خان عبدالغفار خان، جنھیں دنیا ’’باچا خان‘‘ اور ’’سرحدی گاندھی‘‘ کے نام سے جانتی ہے، برصغیر کی تاریخ کے اُن چند نایاب راہ نماؤں میں شامل ہیں، جنھوں نے اپنی پوری زندگی ظلم اور غلامی کے خلاف جد و جہد میں گزار دی۔ انگریز سامراج کے خلاف اُن کی تحریک، خدائی خدمتگار کا قیام، عدم تشدد کا فلسفہ اور پختونوں کو تعلیم و شعور کی راہ پر ڈالنے کی کوششیں وہ روشن پہلو ہیں، جو تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
باچا خان نے انگریز کے مقابلے میں وہ کردار ادا کیا، جو بڑے بڑے سیاسی لیڈر بھی نہ کرسکے۔ اُن کی جیلیں بھگتنے کی قربانیاں، جد و جہد کی استقامت اور پختونوں کی بیداری کے لیے خدمات ناقابلِ فراموش ہیں…… لیکن تاریخ صرف کام یابیوں سے نہیں لکھی جاتی، اس میں کم زوریاں اور غلط فیصلے بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں باچا خان جیسے عظیم لیڈر کی سیاسی لغزشیں بھی ہمارے سامنے آتی ہیں اور اُن کا جائزہ لینا ناگزیر ہے، تاکہ تاریخ سے سبق سیکھا جا سکے۔
پہلی لغزش:۔ باچا خان کی پہلی لغزش یہ تھی کہ اُنھوں نے پاکستان کے ساتھ کش مہ کش اختیار کی اور ریفرنڈم میں تیسری تجویز پیش کی۔
پاکستان بننے کے وقت باچا خان کھل کر پاکستان کے مخالف کھڑے تھے۔ اُنھوں نے ریفرنڈم میں یہ مطالبہ کیا کہ صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختون خوا) کے عوام کو ’’آزاد پختونستان‘‘ کا آپشن بھی دیا جائے۔ یہ باچا خان کی پہلی بڑی سیاسی لغزش تھی۔ تاریخ کے اس نازک موڑ پر جہاں ایک طرف ہندوستان یا پاکستان میں شامل ہونے کا سوال تھا، وہاں ایک تیسرا راستہ نکالنے کی ضد حقیقت پسندی سے کوسوں دور تھی۔
دوسری لغزش:۔ باچا خان کی تیسری لغزش یہ تھی کہ جب آزاد پختونستان کا مطالبہ تسلیم نہ ہوا، تو باچا خان نے صوبہ سرحد کے ریفرنڈم کا بائیکاٹ کردیا۔ حالاں کہ ایک مدبر اور بڑے لیڈر کو یہ زیب دیتا کہ وہ میدان میں ڈٹ کر کھڑا رہتا، چاہے نتیجہ اُس کے خلاف ہی کیوں نہ آتا۔ اگر وہ اپنے ماننے والوں کو ریفرنڈم میں شامل کرتے اور پاکستان کے خلاف ووٹ ڈالتے، تو اُن کی سیاسی ساکھ کہیں زیادہ مضبوط ہوتی…… لیکن بائیکاٹ نے اُنھیں سیاسی طور پر کم زور اور عوامی حمایت سے محروم کردیا۔
تیسری لغزش:۔ پاکستان کے قیام کے بعد باچا خان کو اعلا ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی حکومت خود تحلیل کر دینی چاہیے تھی اور مسلم لیگ کو دعوت دینی چاہیے تھی کہ وہ اب صوبہ سرحد میں حکومت بنائے۔ کیوں کہ عوامی فیصلہ پاکستان کے حق میں آ چکا تھا۔ اگر وہ ایسا کرتے، تو ایک بڑے لیڈر کی طرح عوام کے سامنے سرخ رو ہوجاتے۔ اُنھیں چاہیے تھا کہ کچھ وقت کے لیے سیاست سے دور رہتے اور پختونوں کی اصلاح اور تعلیم کا کام کرتے اور چند برس بعد دوبارہ سیاست میں داخل ہوجاتے…… لیکن اُنھوں نے یہ راستہ اختیار نہ کیا اور مسلسل محاذ آرائی میں الجھے رہے۔
چوتھی لغزش:۔ باچا خان کی چوتھی بڑی لغزش یہ تھی کہ پاکستان بننے کے بعد وہ اچانک قائدِ اعظم محمد علی جناح کے پاس جا پہنچے اور کہا کہ اَب تو پاکستان بن گیا ہے، اب ہمیں مل جل کر پاکستان کو آگے بڑھانا چاہیے۔ سیاست کے بڑے اُصول ہوتے ہیں اور جناح صاحب جیسے مدبر لیڈر کی نظر میں یہ رویہ کم زوری کے مترادف تھا۔ کل تک جو شخص پاکستان کا شدید مخالف تھا، آج اچانک اس کا خیرخواہ کیسے بن سکتا ہے؟ یہ رویہ فطری طور پر انسان کے قد کو گرا دیتا ہے۔
جملہ معترضہ کے طور پر رقم کروں گا کہ (خاکم بہ دہن) آج کی سیاسی اصطلاح میں ایسے کرنے والے کو ’’لوٹا‘‘ کہا جاتا ہے۔
جب قائد اعظم محمد علی جناح نے ڈاکٹر خان عبد الجبار خان (باچا خان کے بھائی) کی حکومت ختم کی، تو یہ قدم بالکل فطری اور درست فیصلہ تھا۔ ہر نئی ریاست کے سربراہ کی اولین ذمے داری یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنی رٹ قائم کرے۔ جناح صاحب کا یہ فیصلہ ایک قدرتی اور سیاسی طور پر لازمی اقدام تھا۔ مَیں تو کہتا ہوں کہ اگر اُس وقت جناح صاحب کی جگہ محترم جاوید احمد غامدی جیسا شریف بندہ بھی ہوتا، تو وہ بھی ایسا ہی کرتا۔ اس موقع پر باچا خان کا احتجاج غیر ضروری اور غیر حقیقی تھا۔
عزیزانِ من! سانحۂ بابڑہ تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ سیکڑوں معصوم جانیں ضائع ہوئیں۔ یہ ظلمِ عظیم تھا، جسے کسی صورت درست نہیں کہا جا سکتا…… لیکن سوال یہ ہے کہ باچا خان جیسے بڑے لیڈر نے حالات کو اس نہج تک کیوں جانے دیا؟ پاکستان اُس وقت ایک نوزائیدہ ملک تھا۔ روزانہ سرحد پار سے لاشوں سے بھری ٹرینیں آ رہی تھیں۔ ملک عدمِ استحکام کا شکار تھا۔ ایسے وقت میں ایک نیا محاذ کھول کر ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کی سیاست کرنا کسی بھی طور دانش مندی نہیں تھی۔
یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آزادی سے چند ماہ قبل باچا خان کے سیاسی رشتہ دار جماعت کانگریس نے آسام میں مسلم لیگ کی حکومت ختم کر دی تھی۔ وزیرِاعلا سر محمد سعد اللہ کو ہٹا کر اپنی حکومت بنا لی تھی۔ حالاں کہ تقسیم ابھی عمل میں بھی نہیں آئی تھی۔ اس کے مقابلے میں جناح صاحب نے صوبہ سرحد کی حکومت تقسیم کے بعد ختم کی۔ فرق صاف ظاہر ہے کہ ایک طرف کانگریس نے غیر منصفانہ طور پر مسلم لیگ کو اقتدار سے محروم کیا، جب کہ دوسری طرف جناح صاحب نے نئی ریاست کی وحدت اور رٹ قائم کرنے کے لیے لازمی فیصلہ کیا۔
پانچویں لغزش:۔ باچا خان کی پانچویں بڑی لغزش یہ تھی کہ اُنھوں نے پختونوں کو روزِ اول سے پاکستان سے بدظن کیا۔ اُنھوں نے اسمبلی میں کھڑے ہو کر کہا: ’’ہمیں ہماری مرضی کے بغیر پاکستان کے حوالے کیا گیا ہے۔ ہم پاکستان کو تسلیم نہیں کرتے!‘‘
جب پختونوں کا سب سے بڑا لیڈر یہ اعلان کرے گا، تو عوام کے دل میں پاکستان کے لیے نفرت اور بداعتمادی ہی پروان چڑھے گی۔ پھر یہی نظریہ ’’پختونستان‘‘ کے نعرے کی شکل میں دہائیوں تک سنائی دیتا رہا، بل کہ آج تک ’’لر او بر‘‘ جیسا بے معنی نعرہ فضاؤں میں گونجتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ باچا خان نے وصیت بھی کی کہ اُنھیں پاکستان میں دفن نہ کیا جائے۔ کیوں کہ یہ مٹی غلام ہے، بل کہ افغانستان میں دفن کیا جائے۔ یہ وہ بیج تھے، جنھوں نے پختونوں کے دل میں پاکستان سے دوری اور شک و شبہات کی فصل بوئی۔
یہی وجہ ہے کہ آج ’’پختون تحفظ موومنٹ‘‘ جیسی تحریکیں پختونوں کے اندر سے نکلتی ہیں، جو ریاست مخالف بیانیہ اپناتی ہیں۔ اس تحریک کی فکری غذا بہ راہِ راست باچا خان کے نظریے سے جڑی ہوئی ہے۔ نقصان کس کا ہو رہا ہے؟ پختون ہی مر رہے ہیں، پختون ہی بے گھر ہو رہے ہیں اور پختون ہی تباہ ہو رہے ہیں۔
عزیزانِ من! باچا خان ایک عظیم لیڈر تھے، اس میں کوئی شک نہیں…… لیکن وہ انسان تھے، اور انسان غلطی سے مبرا نہیں۔ اُن کی سیاسی لغزشوں نے پختون قوم کو ایک ایسی راہ پر ڈال دیا جو آج تک انتشار اور بداعتمادی کی تصویر ہے۔ آج اُن کے پیروکاروں سے درخواست ہے کہ وہ باچا خان کی خدمات کو یاد ضرور رکھیں، مگر اُن کی سیاسی کم زوریوں کو درست قرار دے کر پختون نسلوں کو مزید تباہی کے راستے پر نہ ڈالیں۔ غلطیوں سے رجوع کرنا ہی اصل عظمت ہے۔ پختون قوم کو پاکستان کے اندر رہ کر اپنی اصلاح اور ترقی کی راہ اختیار کرنی ہوگی، یہی اُن کے لیے سب سے بہتر راستہ ہے ۔
باچا خان نے انگریز سامراج کے خلاف قربانیاں ضرور دیں، لیکن پاکستان کے خلاف اُن کی ضد اور سیاسی لغزشوں نے پختونوں کو اپنے ہی وطن میں اجنبی بنا دیا۔ تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ عظیم لیڈر وہی ہے، جو وقت کے تقاضے پہچان لے اور اپنی قوم کو ٹکراو نہیں، بل کہ اتحاد اور ترقی کی راہ پر ڈالے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










