نن بیا ھغہ ماخام دے…!

Blogger Comrade Sajid Aman

’’پھر وہی شام ہے اور ’یارانِ شام‘ اکھٹے ہوئے ہیں۔‘‘فیاض ظفر کے کہے ہوئے یہ الفاظ ایک ٹرینڈ، بل کہ برانڈ بن گئے ہیں، مگر شاید بہت سارے لوگوں کو اس شام میں پکا ہوا کھانا اور سنائی جانے والی موسیقی کے سوا کچھ نام ہی پتا ہوں گے، جو اس شام کا حصہ ہوتے […]

سوات، علاقائی تعظیمی ناموں کی دم توڑتی روایت

Journalist Blogger Comrade Amjad Ali Sahaab, Swat

اللہ بخشے، میرے دادا، محمد المعروف بزوگر حاجی صاحب (مرحوم) کی دو بیویاں، یعنی میری دو دادیاں تھیں۔ جس دادی کے بطن سے میرے والد نے جنم لیا، اُنھیں ہم ’’ابئی‘‘ نام سے پکارتے تھے۔ ’’ابئی‘‘ دراصل دادا (مرحوم) کی دوسری بیوی تھیں۔ اُن کی پہلی بیوی (بڑی دادی) کو ہم چھوٹے اور بڑے ’’خوگہ‘‘ […]

90ء کی دہائی کی مہمان نوازی

Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

90ء کی دہائی میں مینگورہ شہر میں اگر کسی کے ہاں مہمان آجاتا اور ظہرانے یا عشائیے کا وقت نہ ہوتا، تو اُس کی تواضع گرما گرم چائے سے کی جاتی۔ ہم شطونگڑے ٹائپ بچے میز پر چائے کے ساتھ کھانے کی خاطر رکھی جانے والی اشیا کو دیکھ کر مہمان کی ’’وقعت‘‘ کا اندازہ […]

خط و کتابت، خطِ کتابت یا خط کتابت؟

Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

’’انتخابِ مخزن‘‘ از ڈاکٹر انور سدید (ناشر: ڈاکٹر تحسین فاروقی، طبعِ اول: مارچ 2016ء) کے صفحہ 365 پر ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کا مضمون ’’مشفق خواجہ کے چند خطوط‘‘ پڑھتے ہوئے ایک مرکب ’’خط کتابت‘‘ پر نظر پڑی، تو حیرت ہوئی، کیوں کہ ہم ہمیشہ اپنی تحریروں میں اسے مرکبِ عطفی یعنی ’’خط و کتابت‘‘ […]

’’ٹرکونو ہوٹل‘‘ (پرانی صبحوں کا لمس)

Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

ہمیں جب بھی پشاور یا اسلام آباد کے لیے رختِ سفر باندھنا ہوتا، تو اولاً گاڑی میں تیل ڈلواتے، ثانیاً ٹائروں میں ہوا بھرواتے اور ثالثاً پیٹ کی پوجا پاٹ کرتے۔ سو، تیل جہاں سے بھی ڈلواتے اور ہوا جہاں سے بھی بھرواتے، اس پہ کوئی روک ٹوک نہیں تھی، مگر ناشتا ہمیشہ ’’ٹرکونو ہوٹل‘‘ […]

سانچہ یا سانچا؟

Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

’’سانچا‘‘ (ہندی، اسمِ مذکر) کا املا عام طور پر ’’سانچہ‘‘ لکھا جاتا ہے، مگر ’’جہانگیر اُردو لغت‘‘ (جس میں ’’سانچہ‘‘ درج ہے) کے سوا تمام مستند لغات میں ’’سانچا‘‘ ہی ملتا ہے۔فرہنگِ آصفیہ کے مطابق ’’سانچا‘‘ کے معنی ’’قالب‘‘، ’’ڈھانچا‘‘، ’’دھات کی چیز یا کھانڈ وغیرہ کے کھلونے ڈھالنے کا اوزار‘‘ (وغیرہ) کے ہیں۔فرہنگِ آصفیہ […]

مینگورہ کی ’’بدنامِ زمانہ‘‘ دیواروں میں سے ایک

Photo Story by Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

15 ستمبر 2025ء کی شام مین بازار چوک سے گزرتے ہوئے میری نگاہ سروس شوز کے برابر والی اس گلی کی دیوار پر جا ٹھہری، جو مین بازار چوک کو مینگورہ شہر کی مشہور چینہ مارکیٹ سے ملاتی ہے۔ یہ مینگورہ شہر کی ’’بدنامِ زمانہ دیواروں‘‘ میں سے ایک ہے۔ اس کی اہمیت سے مجھ […]