پروفیسر احمد حسن دانی، لیگسی کا سوال

Blogger Doctor Rafi Ullah

پروفیسر احمد حسن دانی پاکستان کے نام ور دانش ور مانے جاتے ہیں۔ پچھلے کچھ دنوں سے ان کی  ’’اکیڈیمک لیگسی‘‘ کے حوالے سے ایک غیر ضروری بحث شروع کی گئی ہے۔ اس ضمن میں، مَیں اپنی تاریخ شناسی کی تحقیق کی روشنی میں اپنا ہی نکتۂ نظر پیش کرنے جا رہا ہوں۔لیگسی (Legacy) ایک […]

سوات امن پاسون: مثبت اور منفی پہلو

Blogger Doctor Rafi Ullah, Associate Professor in Quaid e Azam University

نوٹ:۔ زیرِ نظر تحریر دراصل ڈاکٹر رفیع اللہ کی پشتو زبان میں تخلیق ہے، جسے صادق کاکڑ نے اُردو کے قالب میں ڈھالا۔ مَیں نے اب تک جلسے جلوسوں میں شاذ و نادر ہی شرکت کی ہے… اور یہی حال علمی و ادبی نشستوں کا بھی ہے۔ گذشتہ چند سالوں میں، تاریخ کے ایک طالب […]

عالمی یوم ورثہ اور جشن پختونخوا

Blogger Doctor Rafi Ullah

(نوٹ:۔ یہ تحریر موقع کی مناسبت سے ڈاکٹر رفیع اللہ نے 18 اپریل 2026 کو ارسال کی تھی۔ ادارہ اسے بروقت شائع نہیں کرپایا، اس غفلت کے لیے ادارہ ڈاکٹر رفیع اللہ کے ساتھ ساتھ معزز قارئین سے بھی معذرت خواہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام) آج (18 اپریل) عالمی سطح پر ہیریٹیج، یعنی تاریخی […]

گندھارا کی روداد

Blogger Doctor Rafi Ullah Swat

جنوبی ایشیا کے تاریخی طور پر مشہور ثقافتی خطوں میں سے ایک خطہ گندھارا کے نام سے مشہور ہے۔ گندھارا بہ یک وقت ایک ایسی متنوع شناخت کو جنم دیتا ہے، جو جغرافیائی، تاریخی، فنی اور مذہبی پہلوؤں پر محیط ہے۔ یہ تمام پہلو مل کر ایک ایسی دل چسپ داستان کی غمازی کرتے ہیں، […]

لاوارث گندھارا

Blogger Rafi Ullah Swat

(زیرِ نظر تحریر دراصل میرے ہی ایک انگریزی آرٹیکل "The (un)claimed Gandhara” کا اُردو ترجمہ ہے، جو 26 جولائی 2020ء کو روزنامہ "The News”کے لیے اُس وقت لکھا تھا، جب تخت بھائی میں بدھا کے ایک بڑے مجسمے کو توڑا گیا تھا۔ ترجمہ کے لیے کامریڈ امجد علی سحابؔ کا مشکور ہوں، ڈاکٹر رفیع اللہ۔)تخت […]

آرکیالوجی اور پاکستانی یونیورسٹی

Blogger Doctor Rafi Ullah, Associate Professor Quaid e Azam University

پاکستان میں آرکیالوجی کی علم کی روایت بہت طویل ہے، جو کہ 19ویں صدی کے برطانوی ہندوستان کے دوران میں وجود میں آئی۔ 1960ء کی دہائی کے اوائل سے ابھی تک اسے ملک کی بہت سی یونیورسٹیوں میں ایک علمی مضمون کے طور پر پڑھایا جا رہا ہے۔ اس پوری کہانی میں اہم موڑ وہ […]

ترقی تقسیم نہیں، اختیار میں ہے

Blogger Doctor Rafi Ullah

ضلع سوات کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا معاملہ موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ زندگی کے تقریباً تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اسے یا تو ناگزیر سمجھ لیا ہے، یا مان لیا ہے…… اور اب اس بحث میں مصروف ہیں کہ کون سا ایریا اپر سوات […]