نوے کی دہائی، مینگورہ کے ڈب اور غوطے

Blogger Comrade Amjad Ali Sahaab

جب مینگورہ شہر کے خوڑ (جڑواں ندیاں) صاف تھے اور اہلِ مینگورہ اس کا پانی کپڑے دھونے اور وضو کے لیے استعمال میں لاتے تھے، اُس دور میں ہم ان خوڑوں میں بنے "ڈبوں” (ڈب، پشتو میں اُس جگہ کو کہتے ہیں، جہاں پانی نسبتا گہرا ہوتا ہے) میں نہایا کرتے تھے۔نوے کی دہائی میں […]

انبجم نامہ اور چیئرمین ڈینڈک سوات

Blogger Comrade Amjad Ali Sahaab

محترم ایم پی اے اختر خان ایڈوکیٹ کے آفیشل پیج پر ’’مصنوعی ذہانت‘‘ کا سہارا لے کر ایک عجیب بیان جاری کیا گیا ہے، جو خود ایم پی اے حضرت کی شان کے خلاف ہے۔ اس میں زبان و بیاں اور املا کی وہ کمیاں ہیں کہ الامان و الحفیظ!مشتے نمونہ از خروارے کے مصداق، […]

ریاستِ سوات، صحافت کا ارتقا اور ’ماما‘

Blogger Haider Ali Akhundkhel

صحافت، صحیفہ سے ماخوذ ہے۔ صحیفہ کتاب کو، بل کہ مقدس کتاب کو کہا جاتا ہے۔ جدید اصطلاح میں صحافت، اخبار نویسی کا نام ہے اور صحافی اُس فرد کو کہتے ہیں، جو اخبار لکھتا ہے۔ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے؛ مسائل کو اُجاگر کرنا، عوامی حقوق کے لیے آواز بلند کرنا، مظلوموں کی جنگ […]

ربع صدی کا تجربہ، خود ساختہ فلسفہ اور ایمان کریم

Blogger Comrade Amjad Ali Sahaab

مینگورہ شہر کی شاید ہی ایسی کوئی دیوار بچی ہو، جس پر چچا عبد القیوم دامت برکاتہم العالیہ کے اچار کا ’’فرمان کسکرانہ ٹائپ شعر‘‘ والا اشتہار موجود نہ ہو۔ سرِ دست مذکورہ اشتہار ملاحظہ ہو:ہر کھانے میں اچارعبدالقیوم کے اچارمجھ جیسا متشاعر، جس کی خدمات چوبیس گھنٹے بلا معاوضہ و بلا تقاضا ایک برقی […]

میاں بابا، ککڑئی، شگئی، سیرئی والہ…!

Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

90 کی دہائی میں جب سوات میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا رواج نہیں تھا، تو پرانی وضع کی بس (جس سے ٹرک بھی بہ آسانی بنایا جاسکتا تھا)، ٹوورسٹ گاڑی (جنھیں ہم ٹورس کہتے)، ڈاٹسن (ہمارا ورژن ’’ڈاکسن‘‘)، سوزوکی (جو اس پوسٹ میں شامل تصویر میں بھی نظر آرہی ہے) اور انڈین رِکشا یا […]

روایتی فوٹوگرافی کے لیے نیا چیلنج

Blogger Comrade Amjad Ali Sahaab

اب آپ کا فون صرف تصویر اتارے گا نہیں، بل کہ باقاعدہ اپنے انداز سے تصویر تخلیق کرے گا۔ techradar.com کے مطابق آیندہ متوقع ـ”Samsung Galaxy S26″ میں سام سنگ کا اب تک کا سب سے جدید اور مصنوعی ذہانت سے مزین کیمرہ سسٹم شامل ہونے کی توقع ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ […]

نن بیا ھغہ ماخام دے…!

Blogger Comrade Sajid Aman

’’پھر وہی شام ہے اور ’یارانِ شام‘ اکھٹے ہوئے ہیں۔‘‘فیاض ظفر کے کہے ہوئے یہ الفاظ ایک ٹرینڈ، بل کہ برانڈ بن گئے ہیں، مگر شاید بہت سارے لوگوں کو اس شام میں پکا ہوا کھانا اور سنائی جانے والی موسیقی کے سوا کچھ نام ہی پتا ہوں گے، جو اس شام کا حصہ ہوتے […]

سوات، علاقائی تعظیمی ناموں کی دم توڑتی روایت

Journalist Blogger Comrade Amjad Ali Sahaab, Swat

اللہ بخشے، میرے دادا، محمد المعروف بزوگر حاجی صاحب (مرحوم) کی دو بیویاں، یعنی میری دو دادیاں تھیں۔ جس دادی کے بطن سے میرے والد نے جنم لیا، اُنھیں ہم ’’ابئی‘‘ نام سے پکارتے تھے۔ ’’ابئی‘‘ دراصل دادا (مرحوم) کی دوسری بیوی تھیں۔ اُن کی پہلی بیوی (بڑی دادی) کو ہم چھوٹے اور بڑے ’’خوگہ‘‘ […]

90ء کی دہائی کی مہمان نوازی

Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

90ء کی دہائی میں مینگورہ شہر میں اگر کسی کے ہاں مہمان آجاتا اور ظہرانے یا عشائیے کا وقت نہ ہوتا، تو اُس کی تواضع گرما گرم چائے سے کی جاتی۔ ہم شطونگڑے ٹائپ بچے میز پر چائے کے ساتھ کھانے کی خاطر رکھی جانے والی اشیا کو دیکھ کر مہمان کی ’’وقعت‘‘ کا اندازہ […]