سوئے سکردو (پہاڑوں کا عشق)

ایک سفر وہ ہے جس میںپاؤں نہیں دل تھکتا ہےاور ایک سفر وہ ہے، جو مَیں مسلسل پچھلے 40 سال سے کرتا آ رہا ہوں کہ جس میں دل نہیں تھکتا، پاؤں تھک جاتے ہیں۔ اگرچہ اب جسم میں وہ طاقت اور وہ نیرنگیِ چال نہیں رہی، جو کبھی پہلے ہوا کرتی تھی۔ جسم اب […]
انقلابِ ثور سے طالبان تک

روسی افواج نے 1885ء میں دریائے آمو کے جنوب میں واقع متنازع نخلستان ’’پنچ دہ‘‘ افغان فوج سے زبردستی چھین لیا۔ اس واقعے کے بعد 1885ء سے 1887ء کے درمیان انگریز، روسی اور افغانی نمایندوں پر مشتمل ایک مشترکہ سرحدی کمیشن نے روس اور افغانستان کے درمیان باقاعدہ سرحد کا تعین کیا۔ یہ دراصل ’’گریٹ […]
قارونی جمہوریت

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ’’قارونی جمہوریت‘‘ ایک ایسا المیہ بن چکی ہے، جس نے عوام کو مزید غریب اور سیاست دانوں کو مزید امیر بنانا اپنا مقصد بنا لیا ہے۔ یہ جمہوریت نہیں، بل کہ سیاسی اشرافیہ کی ایک تقریب ہے، جس میں اقتدار چند خاندانوں کے ہاتھ میں مرکوز ہوچکا ہے۔ اس نظام […]
’’افغانستان ناقابلِ تسخیر؟‘‘ (تجزیہ، تاریخی تناظر میں)

پاکستان اور افغانستان کے مابین سرحدی کشیدگی اب ایک باقاعدہ ’’میڈیائی جنگ‘‘ میں تبدیل ہوچکی ہے۔ دونوں ممالک میں بعض حلقے حالیہ جھڑپوں کو بنیاد بنا کر تاریخی حقائق کو مسخ کرنے لگے ہیں۔ شاید ’’محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے‘‘ والے مقولے کو پیشِ نظر رکھ کر پروپیگنڈے کو بھی بہ طورِ […]
برداشت اور مکالمہ، وقت کی ضرورت

پاکستان کی سب سے بڑی داخلی مشکلات میں سے ایک مذہبی و سیاسی شدت پسندی اور فرقہ واریت ہے، جو ہماری قومی یک جہتی کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہی ہے۔ شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی، وہابی یا سیاسی شناختوں کے حوالے سے ن لیگی، انصافی، جیالے ، لبیکیے ، جماعتیے ، مہاجر وغیرہ یہ […]
’’ٹرکونو ہوٹل‘‘ (پرانی صبحوں کا لمس)

ہمیں جب بھی پشاور یا اسلام آباد کے لیے رختِ سفر باندھنا ہوتا، تو اولاً گاڑی میں تیل ڈلواتے، ثانیاً ٹائروں میں ہوا بھرواتے اور ثالثاً پیٹ کی پوجا پاٹ کرتے۔ سو، تیل جہاں سے بھی ڈلواتے اور ہوا جہاں سے بھی بھرواتے، اس پہ کوئی روک ٹوک نہیں تھی، مگر ناشتا ہمیشہ ’’ٹرکونو ہوٹل‘‘ […]
نکاح نامہ: اصلاح کی ضرورت

شادی کرنا سنت بھی ہے اور معاشرتی ضرورت بھی۔ یہ ایک خوب صورت بندھن ہے، جو مرد و عورت کی زندگی میں توازن لانے کا باعث بنتا ہے۔ یہ زندگی بھر کے لیے قائم کیا جانے والا رشتہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لڑکی کے لیے لڑکے کا یا لڑکے کے لیے لڑکی کا […]
دو ناول، ایک انسانی کہانی

ادب کی دنیا ایک ایسا سمندر ہے جس کی گہرائی میں اترنا قاری کو نہ صرف ایک نئی دنیا سے روشناس کراتا ہے، بل کہ اس کے فکر و شعور کے نئے دروازے کھولتا ہے۔ یہی وہ جادو ہے، جو مجھے بار بار کتابوں کی طرف کھینچ لاتا ہے ۔ حال ہی میں میرے مطالعے […]
تعلیمی ادارے اور بے مقصد و بے ہودہ تقریبات

تعلیمی ادارے کسی بھی قوم کی فکری، اخلاقی اور سائنسی تعمیر و ترقی کے مراکز ہوتے ہیں۔ یہاں طلبہ میں علم و تحقیق کے ساتھ ساتھ کردار، حیا، تمیز اور خدمتِ انسانیت کا جذبہ پروان چڑھنا چاہیے…… مگر لگتا یوں ہے کہ آج ہمارے تعلیمی ادارے اپنی اصل روح سے بہت دور جا چکے ہیں۔اب […]
خون کی ہر بوند ایک نئی امید

انسانی زندگی کی بقا صرف سانسوں کی روانی پر منحصر نہیں، بل کہ اس کا خون کے بہاو پر بھی انحصار ہے۔ خون وہ قیمتی عطیہ ہے، جو انسان کے جسم کو نہ صرف زندہ رکھتا ہے، بل کہ زندگی کی حرارت کو بھی برقرار رکھتا ہے۔ دنیا بھر میں بلڈ گروپس کی تقسیم ایک […]
سانچہ یا سانچا؟

’’سانچا‘‘ (ہندی، اسمِ مذکر) کا املا عام طور پر ’’سانچہ‘‘ لکھا جاتا ہے، مگر ’’جہانگیر اُردو لغت‘‘ (جس میں ’’سانچہ‘‘ درج ہے) کے سوا تمام مستند لغات میں ’’سانچا‘‘ ہی ملتا ہے۔فرہنگِ آصفیہ کے مطابق ’’سانچا‘‘ کے معنی ’’قالب‘‘، ’’ڈھانچا‘‘، ’’دھات کی چیز یا کھانڈ وغیرہ کے کھلونے ڈھالنے کا اوزار‘‘ (وغیرہ) کے ہیں۔فرہنگِ آصفیہ […]
فتح اُندلس کا تحقیقی مطالعہ

اُندلس ایک جزیرہ نما ملک ہے، جسے عرب اختصار کے باعث ’’الجزیرہ‘‘ کہا کرتے تھے، ورنہ اس کا پورا نام ’’الجزیرہ شبہ‘‘ تھا۔اندلس کے تینوں اطراف میں سمندر پھیلے ہوئے ہیں۔ مشرق میں بحرِ روم، جسے بحرِ متوسط، بحرِ شان یا بحرِ مشرق بھی کہا جاتا ہے، مغرب میں بحرِ اوقیانوس جسے بحرِ محیط، بحرِ […]
ریاست شخصیات کی محتاج نہیں ہوتی

کسی بھی ملک یا قوم کی بقا اور ترقی کا راز اس کی ریاستی ساخت، آئینی نظام اور ادارہ جاتی نظم و نسق میں پنہاں ہوتا ہے، نہ کہ کسی ایک فرد کی ذہانت، بصیرت یا مقبولیت میں۔ تاریخ کا یہ مسلمہ سبق ہے کہ ریاستیں شخصیات کی نہیں، بل کہ شخصیات ریاستوں کی محتاج […]
پاک افغان تناو اور خطے کا مستقبل

چار سال قبل، جب امریکہ نے افغانستان کو 20 برس بعد ’’خدا حافظ‘‘ کہا، تو افغانیوں سے زیادہ خوشی پاکستانیوں کو تھی۔ حکومتی وزرا ایمان افروز پیغامات دے رہے تھے۔کئی اہم ذمے داران تو کابل پہنچ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے تھے کہ گویا روس کے بعد امریکہ کو ’’شکست‘‘ دینے میں […]
مینگورہ کی ’’بدنامِ زمانہ‘‘ دیواروں میں سے ایک

15 ستمبر 2025ء کی شام مین بازار چوک سے گزرتے ہوئے میری نگاہ سروس شوز کے برابر والی اس گلی کی دیوار پر جا ٹھہری، جو مین بازار چوک کو مینگورہ شہر کی مشہور چینہ مارکیٹ سے ملاتی ہے۔ یہ مینگورہ شہر کی ’’بدنامِ زمانہ دیواروں‘‘ میں سے ایک ہے۔ اس کی اہمیت سے مجھ […]
سوئے سکردو (ٹورسٹوں کی اقسام)

سفر میں ہوتی ہے پہچان کون کیسا ہےیہ آرزو ہے … مرے ساتھ تو سفر کرتاقارئین! ٹورسٹوں کی تین بڑی اقسام ہوتی ہیں: پکے (آرلے)، کچے (پارلے) اور وچکارلے۔پکے ٹورسٹس وہ ہوتے ہیں، جو آندھی آئے یا طوفان، ہنیریاں جھلن یا ہو جائے سرسام، بے آرامی ہو یا ہو آرام، وہ موقع محل دیکھ کر […]
موسم سرما اور نمونیا کا خطرہ (احتیاطی تدابیر)

جیسے سردیوں کے مہینوں میں درجۂ حرارت گرتا ہے، تو نمونیا کا خطرہ بڑھ جاتا ہے…… خاص طور پر کم زور آبادیوں جیسے کہ بچے، بوڑھے اور پہلے سے موجود صحت کے حالات والے افراد میں۔ نمونیا پھیپڑوں کا ایک سنگین انفیکشن ہے، جو کھانسی، بخار، سانس کی قلت اور سینے میں درد جیسی شدید […]
سیاسی جماعتوں میں قحط الرجال

عمران خان کی 22 سالہ سیاسی جد و جہد استقامت اور عزم کی لازوال مثال ہے۔ یہ ایک ایسا کٹھن سفر تھا، جس میں وہ تنِ تنہا ایک بیانیہ لے کر آگے بڑھے…… لیکن جب طویل صبر اور تگ و دو کے بعد اقتدار اُن کے قدموں میں آیا، تو ایک حیران کن اور مایوس […]
چارباغ کا مقدمہ

ضلع سوات کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا عمل تاریخ کے پڑھنے اور تاریخی تحقیق کرنے والوں کے لیے کوئی انوکھی بات نہیں۔ ہمیں دنیا کی پرانی اور ماضیِ قریب کے سیاسی اور انتظامی عملیات میں ایسے واقعات رونما ہونے کا بہ خوبی علم ہے۔ مَیں نے فرعونوں کے مصر کی توسیع اور ایک […]
ریاست سوات کا قلعہ دار نظام
اقدار کا زوال یا زمانے کی تبدیلی؟

فضل رازق شہاب صاحب نے کچھ عرصہ پہلے ایک تحریر اپنی فیس بک وال پر دی تھی، جس میں لکھا تھا:مَیں نہیں جانتا کہ یہ الفاظ کس نے لکھے ہیں، اگر وقت ہو، تو پڑھ لیں۔مرد کے کپڑوں میں عورت کی صفائی جھلکتی ہے۔ عورت کے لباس میں مردانگی دکھائی دیتی ہے۔ لڑکیوں کے لباس […]