ویسے میں نے بے شک ذاتی طور پر قریب 30 سال کرکٹ کھیلی اور مختلف علاقائی مطلب یونین کونسل لیول اور پرائیوٹ کمپنیوں میں کرکٹ ٹیم کی قیادت بھی کی۔ بچپن میں کرکٹ کی کمنٹری بہت شوق سے سنی اور جب ٹی وی کلچر کااجرا ہوا، تودیکھی بھی بہت…… لیکن اس کے باجود میں نے کرکٹ کو بہ طور کھیل کبھی پسند نہیں کیا، بل کہ میرا ہمیشہ سے موقف ہے کہ کرکٹ جیسا مہنگا اور وقت طلب کھیل پاکستان جیسے ملک کے لیے مناسب ہے، نہ ’’ایفورڈ ایبل‘‘۔
سید فیاض حسین گیلانی کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/fayaz/
مَیں آج بھی پوری ایمان داری سے یہ سمجھتا ہوں کہ ضیاء الحق کے دور میں کرکٹ کو ضرورت سے زیادہ ’’گلیمرایز‘‘ ایک خاص سیاسی حکمت عملی کے طورپرکیا گیا۔ اس حد تک اس کو پُرکشش بنایا گیا کہ یہ مہنگا کھیل بہت جلد ہمارے روایتی ثقافتی کھیلوں جیسے ’’سٹاپو‘‘، ’’پٹھو گرم‘‘، ’’کبڈی‘‘، ’’کشتی‘‘ اور ’’تیراکی‘‘ کو کھا گیا۔ پھر اس کھیل نے ہمارے ملک سے فٹ بال، ٹیبل ٹینس، لان ٹینس، گالف، بیڈ منٹن اور والی بال کو تباہ کر دیا۔ آخر میں اس نے ہمارے قومی اور کھیلوں کی دنیا میں ہمارا سکہ بٹھانے والے کھیل ہاکی اور سکواش کوبھی نگل لیا۔ ہر طرف کرکٹ کرکٹ کا شور برپا ہوا۔ میڈیا ہو یا تعلیمی ادارے بس کرکٹ، کرکٹ کے کھلاڑی سپر سٹار ،امیر ترین جب کہ ہاکی کے کھلاڑی نان چھولے اور بس کے کرایوں تک محدود۔ سکواش تو جیسے پاکستان میں کبھی تھی ہی نہیں۔
بہ ہرحال ہم بار ہا اس پرلکھ چکے ہیں کہ حکومت کو اس طرف توجہ دینا چاہیے۔ دوسرے ممالک سے سیکھنا چاہیے۔ مثلاً: کرکٹ کے بانی برطانیہ میں آج بھی زیادہ توجہ فٹ بال پر ہے، جب کہ کرکٹ کی دنیا کادیرپا چمپئن آسٹریلیا آج بھی فیلڈ ہاکی اور ٹینس کو ساتھ لے کر چل رہا ہے۔
اسی طرح نیوزی لینڈ میں رگبی اور ویسٹ انڈیز میں باسکٹ بال بہت مقبول ہیں۔ حتی کہ بھارت بھی ہاکی اور ٹینس کو ساتھ لے کر چل رہا ہے، لیکن ہم ہیں کہ خود ہی سب ختم کرکے کرکٹ کے اسیر بن گئے ہیں یا بنا دیے گئے ہیں…… اور کرکٹ میں ہماری کل کمائی کیا ہے، محض ایک بار ہم ورلڈ چمپئن بنے اورایک بار ٹی ٹوینٹی کے چمپئن…… لیکن ساری توجہ کرکٹ پر ہے۔
بہ ہرحال ہمارا آج کا موضوع امریکہ اور ویسٹ انڈیز میں منعقد ہونے والا ٹی ٹیوٹی ورلڈکپ ہے کہ جس کے پہلے ہی مرحلے میں پاکستان کی ٹیم کو عبرت ناک، بل کہ درد ناک شکست ہوئی۔ گو کہ اس عمر میں ذاتی طور پر مجھے اس بات سے کوئی دل چسپی نہیں کہ کون جیتا کون ہارا…… اور نہ بچپن والا وہ جنون ہی ہے کہ دن بھر ٹیلی وِژن سے چپکے رہو۔ سچی بات یہ ہے کہ ہمارا شمار اُن چند ایک لوگوں میں بالکل نہیں ہوتا، جو بھارت کے ساتھ میچ میں بہت جذباتی ہو جاتے ہیں اور اس کو ’’غزوۂ ہند‘‘ سمجھ لیتے ہیں، یا بنالیتے ہیں…… لیکن بہ ہرحال ایک بڑے لیول کا ایونٹ ہے، اور دنیا بھر کا میڈیا اس کو دکھا بھی رہا ہے، اس پر تبصرہ بھی کر رہا ہے، تو ہم اس سے بالکل لاتعلق نہیں رہ سکتے اور اسی وجہ سے تمام تر لبرل سوچ اور انسان دوستی کے باجود اندر کہیں نہ کہیں ایک محب الوطن پاکستانی بھی ہے اور بہ حیثیت پاکستانی یہ ایک بالکل فطری خواہش ہے کہ ہمارا ملک بھی اس بڑے ایونٹ میں اگر پہلی پوزیشن نہ بھی لیتا، تب بھی کم از کم پہلی چند پوزیشنوں پر ضرور آتا۔ مگر یہ افسوس کا مقام ہے کہ ہم ’’سپر ایٹ‘‘ میں بھی نہ جا سکے۔ امریکہ جیسی بالکل نئی ٹیم سے ہارگئے۔
دیگر متعلقہ مضامین:
کچھ عظیم کرکٹر انتخاب عالم کے بارے میں  
کرکٹ کی دنیا کا تیز ترین سٹمپ  
دنیائے کرکٹ میں انوکھا اعزاز  
صفر پر آوٹ ہونے والا کرکٹ کا اولین کھلاڑی 
کرکٹ کا سب سے بوڑھا کھلاڑی 
اب ہمارے کرکٹ بورڈ کو محض چند رسمی بیانات دینے کے بہ جائے اس پر بہت سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ اس کی وجوہات کی تہہ میں جانا ہوگا۔ کوچ اور کپتان کا جو نکتۂ نظر میڈیا میں آرہا ہے، اس پر ان دونوں کو بلا کر باقاعدہ تفصیلی بات کرنا ہوگی اور اس بات کی تفتیش ہر صورت میں کرنا ہوگی کہ یہ شکست محض تکنیکی بنیاد پر ہوئی، یا اس میں کچھ اور عوامل کا بھی عمل دخل تھا؟ خاص کر پاکستان بھارت میچ میں جو ہوا، اس کے بعد ہماری بات چند پروفیشنل کرکٹروں سے ہوئی۔ سب کا یہ خیال ہے کہ یہ میچ انتہائی مشکوک تھا اور ایک سکول کا بچہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ ایک بالکل واضح فتح کس طرح فوراً شکست میں بدل گئی؟ یعنی 70 فی صد میچ کے بعد جو ماہرین کی پیشین گوئیاں تمام ٹی وی چینل دِکھا رہے تھے، اُن کے مطابق پاکستان کی فتح کے چانس 93 فی صدتھے، مگر ایک دم سے کیا ہوا کہ آپ بہت معمولی سے رنز بنانے کی اوسط اور 3 وکٹیں باقی ہونے کے باجود ٹارگٹ تک نہ پہنچ سکے؟
مَیں نے خود نوجوانی میں کرکٹ بہت کھیلی، بل کہ مختلف ٹیموں کی قیادت بھی کی۔ جیسا کہ اوپر کچھ بڑے کھلاڑیوں کی رائے بھی رقم کی، تو مَیں یہ سمجھتا ہوں کہ ٹیم میں گروپنگ اور باہمی چپقلش اپنی جگہ ہوگی، لیکن بھارت سے شکست ممکنہ طور پر خود اختیاری تھی۔
ویسے ایک بڑے صحافی نے تو اپنے ’’وی لاگ‘‘ میں کپتان بابر اعظم پر بہت واضح بِکنے کا الزام بھی لگا دیا ہے…… لیکن بہ ہرحال یہ بات بہ ظاہر یقینی ہے کہ پاک بھارت میچ کا نتیجہ فطری نہیں، بل کہ سازش کی بنیاد پر تھا۔
ہوسکتا ہے کہ ٹیم کے بڑے کھلاڑیوں کو بھارتی تاجروں اور ساہوکاروں نے خرید لیا ہو۔ ہو سکتا ہے کہ ٹیم کے چند اہم کھلاڑیوں نے کپتان کو خراب کرنے کی سازش کی ہو اور ہوسکتا ہے کہ یہ میچ ’’فکس بکی‘‘ عناصر نے کیا ہو۔
میری رائے بہ ہرحال یہی ہے کہ یہ میچ جواریوں نے فکس کیا تھا۔ کیوں کہ اگر یہ میچ کسی اور طرف سے فکس ہوتا، تو پھر میچ کا پلڑا ابتدا ہی سے بھارت کے حق میں ہوتا…… لیکن جس طرح یہ میچ پہلی گیند ہی سے پاکستان کے حق میں تھا اور ایک وقت میچ کی صورت حال یہ تھی کہ پیشین گوئی والا آلہ پاکستان کی جیت کو 95 فی صد پر لے گیا تھا۔ پھر چند اُووروں میں ساری بازی پلٹ دی گئی۔ یہ بالکل اُس طرح کی صورتِ حال تھی کہ جس طرح امریکی ریسلنگ میں ایک گم نام پہلوان کو باقاعدہ مینج کرکے جتوایا جاتا ہے اور جب اُس کا نام ناقابلِ شکست مشہور ہوجاتا ہے، تو اُس کی کشتی ایک تیسرے درجے کے پہلوان سے طے کی جاتی ہے۔ اب چوں کہ مذکورہ جعلی پہلوان کی شہرت ناقابلِ شکست کی بن جاتی ہے، سو اُس پر جوا یا سٹا کا ریٹ کروڑوں میں چلا جاتا ہے۔ پھر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ محض اس ایک کشتی سے اربوں ڈالر سٹے بازوں کی جیب چلے جاتے ہیں۔
سو آپ اس کشتی کے مقابلوں کو پاکستان بھارت کرکٹ میچوں کے تناظر میں پرکھیں، تو آپ کو معلوم بلکہ واضح محسوس ہوگا کہ یہاں صورت بالکل ایسی ہی بنائی گئی۔ ٹورنامنٹ سے قبل یہ تاثر جائز حد تک تھا کہ بھارت کی ٹیم مضبوط ہے، جب کہ پاکستان کی ٹیم آئر لینڈ اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں سے سیریز ہار کر امریکہ پہنچی تھی۔ پھر اپنے پہلے میچ میں امریکہ سے ہار چکی تھی، لیکن جب پاکستانی ٹیم کا میچ بھارت سے شروع ہوا، تو پہلی گیند سے پاکستان کا پلڑا بھاری ہونا شروع ہوگیا اور جب قریب تین چوتھائی یعنی 75 فی صد میچ مکمل ہوا، تو پاکستان کی فتح یقینی نظر آنا شروع ہوگئی۔ یہی وہ وقت ہوگا جب سٹا بازوں نے بھارت کا اوسط پاکستان کے مقابل بہت زیادہ کر دیا۔ کیوں کہ میچ میں جب پاکستان کی فتح واضح نظر آرہی تھی، تو ظاہر ہے سارا سٹا پاکستان پر لگ رہا تھا، جب کہ سٹے بازوں کے اپنے ایجنٹ سٹا بھارت پر لگا رہے تھے۔ اُس وقت شاید اُن کے جاننے والے اُن کو پاگل قرار دے رہے ہوں، لیکن اُن کو اندر سے معلوم تھا کہ پاگل ہم نہیں، بل کہ ہم دنیا کو پاگل بنا رہے ہیں۔ پھر محض چند اُووروں میں بازی پلٹ گئی۔ بھارت جیت گیا۔ جوا لگانے والوں کے اربوں ڈوب گئے۔ سٹے باز راتوں رات ارب پتی بن گئے۔
یہ جو بات ہم نے محض تجزیے کی بنیاد پر بیان کی، اگر اس کو حقیقت مان لیا جائے اور ہمارے خیال میں یہ حقیقت ہے بھی، تو اس کا سیدھا سادھا مطلب یہ ہے کہ یہ میچ نہیں ہو رہا تھا، بل کہ ایک سکرپٹیڈفلم کی شوٹنگ ہو رہی تھی۔ ممکنہ طور ایک ایک بال طے شدہ تھی۔ وگرنہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک بین الاقوامی معیار کی ٹیم کہ جو ضرورت سے بہتر رن ریٹ پر جا رہی تھی، ایک دم سے ’’سٹک‘‘ ہوگئی۔ رنز کی اوسط رُک گئی اور یہ شک اُس وقت بھی قوی ہوجاتا ہے کہ ٹیل سائیڈ کی مڈل آرڈر جو ہر لحاظ سے ہٹ کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی، نے ہٹ کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ وگرنہ آپ کوشش کرتے، ہٹ مارتے اور چلو آؤٹ ہو جاتے، لیکن مقصد یہ تھا کہ رنز بنانے ہیں، نہ وکٹ دینی ہے۔ کیوں کہ بھارت نے اتنا کم مارجن دیا تھا کہ یہ ممکن تھا کہ اگر بات نیچے والوں پرآجاتی، تو شاید مارجن پورا ہی ہوجاتا اور پاکستان جیت جاتا۔
مثلاً: جس طرح نسیم شاہ نے دو چوکے مارے اگر اس کوایک آدھ اوور مزید مل جاتا، تو اس بات کا قوی اندیشہ تھا کہ وہ ساری منصوبہ بندی پر پانی پھیردیتا، بس ایک چھکا ہی تو مطلوب تھا۔ اس لیے ہم پاکستان کرکٹ بورڈ سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ اس شکست پر ایک اعلا سطح کی کمیٹی تشکیل دے، جو سابقہ کھلاڑیوں، صحافیوں اور انٹیلی جنس اداروں کے ماہرین پر مشتمل ہو، جو اس کی مکمل غیر جانب داری سے تحقیق کرے اور حقائق سے بورڈ کو آگاہ کرے۔
اس کے بعد اگر یہ کمیشن یا کمیٹی کسی کھلاڑی یا تکنیکی و انتظامی عہدے دار کو اس کا ذمے دار ٹھہراتی ہے، تو اس پر پابندی نہیں، بل کہ فوج داری دفعات کے تحت پرچہ دیا جائے اور اس کو بہ طور فوج داری مجرم کٹہرے میں لا کر اوپن ٹرائل کیا جائے اور مجرم ثابت ہونے کی صورت میں اس کو جیل کا مزا چھکوایا جائے۔ اسے عبرت کی مثال بنا دیا جائے ۔ اگر ایسا نہ کیا گیا، تو یہ مکروہ کام رُکنے والا نہیں۔ درحقیقت لڑکے اس سے خوف زدہ ہی نہیں ہوتے۔ کیوں کہ وہ اس طرح سوچتے ہیں کہ ایک کرکٹر کا کوئی طے شدہ مستقبل نہیں ہوتا۔ کسی بھی وقت کوئی بھی انجری کوئی بھی حادثہ، بل کہ کسی وجہ سے کسی ایک میچ سے بھی باہر ہونا اس کے سارے کیریئر کو تباہ کرسکتا ہے۔ سو موقع سے فائدہ اٹھاؤ اور پیسا بناؤ۔
المختصر، اگر ہم نے کرکٹ میں کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنا ہے، تو پھر ہمیں ایک آپریشن کلین اَپ کی ضرورت ہے۔ ٹیم کے کھلاڑیوں، مینجمنٹ اور کرکٹ بورڈ سب میں بنیادی تبدیلیاں بھی لانا ہوں گی اور سب میں میرٹ اور حب وطنی کو بھی لانا ہوگا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔