گذشتہ ہفتے پاکستان ایک نئے اور تلخ تجربے سے گزرا ۔ عمران خان کی گرفتاری پر جو غیر معمولی اور پُرتشدد ردِ عمل سامنے آیا، وہ نہ صرف غیر متوقع تھا بلکہ اُس نے ایک دنیا کو ششدر کردیا۔ اس قدر غصہ اور نفرت کہ لوگوں کے جو ہاتھ لگا، انھوں نے اُسے تباہ و برباد کردیا۔ حتیٰ کہ عسکری اداروں کی عمارتیں بھی محفوظ نہ رہیں۔
ارشاد محمود کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/irshad-mehmood/
ان واقعات کی بھرپور مذمت ہوئی اور ہونی بھی چاہیے۔ زیادہ گہرائی میں جاکر سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ لوگ محض عمران خان کی محبت میں اپنے ہی وطن کی اینٹ سے اینٹ بجانے پر تل گئے تھے، یا اس کی تہہ میں کچھ اور عوامل بھی کار فرما ہیں……جن پر سنجیدگی سے دھیان دینے کی ضرورت ہے؟
گذشتہ چند دنوں کے بیانات اور جوابی بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اور ریاستی ادارے سخت غیظ و غضب کا شکار ہیں۔ وہ سرکاری عمارات پر حملوں میں شریک شہریوں کے خلاف مقدمات قائم کرنے اور انھیں سزائیں دینے کی طرف مائل ہیں۔ یہ فطری ردِ عمل ہے اور قانونی تقاضا بھی…… لیکن یہ راستہ ملک کو ایک اور دلدل میں دھکیل دے گا۔ کیوں کہ اس سے مسئلہ حل نہیں بلکہ مزید بگڑ جائے گا۔ شہریوں بالخصوص نوجوانوں کی مرنے مارنے کی نفسیاتی کیفیت اور سماجی پہلوؤں کا جائزہ لینے اور پھر ان کا تدارک کرنے کی ضرورت ہے، نہ کہ قانون کا ہتھوڑا چلا کر لوگوں کا سر کچلنے کی۔
اگرچہ گذشتہ دس پندرہ برسوں میں ملک سے مڈل کلاس کا خاتمہ بتدریج ہو رہا تھا، لیکن موجودہ حکومت نے گذشتہ ایک برس میں اچھے بھلے خوش حال گھرانوں کو لنگر خانوں کا محتاج بنا دیا ہے۔ 60 فی صد نوجوانوں کی آبادی والے اس ملک میں اب صرف دو طبقات باقی بچ گئے ہیں:
ایک امرا کا طبقہ ہے۔
دوسرا مفلسین کا۔
امرا میں حکم ران اشرافیہ، نوکری شاہی، سیاست دان اوربڑے کاروباری طبقات شامل ہیں۔ طبقۂ مفلسین میں مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے عوام ہیں۔ پولیس سے جن کو روز جوتے پڑتے ہیں۔ ہسپتالوں میں ڈاکٹر ان کے گردے تک بیچ ڈالتے ہیں۔ تعلیم کے نام پر نجی ادارے اُن کی جمع پونجی لوٹ لیتے ہیں۔ عدالتوں میں وکلا اُن کا خون نچوڑ لیتے ہیں، لیکن مقدمات کا فیصلہ نہیں ہوپاتا۔ حکومت، سیکورٹی پر بجٹ کا بہت بڑا حصہ خرچ کرتی ہے، لیکن عالم یہ ہے کہ شہروں کے اندر بم دھماکوں میں لوگ مارے جاتے ہیں۔
شہری علاقوں کے مسائل کا انوکھا حل تلاس کیا گیا۔ تمام بڑے شہروں کے نواح میں امرا کے ایسے جدید شہر آباد کیے گئے، جہاں بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے، نہ مکینوں کو گرمی سردی کا احساس ہوتا ہے۔ کالی، پیلی اور نیلی ٹیکسی پر سفر کرنے والوں کا یہاں داخلہ بند ہے۔ تفریح کے لیے شان دار پارک ہیں۔ اعلا پائے کے سنیما ہال، سوئمنگ پول ایسے کہ آنکھیں چندھیا جائیں۔ تعلیمی ادارے ایسے جہاں فیس ڈالروں میں وصول کی جاتی ہے۔ اعلا سرکاری افسر، جج، وکلا، کاروباری خواتین و حضرات ان نئے آباد ہونے والے شہروں میں منتقل ہوچکے ہیں۔ اس کے برعکس پرانے شہروں میں پینے کا پانی تک دست یاب نہیں۔ گٹر اُبل رہے ہیں۔ بلدیاتی اداروں کے الیکشن تک نہیں کرائے جاتے، تاکہ اختیار نچلی سطح تک منتقل نہ ہوجائے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حال ہی میں جو اعداد و شمار جاری کیے، اُن کے مطابق ملک میں کُل ووٹروں کی تعداد ساڑھے بارہ کروڑ ہے…… جن میں 44 فی صد کی عمر 35 برس سے کم ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے پاکستان کو کم زور، غریب اور بدحال دیکھا ہے۔
پرویز مشرف کا مارشل لا لگ بھگ دس برس کھا گیا۔ نائن الیون کے بعد پاکستان مسلسل حالتِ جنگ میں ہے۔ قبائلی علاقہ جات، خیبر پختون خوا اور بلوچستان مسلسل دہشت گردی کا شکار رہے۔ لاکھوں لوگوں کو نقلِ مکانی کرنا پڑی۔ بھارت کے ساتھ کشیدگی کے نتیجے میں لائن آف کنٹرول پر گولا باری جاری رہی۔ آبادی کے ایک بڑے حصے نے پاکستان کو پُرسکوں دیکھا ہی نہیں۔
اس پس منظر میں حکومت اور نظام سے فرسٹریشن پیدا ہونا فطری امر ہے۔ اس فرسٹریشن کو عمران خان نے ایک تحریک کے قالب میں ڈھال لیا ہے۔ انھوں نے قانون کی بالادستی، حکم ران طبقات بالخصوص موروثی سیاست کے خلاف ایک موثر بیانیہ تشکیل دیا ہے۔ رفتہ رفتہ انھوں نے ملک کے طاقت ور طبقات کو بھی آڑے ہاتھ لینا شروع کیا۔ لوگ پہلے ہی خار کھائے بیٹھے تھے۔
افسوس……! پی ڈی ایم کی نااہل حکومت ایڑیاں رگڑنے کے باوجود آئی ایم ایف سے ارب دو ارب ڈالر بھی نہ حاصل کرپائی، لیکن اس دوران میں اُس نے عالمی مالیاتی ادارے کے ’’شاہی فرمان‘‘ پر اپنے عوام کے کس بل نکال دیے۔
مشکل حالات کے باوجود وزیرِ اعظم شہباز شریف برطانیہ کے نئے بادشاہ چارلس فلپ آرتھر اور اُن کی اہلیہ ملکہ کنسورٹ کمیلا کی تاج پوشی کی تقریب میں پورے کروفر سے شریک ہوئے۔ یہ زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہی ہے۔
لوگ عمران خان کی محبت میں کم لیکن اپنی محرومیوں اور ناکامیوں کا بدلہ لینے پرزیادہ تلے ہوئے ہیں۔ حالیہ واقعات آنے والے طوفان کی محض ایک جھلک ہیں۔ ڈریں اُس وقت سے جب مخلوقِ خدا بے قابو کر شاہی محلات کا رُخ کرے گی۔ اُس وقت ’’کوئی بندہ رہے گا اور نہ کوئی بندہ نواز۔‘‘
مخالف سیاست دانوں، صحافیوں اور اختلاف کرنے والی آوازوں کو دباکر یا جیلوں میں ڈال کر حکومت کچھ بھی نہ حاصل کرپائے گی۔ شہری آزادیوں پر لگنے والی قدغنوں، سوشل میڈیا پر پابندیوں اور ذرائع ابلاغ کو مخصوص کوریج کا پابند کرنے سے حکومت کو سوائے بدنامی اور ناکامی کے آج تک کچھ ملا ہے اور نہ آیندہ ملنے والا ہے۔
عمران خان کے خلاف اتحاد بنانے اور مقدمات قائم کرنے کی بجائے آزادانہ اور شفاف الیکشن کرایا جائے۔ یہ عوام پر چھوڑ دیا جائے کہ وہ اپنی لیڈر شپ کس شخصیت یا جماعت کے حوالے کرتے ہیں۔ یہی جمہوریت کا تقاضا ہے۔ بصورتِ دیگر بے یقینی، سیاسی عدمِ استحکام کا موجودہ سلسلہ اگلے کئی برسوں تک تھم نہ سکے گا۔
مقتدر اداروں کو اپنے عمل سے یہ یقینی بنانا ہوگا کہ وہ کسی جماعت یا سیاست دان کے خلاف نہیں، نہ کسی جماعت یا سیاست دان کی وہ جنرل الیکشن میں حمایت یا مخالفت ہی کریں گے۔
عمران خان اور ان کی پی ٹی آئی کے خلاف سیاسی مخاصمت کی بنیاد پر بننے والے مقدمات کا سلسلہ بھی تھم جانا چاہیے۔ یہ ایک لاحاصل مشق ہے…… جو کسی لیڈر کو کم زور نہیں بلکہ مقبول بناتی ہے۔ کم ازکم گذشتہ ایک برس کا تجربہ یہی سبق دیتا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔