انہدامِ خلافت سے قیامِ اسرائیل تک کا سفر

Blogger Ikram Ullah Arif

عثمانی خلافت، جو تصوراً دنیا بھر کے مسلمانوں کی آخری خلافت سمجھی جاتی تھی، 1914ء میں پہلی عالمی جنگ میں شامل ہوئی…… لیکن چند سال بعد (1918ء) سرنڈر کرگئی۔ خلافت کا باقاعدہ خاتمہ یکم نومبر 1922ء کو ہوا، مگر فاتح (اتحادی) ممالک یعنی برطانیہ، فرانس وغیرہ نے 1920ء ہی میں ایک معاہدے کے ذریعے خلافتِ عثمانیہ کی سرزمین کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ موجودہ سعودیہ کے بانیوں نے بھی برطانوی فوجی میجر ’’ٹی لارنس‘‘ کی شہہ پر خلافت سے بغاوت کی تھی…… اور اُسی بغاوت کے نتیجے میں بعد ازاں سعودیہ کو آزادی ملی۔ یاد رہے کہ میجر ٹی لارنس کو عرف عام میں ’’لارنس آف عربیہ‘‘ (Lawrence of Arabia) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ گورا افسر تقسیمِ ہندوستان سے قبل وزیرستان میں بھی تعینات رہا ہے۔ خود اُس کا لکھا ہوا ایک خط قلعہ بالا حصار میں آج بھی محفوظ ہے، جو راقم (اکرام اللہ عارف) نے بہ چشمِ خود دیکھا ہے۔
قارئین، یہ تو تمہید باندھنے کے لیے ضمنی باتیں تھیں، اب اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ خلافت کے خاتمے کے بعد زمینیں اتحادی ممالک کی کالونیوں میں تبدیل ہوگئیں، جنھوں نے بعد ازاں آج کے خلیجی ممالک کی شکل اختیار کر لی۔ آج کے مال دار عرب ممالک تقریباً سبھی خلافتِ عثمانیہ کا حصہ تھے۔ بعد ازاں وہ اتحادیوں کی نگرانی میں آگئے اور مختلف اوقات میں آزاد بادشاہتیں قائم ہوئیں۔ انھی علاقوں میں آج کا فلسطین، برطانوی کالونی بن گیا۔ جب جرمن آمر ’’جوزف ہٹلر‘‘ نے یہودیوں پر جبر و ظلم کیا اور بعد ازاں جب جرمنی کو شکست ہوئی، تو برطانیہ نے یہودیوں کو ارضِ فلسطین پر آباد کیا اور ایک نئی ریاست وجود میں آئی، جسے آج ہم ’’اسرائیل‘‘ کے نام سے جانتے ہیں۔
آج وہی اسرائیل پوری دنیا میں بدمعاشی کے نام پر گھوم رہا ہے۔ علاقائی، عالمی، انسانی اور بنیادی قوانین سے یک سر باغی اس ریاست نے وہ دھما چوکڑی مچائی ہے کہ دنیا لرزہ براندام ہے۔ خود برطانیہ اور فرانس جیسے ممالک جن کا اسرائیل کی تشکیل میں بنیادی کردار رہا ہے، غزہ میں اسرائیل کے ظلم و ستم کے سامنے عاجز دکھائی دیتے ہیں۔ جب اسرائیل صیہونی حکم رانوں کے ہاتھ یرغمال ہوا، تو انسانی اقدار کی بے وقعتی عیاں ہوئی۔ اب پورا خلیجی علاقہ خوف میں مبتلا ہے۔ نہتے فلسطینیوں سے لڑتے لڑتے اسرائیل نے لبنان، شام، یمن، ایران اور اب قطر تک پر حملے کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ اب یقینی طور پر ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کا راستہ ہم وار کیا جا رہا ہے۔ صیہونیوں کے مطابق گریٹر اسرائیل میں تقریباً پورا جزیرۂ عرب شامل ہے۔
یہ نقشہ اجمالاً اس لیے کھینچاکہ آپ کو معلوم ہو جائے کہ قطر پر حالیہ اسرائیلی حملہ بے سبب نہیں ؛ ابتدا ہی سے ان سب عرب ممالک نے ایک دوسرے کو قربان کرنے کا رویہ اختیار کرلیا تھا۔ پہلے وہ نام نہاد ہی سہی مگر مسلمانوں کے خلاف عالمی طاقتوں کے ہم نوا بن گئے۔ پھر ’’عرب لیگ‘‘ بنا کر امت کے تصوراتی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کا سہرا بھی اپنے سر سجا لیا۔ بعد ازاں جب عراق نے کویت پر حملہ کیا، تو سعودیہ کویت کا ہم نوا بن گیا۔ 2017ء میں تمام عرب ممالک نے قطر کو عرب لیگ سے نکال کر اس کا بائیکاٹ کیا۔ علاوہ ازیں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ قطر پر حالیہ حملے کے لیے اسرائیل نے مبینہ طور پر اردن اور سعودیہ کے فضائی حدود استعمال کیے؛ اگر واقعی ایسا ہے، تو پھر سعودیہ کی طرف سے جاری کردہ مذمتی بیان کو کس نظر سے دیکھا جائے؟
اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ آخری حملہ ہوگا؟
سیدھا سادھا اور درست جواب ہے:’’نہیں!‘‘
کیوں کہ کل پرسوں ہی اسرائیلی وزیراعظم نے برملا کہا ہے کہ حماس کے راہ نما جس بھی ملک میں ہوں گے، ہم اُس ملک کو نشانہ بنائیں گے۔ لہٰذا اب یہ دیکھنے والی بات ہے کہ قطر میں موجود تقریباً حماس کے ایک ہزار چھوٹے بڑے راہ نماؤں کو ملک بدر کیا جاتا ہے یا نہیں……؟
وقت بہت کچھ ثابت کرے گا…… مگر ایک بات اٹل ہے کہ اگر عرب لیگ نے ابھی صیہونی ریاست کو لگام دینے کے لیے عملی اقدامات نہ کیے، تو یاد رہے کہ نیتن یاہو کے ہوتے ہوئے باری سب کی آئے گی۔ دیر سے سہی، مگر قدرت کا نظام بروئے کار آئے گا۔ بہ قولِ اقبالؔ
تقدیر کی قاضی کا یہ فتوا ہے ازل سے
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات
آخری بات…… پاکستانی وزیرِاعظم کا قطر کا خیرسگالی دورہ ایک بہترین اقدام تھا، مگر جذباتیت میں کوئی بھی عملی قدم اٹھانے سے گریز کرنا چاہیے۔ کیوں کہ پاکستان اور پاکستانی مفاد مقدم ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے