وادئی باشو (گلگت بلتستان)

Blogger Hanif Zahid

’’باشو‘‘ (جسے بشو بھی کہتے ہیں) ایک وادی ہے، جو پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں واقع ہے۔ یہ وادی 3,600 میٹر (11,800 فٹ) کی بلندی پر واقع ہے اور اس میں باشو گلیشیر سمیت متعدد گلیشیر ہیں۔وادئی باشو کو پہلی بار برطانوی کوہ پیما ولیم مارٹن کونوے نے 1892ء میں دریافت کیا تھا۔ […]

دیوسائی کے برفانی چیتے

Blogger Haneef Zahid

گذشتہ سہ پہر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’فیس بُک‘‘ پر اِک پوسٹ نظر کے سامنے چمکی، جو اِک عزیز مہربان محمد حسن ڈورو کے اک محیر العقول کارنامے کے بارے میں تھی، جس میں اُن کو اپریل میں دیوسائی عبور کرنے کی مبارک باد دی گئی تھی۔ یہ پڑھ کر ہم انگشتِ بہ دنداں […]

ڈاکٹر شاہد اقبال کا سفرنامہ ’’لپکے لاء‘‘ (تبصرہ)

Blogger Hanif Zahid Borewala

’’سفر نامہ‘‘ ہم جانتے ہیں کہ یہ لفظ بے جا کثرتِ استعمال سے بے آبرو ہوچکا ہے۔ کوئی اچھی تصویر بنا لے، اچھا کوہ پیما ہو، کوہ نورد، سیاح یا با ئیکر ہو، تو اچھا لکھ بھی لے…… ایسا شاذ و نادر ہوتا ہے۔ ہم اچھا لکھنے کے معاملے میں شیخ سعدی کے ہم نوا […]

کچھ امجد علی سحابؔ کے بارے میں

Blogger Hanif Zahid

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اہلِ سوات انتہائی مہمان نواز اور محبتوں کے شان دار سوداگر ہیں، جو محبتوں کے بدلے محبتوں کا ہی سودا کرتے ہیں۔ ان کے دل سوات کے حسن کی مانند بے پناہ فطری خوب صورتی سے مالا مال ہیں۔ اس لیے تو انھیں مصنوعی غازہ و مشاطگی کی […]

"ڈینڈی بوائے” (شخصی خاکہ)

بچپن کی بات ہے، ہمارے گاؤں میں ایک بوڑھی اماں ہوا کرتی تھی۔ اس کے لخت جگر کا نام حنیف ہوا کرتا تھا۔ وہ جب بھی اُسے اُونچی آواز دے کر پکارتی، تو ہمیشہ اپنی سادگی اور بھول پن کی وجہ سے نحیف کہتی تھی…… یعنی ’’وے نحیف…… وے نحیف پتر!‘‘ مگر ہمارا دوست حنیف […]

سفرنامہ ’’سفرِ عشق و جنوں‘‘ (تبصرہ)

یہ مشک بار تحفۂ کتاب مجھے ماضی کی یادوں کی بارات تک لے گیا۔ آج کل زندگی جمود کا شکار ہے، مگر یہ شاعرانہ نثر پردازی، جادوئی قصہ گوئی، بلا کم و کاست واقعہ نگاری، افسانوی رنگ، سلیس محاورہ بندی، سحر انگیز محسوسات، جزیات نگاری، مِزاح نگاری اور بے باکی کا مرقع کتاب مجھے پھر […]