حقیقی ایبسلوٹلی ناٹ

Blogger Advocate Muhammad Riaz

قومی اسمبلی میں امریکی ایوانِ نمایندگان کی قرارداد کے خلاف قراردادپیش کی گئی، جسے بھاری اکثریت سے منظور کرلیا گیا۔
قرارداد میں کہا گیا کہ یہ ایوان امریکی ایوان میں منظور ہونے والی قرارداد کا نوٹس لے رہا ہے، اور یہ کہ 8 فروری کو منعقد ہونے والے انتخابات میں کروڑوں پاکستانیوں نے ووٹ دیا۔ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت غیر مناسب ہے۔ حکومت، پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کرے۔ امریکی قرارداد پر اظہارِ افسوس کیا گیا اور کہا گیا کہ امریکی قرارداد مکمل طور پر حقائق پر مبنی نہیں۔
ایڈوکیٹ محمد ریاض کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/adv/
قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے۔ پاکستان اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت برداشت نہیں کرے گا۔ امریکی ایوانِ نمایندگان کی قرارداد واضح طور پر پاکستان کے سیاسی اور انتخابی عمل سے نابلد ہونے کی عکاسی کرتی ہے۔ امریکہ اور عالمی برادری غزہ اور کشمیر میں مظالم کا نوٹس لے۔ امریکی کانگریس کو غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر توجہ دینی چاہیے۔ امریکی کانگریس کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر توجہ دینی چاہیے۔ ایوان چاہتا ہے کہ پاک امریکہ تعلقات باہمی احترام پر مبنی ہوں۔
پاکستانی حیرت زدہ رہ گئے جب اپوزیشن ارکان نے شائستہ پرویز ملک کی جانب سے امریکہ مخالف قرارداد کی شدید مخالفت کی۔ سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے ایوان میں شدید نعرے بازی کی اور احتجاجاً نشستوں پر کھڑے ہوگئے۔ ’’سائفر سائفر‘‘ اور ’’شیم شیم‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر ایوان میں اُچھال دیں۔ حیران کن طور پر امریکی پارلیمنٹ میں منظور کی گئی قرارداد پر امریکی نمایندگان سے زیادہ لڈیاں پاکستان تحریک انصاف کے قائدین نے ڈالی ہوئی ہیں۔ ساڑھے پانچ سال صدارتی محل میں سرکاری روٹیاں توڑنے والے سابقہ سپریم کمانڈر جناب عارف علوی نے امریکی ایوانِ نمایندگان کی قراداد کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر ان کا بس نہیں چل رہا تھا۔ ورنہ ’’امریکہ زندہ باد‘‘ کے نعرے ضرور مارتے۔
دیگر متعلقہ مضامین:
مخصوص نشستوں کا حصول  
کیا عمران خان دوسرے بھٹو بننے جا رہے ہیں؟
مریم نواز شریف کا نیا روپ 
نواز شریف کو اس بار بھی اسٹیبلشمنٹ لے ڈوبی 
اہنے وہ کام جو پیپلز پارٹی کیش نہ کراسکی  
مخصوص نشستوں سے محرومی کا ذمے دار کون؟  
بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ امریکی قرار داد کو امریکی حکومت کی مداخلت نہیں کہا جاسکتا۔ سبحان اللہ، کیا کہنے! یعنی اپنے دورِ حکومت میں امریکی عہدے دار کی پاکستانی سفیر سے کی گئی گفت گو اور سائفرکے بعد چلنے والے ڈرامے کو ابھی تک کوئی پاکستانی بھول نہیں پایا۔ جناب عمران احمد خان نیازی کے غیر ملکی ٹی وی چینل پر انٹرویو کے دوران میں کہے گئے ایک جملے ’’ایبسلیوٹلی ناٹ‘‘ کو پی ٹی آئی نے ایسے کیش کروایا جیسا کہ ’’ورلڈ وار تھری‘‘ جیت لی گئی ہو۔ ’’ہم کوئی غلام ہیں،جو امریکہ کہے گا وہ مان لیں؟‘‘، ’’امریکی غلامی نامنظور‘‘ اور اس طرح کے دل فریب نعروں سے اپنے حمایتی افراد کا خون گرمایا۔ ابھی تک پی ٹی آئی قائدین اور کارکنان پی ڈی ایم حکومتوں کے دونوں ادوار کو امریکی حمایت یافتہ امریکی کٹھ پتلی حکومت قرار دیتے ہیں۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اُسی امریکہ جس کی مخالفت کے نام پر آپ جلسے جلوس نکالتے ہیں۔ ریاستی اداروں کے سربراہوں کو میر جعفر، میر صادق کے القابات سے نوازتے رہے۔ گاڑیوں کے پیچھے ’’امریکی غلامی نامنظور‘‘، ’’ایبسلیوٹلی ناٹ‘‘، ’’ہم کوئی امریکی غلام ہیں‘‘ وغیرہ کے دل فریب اور جذباتی نعرے تحریر کرتے ہیں، آج اسی امریکہ کی پاکستان مخالف خلاف قرارداد کے حق میں کود پڑتے ہیں۔ یہ وہی امریکہ ہے جو ابھی تک غزہ میں ہزاروں فلسطینی مسلمانوں کی شہادت پر آنکھیں بند کرکے خاموش تماشائی بلکہ دل کھول کر اسرائیل کی مالی اور فوجی امداد کررہا ہے۔ امریکہ کو لگتا ہے کہ غزہ کے مسلمانوں نے اسرائیل پر بہت ظلم کیا ہے، وہی امریکہ پاکستان میں پی ٹی آئی کے لیے پریشان ہے۔ یہ بات ہر پاکستانی کو سوچنے کی اشد ضرورت ہے۔
پاکستانی عوام خصوصاً پی ٹی آئی حمایتی افراد کو یہ بات ضرور سوچنی چاہیے کہ قرارداد پیش کرنے والے رُکنِ کانگریس رچرڈ میک کارمک موصوف وہی ہیں، جن کو غزہ میں شہید ہونے والے ہزاروں فلسطینیوں کی دادرسی کی بہ جائے "STAND WITH ISRAEL” کے نعرے بلند کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ امریکہ بہادر کی پاکستان اور دیگر ممالک میں جمہوریت کے لیے ’’تڑپ‘‘ کا اندازہ صرف اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ امریکہ بہادر کو غیر منتخب آمروں کے ساتھ دہائیوں تک چلنے میں کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوتی، مگر جیسے ہی جمہوری ادوار شروع ہوتے ہیں، تو اُنھیں چند ماہ کے اندر انسانی حقوق، آزادیِ رائے اور جمہوری اقدار کی فکر لاحق ہوجاتی ہے ۔
اس وقت پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہوکر امریکہ کو بھرپور جواب دینا چاہیے تھا۔ کاش، پی ٹی آئی اس موقع پر پاکستانی قرارد کی حمایت کرتی اور کہتی کہ ہم پاکستانی سب ایک ہیں۔ ہمارے باہمی اختلافات کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کوئی بیرونی طاقت ہمارے اندرونی معاملات میں ٹانگ اڑائے۔ یقین مانیں اس بات پر پی ٹی آئی کے قد کاٹھ میں مزید اضافہ ہوجانا تھا۔ بہ طور قانون و سیاست کے طالب علم، مجھے یہ بات کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہورہی کہ گذشتہ روز پاکستانی پارلیمنٹ نے جس انداز سے امریکی پارلیمنٹ کی قرارداد کا رد کیا ہے، یہ ہے حقیقی ایبسلیوٹلی ناٹ۔ ورنہ ہم نے تو ماضی میں کئی طاقت ور حکم رانوں کو امریکہ بہادر کے سامنے ڈھیر ہوتے دیکھا ہے۔
پاکستانی پارلیمنٹ زندہ باد!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے