’’قاضی حنیف‘‘ شخصیت جو بے قدری کا شکار ہوئی

Blogger Fazal Raziq Shahaab

یہ اصطلاح ہم 60ء کی دہائی سے سنتے آرہے ہیں کہ پاکستان سے ’’برین ڈرین‘‘ تیزی سے جاری ہے۔ اس کا سبب صرف معاشی حالات کی ناسازگاری نہیں تھا، بلکہ یہاں کی بیوروکریسی کی فرعونیت، حسد اور ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچے جانے کا نہ ختم ہونے والا کھیل اس کی وجوہات میں شامل ہے۔ […]

ریاستی دور میں رکھے جانے والے عام نام

Blogger Fazal Raziq Shahaab

شاید آپ لوگوں کے مشاہدے میں یہ بات ضرور آئی ہوگی کہ پشتو سپیکنگ لوگوں میں بالعموم اور سواتیوں میں بالخصوص بعض نامانوس، نامعلوم اور مہمل قسم کے نام رکھے جاتے ہیں، جن میں بعض کے تو معنی بھی نہیں نکلتے۔ مثال کے طور پر ’’جانس‘‘ (Janas) ایک عام سا نام ہے، مگر میری سمجھ […]

سوات کی تاریخ مسخ ہونے سے کیسے بچائی جائے؟

Blogger Fazal Raziq Shahaab

مجھے اپنی کم مائیگی کا اور ناقص تعلیم کا اور عمر کے تقاضوں کا احساس ہے۔کبھی میری رائے یا تبصرے ناقص بھی ہوسکتے ہیں…… اور یقینا ایسا ہی ہوگا۔ مثال کے طور پر لارڈ ارون کے دورۂ سوات کے مقاصد اور تاریخ کے بارے میں میرا تبصرہ ایک لحاظ سے غلط تھا۔ بدقسمتی سے جن […]

ریاستِ سوات کے الحاق بارے نیا شوشا

Blogger Fazal Raziq Shahaab

اچھا جناب……! عام ہڑتال بھی ہوچکی ٹیکسوں کے خلاف…… پتا نہیں ٹیکس لگتے ہیں یا نہیں……! مگر یار لوگوں نے گرم توا سر پر رکھا ہوا ہے۔ بھانت بھانت کی بولیاں اور عجیب وغریب قسم کی تاویلات سامنے آرہی ہیں۔ بھائی سیدھے سبھاو تو ایک ہی بات کروکہ ’’وفاق کو مانتے ہو کہ نہیں۔‘‘ فضل […]

دورِ ریاستِ سوات کے ایک قصاص کی کہانی

Swat State Blogger Fazal Raizq Shahaab

اس تحریر کے ساتھ سیدو بابا مزار کی ایک تصویر دی جا رہی ہے جس میں لکڑی کا ایک پُل نظر آرہا ہے۔ مذکورہ پُل کے دوسرے اینڈ پر ایک تو شاہی محمد ولد نظرے حاجی صاحب کی کپڑے کی دُکان تھی۔ کبھی کبھی امیر زادہ اُستاد صاحب بھی کپڑا ناپتے نظر آتے تھے۔ فضل […]

ریاستِ سوات کا بھونڈے انداز سے ادغام

Swat State Blogger Fazal Raziq Shahaab

یوسف زئی ریاستِ سوات کا شاہی علم 28 جولائی 1969ء کو آخری بار شام کے وقت فلیگ سٹاف سے اُتارا گیا اور پھر ہمیشہ کے لیے لپیٹ دیا گیا۔ پھر نہ کسی نے والئی سوات کی رہایش گاہ پر اسے لہراتے ہوئے دیکھا، نہ اُن کی آف وائٹ مرسیڈیز کے بونٹ پر۔ فضل رازق شہاب […]

روسی خبر رساں ایجنسی کا والئی سوات بارے بیان

Blogger Fazal Raziq Shahaab

’’تصویر میں نظر آنے والا شخص20 ویں صدی کا طاقت ور ترین حکم ران تھا۔‘‘ یہ روسی خبر رساں ایجنسی ’’تاس‘‘ کا تبصرہ ہے، جو اُس نے 28 جولائی 1969ء کو ریاست کے ادغام پر کیا تھا۔ ایک ایسا حکم ران (میاں گل عبدالحق جہانزیب) جس سے کوئی بھی شخص دفتری اوقات میں مل سکتا […]

سوات، 1965-66ء کے خوف ناک زلزلے

Blogger Fazal Raziq Shahaab

غالباً 1965ء یا 66ء کا سال تھا۔ موسمِ سرما کے دن تھے۔ہم افسر آباد کی پرانی حویلیوں میں سے ایک میں مقیم تھے کہ اچانک بغیر کسی وارننگ کے زلزلے شروع ہوگئے۔ یہ زلزلے کئی دن تک مسلسل جاری رہے۔ دن رات لوگ کمروں کے اندر جانے سے ڈرتے تھے۔ رات کو کھلے صحن میں […]

ملوک حاجی صاحب، ایک سچا دوست

Blogger Fazal Raziq Shahaab

گذشتہ کچھ دنوں سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’فیس بُک‘‘ پر چند مخصوص دوستوں کی جانب سے مینگورہ کی ایک نام ور شخصیت کے بارے میں کچھ ہونی اَن ہونی باتیں سامنے آتی رہیں۔ مَیں نے ایک آدھ کا جواب دیا بھی…… مگر آج جی چاہتا ہے کہ کچھ متنازع باتوں کو نظر انداز […]

ریاست سوات دور کی ملازمت کیسی ہوتی تھی؟

Blogger Fazal Raziq Sahaab

ریاستی دور کی ملازمت بھی ایک ایڈونچر سے کم نہیں تھی۔ صبح شیو کرنے کے بعد موسم کی مناسبت سے مغربی لباس پہننا، ٹائی یا بو لگانا، صاف ستھرا نظر آنے کا اہتمام کرنا اور اگر حضور کے دفتر میں پیشی کا موقع ملا ہے، تو دعائیں مانگنا اس پر مستزاد۔ فضل رازق شہاب کی […]

والدہ ماجدہ کی یاد میں

Blogger Fazal Raziq Shahaab

دوستو! یکم اپریل میری ماں کا یومِ وفات ہے۔ اللہ اُن کی قبر نور سے بھر دے، آمین! مَیں نے زندگی بھر ماں کو دکھ ہی دیے ہوں گے۔ مَیں تھا ہی ایسا بدنصیب…… مگر اب پچھتاوے کے علاوہ میرے پاس کچھ نہیں۔ ایک بھلانا چاہوں، تو دو یاد آتی ہیں۔ ماں نے ہمیشہ نہ […]

ناسٹلجیا

Blogger Fazal Raziq Shahaab

مجھے بارش میں چھتری لے کر چلنا اچھا لگتا تھا۔ غالباً یہ بہت کم عمری میں برساتی میں چھپ کر برستی بارش کے دوران میں صحن میں بیٹھ جاتا تھا۔ برساتی پر بارش کے قطروں کی آواز مجھے بہت بھلی لگتی تھی۔ کالج کے دنوں میں ’’ودرنگ ہائیٹس‘‘ لے کر ایسی جگہ بیٹھ جاتا، جہاں […]

نیرنگیِ زمانہ

Blogger Fazal Raziq Shahaab

صبح ایک فاتحہ کے لیے گاؤں (ابوہا) کے درمیان ایک مسجد جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک تنگ گلی سے گزرتے ہوئے گاؤں کی روزمرہ سرگرمیوں کی جھلک دیکھنے کو ملی۔ ایک گھر کے دروازے پر بیٹھا دودھ والا اوٹ سے ایک خاتون کو دودھ دے رہا تھا۔ ایک اور گھر کے دروازے سے خاتونِ خانہ […]

ریاستِ سوات کی سرکاری زبان بارے ایک ضروری وضاحت

Blogger Fazal Raziq Shahaab

مَیں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’فیس بُک‘‘ پر ایک پوسٹ انگریزی میں پیش کی تھی، جس کا اُردو ترجمہ یہاں ملاحظہ ہو: ریاستِ سوات کی سرکاری زبان پشتو تھی۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے…… مگر یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ ریاست کی عدالتی زبان پشتو تھی۔ والئی سوات کے تمام فرامین […]

کچھ باجکٹہ (بونیر) کے سید کریم خان کے بارے میں

Blogger Fazal Raziq Shahaab

غالباً1961ء کا سال تھا۔ اگست کا مہینا تھا اور برسات کا موسم تھا۔ ہم یعنی ’’سٹیٹ پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ‘‘ کا عملہ اپنے سربراہ محمد کریم صاحب کے ساتھ آلوچ میں ایک دن رات گزارنے کے بعد واپس سیدو شریف کی طرف آرہے تھے۔ ڈھیرئی پہنچے، تو شدید بارش ہونے لگی۔ سڑک کچی تھی اور بارش […]

کچھ ناخواندہ ماہرِ تعمیرات عبید اُستاد کے بارے میں

Blogger Fazal Raziq Shahaab

آج کی نشست عبید استاد کے نام کرتا چلوں۔ عبید استاد، دستخط مستری کی طرح اَن پڑھ تھے اور دستخط مستری ہی کی طرح ماہرِ تعمیرات تھے۔ 1928ء سے جولائی 1969ء تک جب ریاست ختم ہوئی، بونیر میں جتنی بھی ریاستی عمارات از قسم ہسپتال، سکول، ڈسپنسری، رہایشی مکانات، عدالتیں اور پل تعمیر ہوئے، وہ […]

ہماری بچپن کے روزوں کی یادیں

Blogger Fazal Raziq Shahaab

رمضان شروع ہوا چاہتا ہے۔ رمضان شریف کا برکتوں والا مہینا ہے اور دُکان داروں نے چھریاں تیز کردی ہیں۔ کوئی مال چھپا رہا ہے، کوئی سجا رہا ہے۔غریب کا تو ہمیشہ سے برا حال ہے۔ اس دفعہ متوسط طبقہ بھی پریشان ہے کہ کس طرح رمضان کو "Manage” کرنا ہے۔ مَیں تو ذاتی طور […]

پروفیسر خواجہ عثمان علی کی آمد اور کچھ پرانی یادیں

Blogger Fazal Raziq Shahaab

ٹائم تو مَیں نے نہیں دیکھا، مگر شام سے تھوڑی دیر پہلے کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ میرا پوتا مزمل باہر گیا اور واپس آکر بتایا کہ ’’پروفیسر خواجہ عثمان علی صاحب آئے ہیں۔‘‘ فضل رازق شہاب کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: https://lafzuna.com/author/fazal-raziq-shahaab/ یقین کیجیے مَیں تھوڑا سا […]

ہماری کیرم بورڈ سے جڑی جوانی کی یادیں

Blogger Fazal Raziq Shahaab

کل پرسوں اپنے پوتوں کے ساتھ کیرم کھیل رہا تھا۔ مَیں نے ایک دفعہ ویسے کَہ دیا کہ مجھے وہ دن بہت یاد آرہے ہیں، جب مَیں ڈگر کالج کی کالونی میں قیام پذیر تھا۔ ہم یعنی پروفیسر ہمایوں خان، پروفیسر قاضی عبدالواسع اور ہمارے ایس ڈی اُو جمیل الرحمان صاحب اور مَیں شام کے […]

فتنۂ قادیانیت اور لڑکپن کی یادیں

Blogger Fazal Raziq Shahaab

آج کل کے ایک متنازع فیصلے پر اُٹھتے ہوئے ’’سوشل میڈیائی ہنگامے‘‘ نے مجھے کالج کے وقتوں کا ایک واقعہ یاد دِلا دیا۔ سب سے پہلے کچھ اُس کا نقشا کھینچ لوں۔ 1958ء میں جب مَیں نے جہانزیب کالج میں داخلہ لیا۔ اُس وقت میرے بچپن کے دوست اسفندیار ’’سیکنڈ ائیر‘‘میں تھے، یعنی مجھ سے […]

افسر آباد (سیدو شریف) سے جڑی یادیں

Blogger Fazal Raziq Shahaab

ہمارے افسر آباد میں اکثر پڑوسی بدلتے رہے، مگر ایک ہم تھے کہ آخری حویلی کی مسماری تک وہیں پر رہے۔ اُس کے بعد بھی افسر آباد سے نہ نکل سکے۔ وہیں پر سڑک کنارے جدید طرز کے 4 بنگلوں کے بلاک میں سے ایک میں شفٹ ہوگئے۔ اُسی میں 14 سال مزید گزارے اور […]