ضلع ملاکنڈ کی گھریلو صنعتیں

Blogger Zahir Shah Nigar

2023ء کی مردم شماری کے مطابق ضلع ملاکنڈ کی کل آبادی 8 لاکھ 26 ہزار 250 نفوس پر مشتمل ہے۔ ضلع میں 28 یونین کونسلیں اور تقریباً 80 دیہات ہیں۔ کچھ چھوٹے قصبات، مثلاً: بٹ خیلہ، درگئی، سخاکوٹ، تھانہ، طوطہ کان، آگرہ اور کوٹ کے علاوہ باقی آبادی عموماً دیہات میں آباد ہے۔
30 تا 40 سال پہلے ضلع بھر میں لوگوں کا دارومدار زیادہ تر کھیتی باڑی اور گھریلو صنعتوں پر ہوتا تھا۔ ہر گاؤں میں اس کی معاشی ساخت اور مقامی ہنرمندوں کی مہارت کے مطابق کسی نہ کسی قسم کی گھریلو صنعت (Cottage Industry) موجود ہوتی تھی۔ دوسرے اضلاع کی طرح یہاں بھی یہ صنعتیں اس وجہ سے مقبول تھیں کہ کم سرمایہ کاری کے باوجود زیادہ آمدنی حاصل ہوجاتی تھی۔ خام مال مقامی سطح پر دست یاب ہوتا تھا اور پیداوار کے لیے مقامی مارکیٹ میں مناسب طلب موجود رہتی تھی۔
گھریلو صنعتوں کی اہمیت کئی پہلوؤں سے مسلمہ ہے، جیسے کہ
٭ خواتین کو معاشی خودمختاری حاصل ہوتی ہے۔
٭ ملک کے لیے اضافی زرِ مبادلہ کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔
٭ کسانوں، مزدوروں، ہنرمندوں اور متوسط طبقے کے لیے اضافی آمدنی کا ذریعہ بنتی ہیں۔
٭ روایتی ہنر اور کسب برقرار رہتے ہیں۔
٭ کم سرمائے اور محدود مشینری کے ذریعے بہتر آمدنی سے لوگ خوش حالی کی طرف بڑھتے ہیں۔

ضلع ملاکنڈ کے ہر گاؤں میں یہ صنعتیں موجود تھیں، اور اب بھی کسی حد تک باقی ہیں، لیکن معاشرہ جس تیزی سے بدل رہا ہے، اس بات کا خدشہ ہے کہ کچھ سالوں بعد یہ روایتی ہنر مکمل طور پر ختم ہوجائیں گے اور کہیں نئی نسل اپنے آبا و اجداد کی معاشی سرگرمیوں سے ناواقف نہ رہ جائے۔
اپنے علاقے اور ان محنتی ہنرمندوں کی خدمات کو زندہ رکھنے کے لیے ، جنھوں نے چھوٹے چھوٹے پراجیکٹس کے ذریعے اپنے معاشرے کی معیشت میں حصہ ڈالا، میں ایک تحقیقی منصوبہ شروع کر رہا ہوں۔ اس تحقیق کا ایک فائدہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نئی نسل اپنے آبا و اجداد کی صنعتوں میں جدید تقاضوں کے مطابق جدت لاکر اپنی معیشت کو دوبارہ فعال کرسکے۔
قارئین! میرا تعلق ملاکنڈ کے گاؤں ڈھیری جولگرام سے ہے۔ مَیں اپنی تحقیق کا آغاز اپنے گاؤں سے کر رہا ہوں اور ملاکنڈ کے دوسرے گاؤں کے لوگوں سے گزارش کرتا ہوں کہ اگر کسی کو اپنے گاؤں کی کسی بھی گھریلو صنعت کے بارے میں معلومات ہوں، تو مجھ سے رابطہ کریں، تاکہ اس کام کو آگے بڑھایا جاسکے۔
مَیں نے زرعی ترقیاتی بینک بٹ خیلہ اور درگئی میں موبائل کریڈٹ آفیسر کی حیثیت سے 17 سال خدمات انجام دی ہیں، اور ملاکنڈ کے ہر گاؤں کی آبادیاتی معلومات اور گھریلو صنعتوں سے بہ خوبی واقف ہوں۔ میرا مشاہدہ اور تجربہ اس تحقیق کو مکمل کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔
٭ ڈھیری جولگرام کی ایک نمایاں گھریلو صنعت، سلطان محمود عرف ’’طوطی‘‘ کا ورک شاپ:۔ جب مَیں سکول میں پڑھتا تھا، تو ایک دن والد محترم کے ساتھ ڈھیری گاؤں گیا۔ ہمارے گاؤں جولگرام اور ڈھیری کے درمیان ایک صاف شفاف ندی بہتی تھی، جس پر دو پن چکیاں (جرندے ) بنی ہوئی تھیں۔ اُس ندی کو پار کرکے ہم ایک چھوٹے سے ورک شاپ میں داخل ہوئے۔ اندر قدم رکھتے ہی میری نظر ایک وجیہہ شخص پر پڑی، جو مشین کے ذریعے کسی کام میں مصروف تھا۔ بادامی رنگت اور گھنی داڑھی والے اس شخص کا انداز بہت باوقار تھا۔ گفت گو بھی نہایت سلیقے سے کرتا تھا۔ اس کا نام سلطان محمود عرف طوطی تھا۔
سلطان محمود (مرحوم) نسلی اعتبار سے تاجک تھے۔ اُن کے آبا و اجداد افغانستان سے آکر علاقہ تالاش (دیر) میں آباد ہوئے، پھر وہاں سے ڈھیری جولگرام منتقل ہوگئے۔ اُن کا پیشہ ترکھانی اور لوہاری تھا۔ مرحوم، لوہاری کرتے تھے اور کسانوں کے لیے سسپار، کدال، بیلچہ اور درانتی جیسی چیزیں بناتے تھے، لیکن چوں کہ وہ دورِ جدید کی تکنیکی تبدیلیوں کا ادراک رکھتے تھے، اس لیے اُنھوں نے اپنے کام میں جدت لانے کا فیصلہ کیا۔ اُنھوں نے سوچا کہ کھیتی باڑی کے اوزار تو ہر لوہار بناسکتا ہے، لہٰذا اسلحہ سازی کی طرف توجہ دی۔ اس مقصد کے لیے وہ درگئی کے گاؤں خرکی گئے اور ایک تاجک لوہار سے مختلف اقسام کا اسلحہ بنانا سیکھا۔
القصہ، واپس آکر سلطان محمود (مرحوم) نے اپنا روایتی ورک شاپ جدید اوزاروں سے آراستہ کیا۔ آج بھی یہ ورک شاپ جدیدیت کا احساس دلاتا ہے۔ یہاں ڈرل مشین، سوگرہ، خراد مشین، اور ویلڈنگ مشین سمیت وہ تمام اوزار موجود ہیں، جو دھات کے کام کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ اس ورک شاپ میں روایتی زرعی اوزار کے علاوہ مختلف قسم کے طمانچے اور بندوقیں بھی تیار کی جاتی تھیں اور اُن کی مرمت بھی ہوتی تھی۔
مذکورہ ورک شاپ آج بھی اُسی حالت میں موجود ہے اور اُسے اُن کے فرزند روئیدار محمد چلا رہے ہیں، جو اپنے والد کی طرح ہنرمند اور ماہر ہیں۔
سلطان محمود (مرحوم) دوسری شادی کے بعد کراچی منتقل ہوگئے تھے، جہاں اُنھوں نے اپنا ہنر جاری رکھتے ہوئے ایک ورک شاپ قائم کیا۔ جنرل مشرف کے دور میں اسلحہ سازی کے قوانین سخت ہوئے، تو وہ واپس آکر خار گاؤں میں آباد ہوگئے اور 2016ء میں وفات پاگئے۔
ڈھیری جولگرام کی دوسری گھریلو صنعتیں، جیسے شالی سے چاول نکالنے، سرسوں کے بیج سے تیل نکالنے اور خواتین کی گھریلو دست کاری کی تفصیلات آپ میری آنے والی نشستوں میں پڑھیں گے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے