درونِ امریکہ: دید و شنید

قارئین! پانچ سال بعد ایک بار پھر امریکہ روانگی کے اسباب پیدا ہوئے۔ اس بار ریاست فلوریڈا کے ساحلی شہر میامی میں کمپیوٹری لسانیات سے متعلق ایک کانفرنس میں بہ طور شریک مصنف شرکت کی۔ مقالے کا عنوان تھا "Developing Language Technology and NLP Tools for Endangered Languages.”مذکورہ مقالے کے مرکزی مصنف برخوردار نعیم الدین […]
شاہ روان کپتان

گاؤں ’’منگلور‘‘ سوات کی تاریخ میں ایک اہم نام ہے، جس کو نظر انداز کرکے سوات کی تاریخ کو سمجھا جاسکتا ہے، نہ یوسف زئی تاریخ مکمل ہوتی ہے، نہ قدیم سواتیوں بارے روشنی ہی مل سکتی ہے۔ آپ اگر مزید تفصیل میں جائیں، تو سمجھ لیں کہ اس گاؤں بغیر قدیم بدھ مت اور […]
نیچرل ہسٹری میوزیم (لندن)

’’نیچرل ہسٹری میوزیم‘‘(Natural History Museum) لندن کے مہنگے ترین علاقہ جنوبی کیسنگٹن میں واقع ہے۔ اس کی موجودہ عمارت 1881ء میں بنائی گئی تھی۔ اس سے پہلے اس کو برٹش میوزیم (نیچرل ہسٹری) کے نام سے پکارا جاتا تھا۔اس میں 80 ملین جانوروں اور پودوں کے نمونے (Specimens) رکھے گئے ہیں۔ اس میں "Hans Sloane” […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (اٹھائیس ویں قسط)

ان سالوں میں مجھے مانیار، ابوہا اور پبلک سکول سنگوٹہ کے ایک بڑے ٹیچنگ بلاک میں تعمیرات کی نگرانی اور کچھ اور پروجیکٹس کرنے تھے۔ یہ مصروف ترین سال تھے اور وقت بہت تیزی سے گزر رہا تھا، لیکن مجھے اپنے پہلے معاشقے کا موقع مل ہی گیا۔میرے بڑے بھائی فضلِ وہاب، شیر خان کو […]
پاکستانی سیاست کے بدلتے رنگ

پاکستان کی سیاست ایک بار پھر قانونی مقدمات، احتجاجی مظاہروں اور باہمی کشمکش کے گرد گھوم رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں ’’توشہ خانہ ٹو کیس‘‘ نے سیاسی ماحول کو گرما دیا ہے۔ اس کیس میں بانئی تحریکِ انصاف عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر فردِ جرم عائد کی جاچکی ہے اور […]
سول نافرمانی نہیں، معیشت کی تباہی!

بدقسمتی سے پاکستانی جمہوریت اور سیاست، ذاتی مفادات کا کھلونا بن چکی ہے۔ جہاں ہر پارٹی اور لیڈر خود کو درست، محب وطن اور دوسرے کو غلط، بل کہ غدار کہتا پھرتا ہے۔طویل عرصے سے جاری اس سیاسی کش مہ کش، اقتدار کی جنگ اور سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کے ایک دوسرے پر الزامات […]
عمران خان کا سیاسی کیریئر (اجمالی جائزہ)

1992ء کے کرکٹ ورلڈ کپ میں تاریخی کام یابی کے بعد عمران خان نے خیبر پختونخوا (جو اُس وقت صوبہ سرحد کہلاتا تھا) کو اپنی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ اس دوران میں وہ اکثر روایتی پشتون لباس اور بندوق کے ساتھ تصاویر میں نظر آتے، جو اُن کے عوامی اور ثقافتی تعلقات کو ظاہر […]
متنازع انتخابات کی تاریخ اور عوام

ریاست کے حقیقی مالک کسی بھی ملک کے عوام ہو تے ہیں۔ لہٰذا آزاد، شفاف، غیر جانب دار،غیر متنازع، صاف اور دھاندلی سے پاک انتخابات کے بعد اقتدار عوام کے منتخب نمایندوں کو سونپ دیا جاتا ہے۔ریاست کی سب سے اہم ذمے داری یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی حفاظت کرے اور فرض […]
سید خدا بخش پاچا

گلشن چوک سے نشاط چوک کی طرف جائیں، تو آپ کے بائیں طرف دُکانیں اور اُن کے پیچھے محلے مینگورہ شہر کی ایک بھرپور تاریخ جو ہر گلی، نکڑ، دروازے، گھر سے چیخ چیخ کر شہر کے ماضی کو بیان کرتی ہے، مگر اس کے سننے کے لیے وہ کان چاہئیں، جو شہر کی محبت […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (ستائیس ویں قسط)

چکیسر میں قیام کے دوران میں ایک اور چیز، جس نے مجھے متاثر کیا، وہ ان کی تعلیم کے ساتھ محبت تھی۔ ودودیہ سکول سیدو شریف کے بعد بادشاہ صاحب کے دور میں پہلا سکول چکیسر میں بنا تھا۔ ہائی سکول چکیسر موجودہ ضلع شانگلہ کا سب سے قدیم ادارہ ہے۔ 1950ء کی دہائی کے […]
تحریک انصاف سول نافرمانی کی تحریک چلا پائے گی؟

عمران خان سے منسوب بیان منظرِ عام پر آیا ہے کہ ’’اگر 9 مئی اور 26 نومبر واقعات کی عدالتی تحقیقات نہ کرائی گئیں، تو 14 دسمبر سے سول نافرمانی کی تحریک چلائی جائے گی۔ جس کے پہلے مرحلے میں سمندر پار پاکستانیوں کو وطنِ عزیز میں ترسیلاتِ زر کی مد میں رقوم بھیجنے سے […]
تعلیم کے ساتھ ہنر ضروری ہے

وہ دونوں میرے سامنے بیٹھے تھے۔ دو سال قبل جامعہ سے فارغ ہوچکے ہیں اور کسی کام کے سلسلے میں آج پھر یونیورسٹی آئے تھے۔ اُن سے گفت گو ہوئی، تو یہ بھی معلوم ہوا کہ دونوں ابھی تک روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔میری عادت رہی ہے کہ کسی بھی تعلیم یافتہ بندے سے […]
ابنِ خلدون: حیات و آثار (تبصرہ)

تحریر: محمد کاظمابنِ خلدون سے متعلق خاصی تعداد میں کتابیں اور رسالے بازار میں دست یاب ہیں، لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ اُن کے مطالعے سے ابنِ خلدون کی شخصیت کی ٹھیک ٹھیک (Accurate) اور مکمل تصویر سامنے نہیں آتی۔ اُس کی سب سے اہم تصنیف اُس کا مقدمہ ہے، جس کا ترجمہ تو […]
دیر تاریخ کے آئینے میں

دیر مجھے اس لیے پسند ہے کہ یہاں کا موسم مری جیسا ٹھنڈا میٹھا، خوش گوار اور بہت مزیدار ہوتا ہے۔ کیوں کہ یہ شہر بھی ایک پہاڑی پر بنایا گیا ہے، جو سرسبز و شاداب بھی ہے۔ اس میں پانی کے جھرنے بھی ہیں اور ایک ندی بھی یہیں سے گزر کر نیچے جا […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (چھبیس ویں قسط)

چکیسر سے میرا تبادلہ تحصیل بلڈنگ کی چھت کے سلیب سے مشروط تھا۔ ٹھیکہ دار کی الم ناک موت کے باعث اس میں تاخیر ہوئی۔ کیوں کہ اس کا خاندان شدید صدمے میں تھا۔ نومبر کے آخر میں، ٹھیکہ دار کے بیٹے نے، جو ابھی کالج کا طالب علم تھا، نے بقیہ کام کا چارج […]
’’مَیں نے سیکھا ہے کہ……!‘‘

تحریر: رومانیہ نور مَیں نے سیکھا ہے کہ دنیا کا بہترین تدریسی مقام ایک بزرگ کے قدموں میں ہے۔مَیں نے سیکھا ہے کہ جب آپ محبت میں مبتلا ہوتے ہیں، تو یہ ظاہر ہوتا ہے۔مَیں نے سیکھا ہے کہ بچے کو اپنی بانہوں میں سلانا دنیا کے سب سے پُرسکون احساسات میں سے ایک ہے۔مَیں […]
چند مفید موبائل ایپس

دنیا میں ترقی اتنی تیزی سے ہو رہی ہے کہ ہماری سوچ سے بھی باہر ہے۔ اس وقت ’’آرٹی فیشل انٹیلی جنس‘‘ (اے آئی) اپنے عروج پر ہے۔ دنیا کی ترقی تو ایک طرف، ہمیں تو اپنے موبائل کیمرے کا بھی فنکشن نہیں آتا۔ ہم میں سے ڈھیر سارے لوگ کیمرے کے سسٹم کو صرف […]
درولئی پُل پر ’’سیاست‘‘ بھونڈی حرکت ہے

پتا نہیں ہر بات کو ہمارے ’’درولئی‘‘ (بحرین، سوات) کے بھائی کیوں پارٹی سیاست کا شکار بناتے ہیں؟دراصل مَیں نے درولئی کے بڑوں سے 23 نومبر کو جرگے میں وعدہ کیا تھا کہ مَیں اس پل کے بارے میں اُن کو ایک ہفتے میں بتادوں گا۔ کیوں کہ جب مجھے پتا چلا کہ ’’ورلڈ بنک‘‘ […]
سیاسی بدہضمی

ہے نا مزے کی بات کہ حکومت اسلام آباد دھرنے میں لاشوں پر سیاست کرتے ہوئے ایک طرف لاشیں نہ گرانے کی بات کر رہی ہے، اور دوسری طرف اپوزیشن سیکڑوں لاشوں کی تعداد کو 14 تک محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ایک طرف سیاسی پارٹی کو گند، شرپسند اور فتنہ قرار دینے کی […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (پچیس ویں قسط)

کبھی کبھی، مَیں اپنے باس کے رویے سے پریشان ہوجاتا تھا۔ مجھے اندازہ نہیں ہو پا رہا تھا کہ وہ مجھے مخالف کیمپ میں سمجھا ہے یا اپنی طرف؟ ریاست کے بعض اعلا افسران نے بالواسطہ طور پر اس کا مذاق بھی اڑایا، لیکن مَیں نے ان سازشوں سے دور ہی رہنے کی کوشش کی۔ […]
سید محمد المعروف کچے اُستاد

مینگورہ شہر کنکریٹ کا جنگل بن گیا ہے۔ اردگرد کے پہاڑوں پر بھی آبادیوں کا سلسلہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے گنجان آباد ترین شہروں اور آبادی میں بے تحاشا اضافے کے لحاظ سے مینگورہ شہر پہلے نمبروں پر آتا ہے۔جب مینگورہ شہر کی لمبائی کی حد محض سہراب خان چوک تک تھی […]