پاکستان میں آرکیالوجی کی علم کی روایت بہت طویل ہے، جو کہ 19ویں صدی کے برطانوی ہندوستان کے دوران میں وجود میں آئی۔ 1960ء کی دہائی کے اوائل سے ابھی تک اسے ملک کی بہت سی یونیورسٹیوں میں ایک علمی مضمون کے طور پر پڑھایا جا رہا ہے۔ اس پوری کہانی میں اہم موڑ وہ تھا، جب پروفیسر احمد حسن دانی 1962ء میں پشاور یونیورسٹی میں آثارِ قدیمہ کا شعبہ کھولنے کے لیے مشرقی پاکستان سے بلائے گئے۔ اس ڈیپارٹمنٹ نے بہت سے ماہرینِ آثار قدیمہ پیدا کیے، جن میں پروفیسر عبدالرحمان اور پروفیسر فرید خان کو اُن کی علمی و تحقیقی کاوشوں کی بہ دولت خاص طور پر یاد رکھا جائے گا۔
یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہیکہ اگر ہم وقت کے ساتھ چلنا چاہیں، تو ہمیں محنت کرنے اور ’’کمٹمنٹ‘‘ پیدا کرنے کی ضرورت ہوگی۔ زیرِ نظر تحریر میں میرا مقصد پاکستان میں ایک یونیورسٹی کے مضمون کے طور پر آثارِ قدیمہ کا جائزہ لینا ہے۔
تعلیم میں آرکیالوجی کا موضوع، خاص طور پر اعلا تعلیم کی سطح پر، بہت سی وجوہات کی وجہ سے دل چسپی کا باعث رہا ہے۔ ان میں، دوسرے موضوعات کے علاوہ ، آثارِ قدیمہ کو ’’ڈیکلونائیز‘‘ (Decolonize) کرنے کے ساتھ ساتھ اسے پاپولسٹ سیاست دانوں اور اُن کے علمی پراکسیوں کے چنگل سے آزاد کرانے کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ایسی علمی قابلیت اور فکری ہمت کا فقدان ہے…… اور آرکیالوجی کا تصور، فہم اور تشہیر نئی نسلوں کو تنقیدی انداز میں نہیں دیا جاتا۔
کیا آرکیالوجی واقعی وہی ہے، جو ہمیں روایتی طور پر پڑھائی جا رہی ہے؟ اگر آپ آرکیالوجی کے پاکستانی طلبہ سے پوچھیں کہ آرکیالوجی کی تعریفکیا ہے……؟ تو سب سے زیادہ مطالعے والے، اُن لوگوں کے بارے میں بات نہیں کرتے جو اپنے مضمون سے لاتعلق ہیں، جواب دیں گے کہ آرکیالوجی مادی باقیات کے ذریعے ماضی کا مطالعہ ہے۔ کیا واقعی ایسا ہے……؟ یقینا یہ 21ویں صدی میں ایک مضحکہ خیز جواب کے سوا کچھ نہیں۔ آثارِ قدیمہ موجودہ دور کے سماجی و سیاسی تنازعات، ماحولیاتی تحفظ، علم کی تخلیق اور خود اضطراری میں اتنا ہی مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جتنا کہ یہ ماضی میں سرایت کرتا ہے۔ یہ جغرافیائی اثرات اور انسانی تفکر دونوں سے لاتعلق نہیں۔ 19ویں اور 20ویں صدی کے اوائل میں جس طرح سے اسے سمجھا جاتا تھا، اب آرکیالوجی کے علم اور ڈومین اس سے بہت ہی مختلف نوعیت اختیار کر چکے ہیں…… لیکن پاکستان میں یہ مضمون جمود کا شکار بن گیا ہے اور عالمی اکیڈمیا کے ساتھ ہم آہنگ رہنے سے قاصر ہے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ آرکیالوجی کا نصاب انتہائی ناقص شکل میں موجود ہے۔ زیادہ تر کورسز نہ صرف "Irrelevant” ہیں، بل کہ حقائق اور تصوراتی غلطیوں اور کوتاہیوں سے بھی بھرے پڑے ہیں۔ کچھ کورسز میں کونٹنٹس (Contents) مضحکہ خیز ہیں۔ کلونیل اور اوریئنٹلسٹ الفاظ جیسے کہ "Civilization”، "Diffusion”، ’’سنہری دور‘‘ وغیرہ بغیر کسی تنقیدی بحث کے ہمارے ایجوکیشن کا ابھی تک حصہ ہیں۔
ایک بہت ہی عام مضحکہ خیز اور انتہائی عجیب و غریب صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب متنازع، بل کہ متروک ، چیزیں جیسا کہ آریائی حملے/مہاجرت کے نظریے کو اب بھی ایک سادہ تاریخی حقیقت کے طور پر لیا جاتا ہے اور پروفیسر اسے طلبہ کو اُسی طرح پڑھا رہے ہیں۔ مزید یہ کہ پاکستانی یونیورسٹیوں میں آرکیالوجی کے اساتذہ آرکیالوجیکل اور سماجی تھیوری اور فلسفے سے تقریباً ناواقف ہیں۔ مَیں یقین سے کہتا ہوں کہ تھیوری سے ناواقفیت ہمیں آرکیالوجیکل لٹریچر صحیح پڑھنے سے روکتی ہے۔ لہٰذا علمی لٹریچر کے معقول طریقے سے نہ سمجھنے کی وجہ سے ہم اس میں ذاتی/ ادارتی/ نظریاتی محرکات اور ایجنڈوں کو پرکھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اس لیے پروفیسراور طلبہ دونوں علم اور ڈسکورس کے "Violence” کے شکار ہیں۔
تدریسی بحران کے علاوہ، یونیورسٹی کے آرکیالوجسٹس میں میتھڈالوجی کی فہم کا بھی فقدان ہے۔ یونیورسٹی کے آثارِ قدیمہ کے ڈیپارٹمنٹس میں ریسرچ میتھڈالوجی کے مضمون کو بھی کم اہمیت دی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر یہ طلبہ کو آفر کی جاتی ہے، جیسا کہ قائداعظم یونیورسٹی میں، تو اس کو پڑھانے کے لیے کوئی ماہر آرکیالجسٹ یا ’’آرٹ ہسٹورین‘‘ دست یاب نہیں ہوتا ۔ منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آرکیالوجی گریجویٹس/ پی ایچ ڈی ہولڈر تو سامنے آجاتے ہیں، لیکن وہ اس قابل نہیں ہوتے ہیں کہ جو آزاد تحقیق اور معیاری علم تخلیق کرسکیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کم زوری انھیں غیر ملکی آرکیالوجی پریکٹیشنرز اور اسکالرز کے ساتھ علمی مکالمے اور بحث کرنے سے قاصر کرتی ہے۔ اس کا نتیجہ ایک اور تلخ حقیقت کی صورت میں نکلتا ہے: وہ عالمی آرکیالوجی اکیڈمیا میں ایک ماتحت مقام کو قبول کرلیتے ہیں۔ اس ساری ناکامی کے لیے یونیورسٹی آرکیالوجی اساتذہ کو ذمے دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔
علمی معیار اور فہم کی کمی کی وجہ سے یونیورسٹی کے اساتذہ فیلڈ آرکیالوجی کے لیے بھی فٹ نہیں ہوتے۔ آرکیالوجیکل فیلڈ ورک (منظم سروے، کھدائی، تحفظ) یونیورسٹی کی تعلیم میں آرکیالوجی کے لیے اتنا ہی اہم ہے، جتنا کہ ہمارے لیے آکسیجن۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستانی یونیورسٹیوں میں آرکیالوجی کے شعبے فیلڈ ورک کے بغیر ’’کام یاب‘‘ چلنا چاہ رہے ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے؟
ہمیں عام طور پر یہ شکایت سننی پڑتی ہے کہ فنڈز کی کمی، جو ہمارے قابو سے باہر ہے، آرکیالوجیکل فیلڈ ورک اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ یہ استدلال اتنا قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیے۔ سوشل سائنسز اور ہیومینٹیز کے میدان میں، جیسا کہ میرا مشاہدہ ہے، آرکیالوجی کو پاکستانی اداروں، جیسے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور غیر ملکی اداروں، دونوں کی طرف سے کافی زیادہ سپانسرشپ ملتی ہے۔ اور اس کی تصدیق کے لیے ڈیٹا دیا جاسکتا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ متعدد آرکیالوجسٹس نے گذشتہ تقریباً 15 سال کے عرصے میں کروڑوں روپے کے ریسرچ پروجیکٹس حاصل کیے ہیں۔ ان تحقیقی گرانٹس کے ذریعے کتنے طلبہ کو آرکیالوجیکل فیلڈ ورک میں تربیت دی گئی ہے؟ تربیت سے میرا مطلب طریقۂ کار اور فکری قابلیت ہے، جو کہ علمی دنیا میں واضح طور پر نظر آرہا ہو۔ دوسرے الفاظ میں، تربیت کا مقصد ایسے ماہرین اور پیشہ ور افراد کو تیار کرنا ہے، جو علمی طور پر غیر ملکی آرکیالوجسٹس کے برابر ہو…… لیکن اعدادوشمار پھر مایوس کن ہوں گے۔
آئیے، اس معاملے کو ایک اور زاویے سے بھی دیکھتے ہیں: آرکیالوجی کے اساتذہ کی علمی پہچان اور شناخت۔ اور اس کی پیمایش معیاری علمی پبلیکیشنز کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔ بہت سارے انتہائی سپانسرڈ شدہ پروجیکٹس کے نتیجے میں قابلِ قدر تحقیقات اور ان کی اشاعت سامنے نہیں آئی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام آرکیالوجیکل فیلڈ ورک بے کار ہے، اگر اس کے نتائج شائع نہ ہو ں اور نہ پھیلائے جائیں ۔ عالمی اکیڈمیا ان تحقیقات کا خیرمقدم کرتا ہے اور ان کو تنقیدی پذیرائی کے ساتھ ویلکم کرتا ہے، جو نامور پبلشرز کی طرف سے پبلش اور سرکولیٹ ہو جاتے ہیں۔ جہاں تک مَیں جانتا ہوں، پاکستان میں یونیورسٹی کے آرکیالوجسٹس اپنے تحقیقی کام کو معیاری ریسرچ مجلوں میں شائع کرنے میں بہت کم کام یاب ہوتے ہیں (معاوضہ والے جرائد کو نکال کر جو زیادہ تر غیرمستند ہوتے ہیں)۔ یہ بہت تکلیف دہ ہے۔ پاکستان کے غریب عوام کے کروڑوں روپے ایسے خرچ ہو جاتے ہیں کہ کوئی ٹھوس مجموعی اور سماجی فائدہ حاصل ہوتا ہی نہیں۔
یہ سب کچھ پاکستانی آرکیالوجی کو ہمیشہ کے لیے بیرونی امداد اور راہ نمائی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔ درحقیقت یہ صورتِ حال نوآبادیاتی سسٹم اور مستشرقیت کی روایات کو استحکام اور طوالت دیتی ہے۔ ہمارے آرکیالوجی کے پریکٹیشنرز صرف دوسرے درجے کے کارکنوں، مددگاروں اور ساتھیوں کے طور پر کارندے رہ جاتے ہیں (19ویں صدی کے نوآبادیاتی علما اور مصنفین کے پنڈتوں اور منشیوں کی طرح)۔
کیا ہمیں آرکیالوجی کو ڈیکلونائیز کرنے کی ضرورت نہیں…… اور اسے موجودہ دور کی ضرورتوں کے تناظر میں اپنے انسانی اور ماحولیاتی حقائق سے جوڑنے کی ضرورت نہیں؟
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










