ریاست سوات دور کا شگئی سکول

Blogger Fazal Raziq Shahaab

شگئ سکول سیدو شریف کے ساتھ ہماری کئی یادیں وابستہ ہیں۔ یہ مرغزار روڈ کے کنارے ایک اونچے پہاڑ کے دامن میں واقع ہے ۔ 1949ء کے ابتدا میں ودودیہ ہائی سکول کے پرائمری بلاک میں مختصر مدت کے بعد ہم کو اس نئے تعمیر شدہ سکول میں منتقل کیا گیا۔ یہاں پر ہمارے اولین […]

ریاستی دور، سوات سنیما اور ودودیہ سکول کی یادیں

Blogger Fazal Raziq Shahaab

جناب نعیم اختر کی ایک پوسٹ سے شہ پاکر آپ سے چند یادیں شیئر کرتا چلوں، جس میں اُنھوں نے سوات کے ایک مایہ ناز آرٹسٹ مراد کا ذکر کیا تھا، جو سنیما کے لیے سائن بورڈ بناتے تھے۔ خاص کر نئی فلم کے بارے میں مختلف سائز کے بورڈ تیار کرتے تھے۔جیسا کہ نعیم […]

سوات، 1971ء کے انتخابات کی ایک یاد

Blogger Fazal Raziq Shahaab

سوسائٹی سے شایستگی اور رواداری اُٹھ گئی ہے۔ ہما شما قسم کے لوگ سیاست میں کیا آئے، شرافت کا جنازہ نکل گیا۔ اتنے چھچھورے لوگ لیڈر بن گئے ہیں، جو پہلے تو بہ وقتِ ضرورت آپ کو باپ بھائی اور دوست بنائیں گے…… اور منتخب ہونے کے بعد اُن کی گردنوں میں سریا لگ جاتا […]

سٹیٹ پی ڈبلیو ڈی کا ارتقائی سفر (دوسرا حصہ)

Blogger Fazal Raziq Shahaab

سوات پی ڈبلیو ڈی کے کچھ امتیازی پہلو یہ بھی ہیں کہ اس کی سپریم اتھارٹی والئی سوات خود تھے۔محکمے کے سربراہ محمد کریم صاحب اور حکم ران کے درمیان براہِ راست رابطہ رہتا تھا۔ والئی سوات اس محکمے کو ’’اپنا محکمہ‘‘ کہتے تھے۔ محمد کریم صاحب، ڈائریکٹر تعلیم سید یوسف علی شاہ اور ڈائریکٹر […]

سٹیٹ پی ڈبلیو ڈی کا ارتقائی سفر

Blogger Fazal Raziq Shahaab

قرائین سے پتا چلتا ہے کہ باچا صاحب میاں گل عبدالودود کے عہد میں بعض محکموں کے واضح خدوخال نہیں تھے۔ فوج ابتدا ہی سے تعمیری سرگرمیوں میں مصروفِ عمل تھی۔ مثال کے طور پر قلعوں کی تعمیر، سڑکوں کی توسیع، پلوں وغیرہ کی تعمیر میں فوج ہی سے لیبر کا کام لیا جاتا تھا۔ […]

آڑو کے سوات پر منفی اثرات

Blogger Fazal Raziq Shahaab

سوات کی اِکالوجی اور اِکانومی دونوں پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی فصل ’’آڑو‘‘ ہے۔ گرمیاں اب بدبودار اور ناقابلِ برداشت ہوگئی ہیں۔ فضا میں ہر وقت 8 مہینے مختلف قسم کی دوائیوں کی بد بو پھیلی رہتی ہے۔ پرندوں کی کئی اقسام ناپید ہوچکی ہیں۔ سبزہ و شادابی کا وہ احساس جو […]

تاریخی ودودیہ سکول کے اولین طلبہ

Blogger Fazal Raziq Shahaab

جیسا کہ سکول ریکارڈ سے ظاہر ہے، ودودیہ ہائی سکول کے دوسرے دور کا آغاز یکم اپریل 1952ء کو ہوا۔ جب سنٹرل جیل سیدو شریف کو مناسب ترمیم کے ساتھ سکول میں تبدل کیا گیا۔ ہم پانچویں کلاس میں اس کے ابتدائی طلبہ میں شامل ہوئے۔ میرے اس وقت کے کلاس فیلوز میں میرے بڑے […]

خونہ چم کا تاریخی چشمہ

Blogger Fazal Raziq Shahaab

آج بیٹھے بیٹھے بلاوجہ خونہ چم کے چشمے کی یاد آگئی۔ ہم اُن دنوں چھوٹے بچے تھے ۔ یہی کچھ 5 یا 6 سال کے۔ شگئی سکول میں پڑھتے تھے۔ روزانہ چاہے گرمی ہو یا سردی…… افسر آباد سے لے کر شگئی سکول تک جانا معمول رہتا۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے […]

یادوں کی پوٹلی سے

Blogger Fazal Raziq Shahaab

سرِ دست اہل دانش سے ایک سوال ہے۔ سب سے پہلے تو یہ واضح کروں کہ مَیں ذات پات کے حوالے سے قرآنی رہنمائی کا قائل ہوں کہ شعوب و قبائل صرف پہچان کے لیے ہیں…… اور اکرام صرف اعمال و تقوا کی بنیاد پر ہے۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے […]

ایک شکار کی کہانی

کومبڑ سے نویکلے چوک تک سڑک کی لمبائی تقریباً 2 کلومیٹر ہے۔ اس کو سرکاری ریکارڈ میں کانڑہ بابا روڈ کہتے تھے، لیکن اس کے اور بھی عوامی نام تھے۔ جیسے: مری روڈ، ٹھنڈی سڑک۔ اس کے زیادہ تر لمبائی میں دونوں کناروں پر نہریں اور درخت ہوا کرتے تھے۔ آبادی کا دور دور تک […]

عبدالروف طوطا اور ڈاکٹر نجیب صاحب سے جڑی یادیں

٭ طوطا ایک نیچرل منتظم تھا۔ موقع اور تقریب کیسی بھی ہو، بس اس پر سب کچھ چھوڑو۔ طوطا جانے اور پروگرام۔ میرا خیال ہے یہ ان کی "Inborn” خصوصیت تھی۔اُن بھائیوں میں یہ خوبی شاید اُن کو گھٹی میں گھول کر پلائی گئی تھی۔ آپ مسکن کی مثال لیجیے۔ کئی سالوں سے عثمان غنی […]

امیر چمن خان (نائب سالار ریاستِ سوات)

Swat State by Blogger Fazal Raziq Shahaab

اس تحریر کے ساتھ شائع ہونے والی تصویر میں ریاست کی تاریخ کے تین اہم کردار نظر آرہے ہیں۔ بائیں سے شہزادہ میانگل جہان زیب ولی عہد ریاست، درمیان میں کھڑے محمد فقیر خان نائب سالار جب کہ دائیں امیر چمن خان نائب سالار ہیں۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے […]

سفید محل (وائٹ پیلس) سے جڑی یادیں

White Palace

2 9 اکتوبر کو بعد از دوپہر ابوہا سے چلے سوئے مرغزار۔ کئی سال بعد اس سحر آنگیز گوشۂ عافیت کو دیکھنے کا موقع ملا۔ یہاں چند لمحے گزار کر عہدِ گذشتہ کی یادیں تازہ ہوگئیں۔ کچھ ماضی کی جھلکیاں آپ کے ساتھ بھی شیئر کرتا چلوں۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے […]

ماضی کی پوٹلی سے

Fazal Raziq Shahaab

مَیں بچپن کی بعض باتیں صرف اس لیے دُہراتا ہوں کہ شاید کوئی اُن وقتوں کا ابھی تک زندہ ہو اور اُس سے رابطہ کی کوئی صورت نکل آئے۔ سیدو شریف کے موجودہ رکشوں کے سٹینڈ سے جو گلی سیدو بابا کی مسجد کی طرف نکلتی ہے۔ اُس کے دونوں طرف اُن دنوں مکانات تھے۔ […]

ریاستی دور کے ودودیہ ہائی سکول کا ایک مایہ ناز طالب علم

Blogger Fazal Raziq Shahaab

ودودیہ ہائی سکول کے سو (100) سال پورے ہونے کے موقع پر اسی سکول سے میٹرک کرنے والے ایک بے مثال طالب علم کے بارے میں کچھ معلومات آپ سے شیئر کروں گا۔ فضل رازق شہاب کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: https://lafzuna.com/author/fazal-raziq-shahaab/ ’’اسفندیار‘‘ ہمارے بچپن اور جوانی […]

حاجی رسول خان (مرحوم) کی یاد میں

Fazal Raziq Shahaab

حاجی رسول خان صاحب کو (مرحوم) لکھتے ہوئے دل میں ہوک سی اٹھتی ہے۔ کیا سدا بہار شخصیت تھی اُن کی۔ مَیں نے اُن کے کئی روپ دیکھے ہیں، مگر اصل رابطہ تو کئی سالوں بعد ہوا، جب اخبار میں اُن کے کالم پڑھنے کو ملے۔ ورنہ سکول اور کالج کی زندگی میں تو اُنھیں […]

تاریخی ’’گیمن کمپنی‘‘ کا ریاستِ سوات میں کام

Blogger Fazal Raziq Shahaab

آج 22 ستمبر کی صبح کو فیس بُک پر ایک ویڈیو ’’گیمن پل خوازہ خیلہ‘‘ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ سنگین غلطی ہے کہ ہم ہر پُل کو ’’گیمن‘‘ سے منسوب کرتے ہیں۔ اس کا تدارک نہایت ضروری ہے۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: […]

چکیسر سے جڑی چند یادیں

Blogger Fazal Raziq Shahaab

سنہ 1962، 63ء کی بات ہے۔چکیسر میں ایک شادی کے موقع پر رات کو رقص اور موسیقی کا پروگرام تھا، جو کھلی جگہ میں ہورہا تھا۔ چند معزز صاحبان تو کرسیوں پر بیٹھے تھے۔باقی سب لوگ کثیر تعداد میں دائرے کی صورت کھڑے تھے۔ مَیں اپنے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ نسبتاً ایک نیم تاریک […]

وہ بھی کیا دن تھے!

آپ کے خیال میں دوسری جنگِ عظیم میں کساد بازاری، مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کس لیول تک بڑھ گئی ہوگی اور اس کا تدارک حکومتوں نے کس طرح کیا ہوگا؟ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:  https://lafzuna.com/author/fazal-raziq-shahaab/ میری پیدایش تو 1943ء میں ہوئی، مگر ہمارے […]

سیدو ہسپتال کے ساتھ وابستہ میری یادیں

سیدو ہسپتال کی بہت ہی ابتدائی صورت اپنی یادداشت سے سنا رہا ہوں۔ اس کی ’’اُو پی ڈی‘‘ پتھر کی دیواروں اور لکڑی کی بنی ہوئی تھی۔ اوپر سی جی آئی شیٹ لگے تھے۔ برآمدے کے دو ستونوں کی جوڑی کے بیچ لکڑی کی خوب صورت جافریاں بنی تھیں، جن پر سبز رنگ کیا ہوا […]

افسر آباد کی کچھ یادیں

Afsar Abad Saidu Sharif

جب مَیں نے ہوش سنبھالا، تو اُس وقت ہماری مسجد افسر آباد (سیدو شریف) کے امام حافظ بختیار صاحب تھے۔ ان کی رہایش محمد شیرین کمان افسر صاحب (بعد میں کپتان/ منصف) کے پڑوس میں تھی۔ مسجد اُس وقت ایک بہت بڑے کمرۂ صلات، برآمدہ اور ایک کمرہ صحن کے کنارے باہر سے آئے طلبہ […]