہو، تو اسلامی ریاست کسی فتوے یا سرکاری حکم نامے سے نہیں، خود بہ خود وجود میں آتی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے