مزارات اور ان سے منسوب غلط تصورات

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)لوگوں میں یہ خیال کیسے پروان چڑھا کہ مسلمان اولیا کے مزارات کو کچھ خاص تقاضوں کے لیے مخصوص کیا جائے؟ لیکن یہ عقیدہ بہت پہلے سے موجود ہے۔ مثلاً: ہر سال بہار کے دنوں میں […]

مسجد سیدو بابا (سیدو بابا جمات)

Blogger Fazal Raizq Shahaab

نہ صرف سیدو بابا کی عبادت گاہ، بل کہ ملحقہ کئی انسٹالیشنز ایک ہی شخصیت سے منسوب ہیں۔ ’’مسجد سیدو بابا‘‘، ’’چینہ سیدو بابا‘‘، ’’مزار سیدوبابا‘‘ اور ’’لنگر سیدو بابا۔‘‘کہتے ہیں کہ اس بستی کا نام ’’سادوگان‘‘ تھا، بعد میں ’’سیدو‘‘ بن گیا۔ محلِ وقوع کے لحاظ سے محفوظ، صاف وافر میٹھے پانی کا چشمہ، […]

سیدو بابا پل سے نتھی یادیں

Blogger Fazal Raziq Shahaab

اس بلاگ میں شامل تصویر میں لکڑی کا پل نمایاں نظر آرہا ہے۔ اس پُل کے دوسرے اینڈ پر ایک تو شاہی محمد ولد نظرے حاجی صاحب کی کپڑے کی دُکان تھی۔ کبھی کبھی امیرزادہ استاد صاحب بھی کپڑا ناپتے نظر آتے تھے۔ اس طرح ایک دُکان حافظ بختیار حاجی صاحب کی تھی کریانے کی۔ […]

سیدو بابا لنگر

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے ، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)’’لنگر‘‘ یعنی زائرین کو کھانا فراہم کرنے کا نظام ہر پیر کے آستانے یا ان کی وفات کے بعد ان کی درگاہ کی ایک نمایاں خاصیت ہے۔ لوگ وہاں بڑی تعداد میں جمع ہوتے ہیں […]

برٹش سامراجیت، سرتور فقیر اور سواتیوں کی بغاوت

Blogger Doctor Gohar Ali

٭ پس منظر:۔ اَخوند صاحب کی وفات ( 1877-78ء) کے بعد، سوات میں مختلف دعوے داروں کے درمیان اقتدار کے حصول کے لیے کئی سالوں تک اندرونی جھگڑے اور سازشیں جاری رہیں۔ (Hay, The Yousafzai State of Swat, 513)برطانوی حکومت کے لیے بڑے خطرات میں امیر افغانستان (امیر عبدالرحمان) کا سوات پر دعوا اور سوویت […]

اخوند عبد الغفور (سیدو بابا): ’’پوپ آف سوات‘‘

Blogger Doctor Gohar Ali

٭ تعارف:۔ سوات کے مذہبی اور سیاسی اُفق پر اخوند آف سوات کا کردار انتہائی نمایاں اور موثر رہا ہے۔ اُن کے روحانی اثر و رسوخ نے نہ صرف سوات، بل کہ اس کے آس پاس کے علاقوں میں بھی گہرے نقوش چھوڑے۔ انگریزوں نے اُنھیں ان کے سیاسی، مذہبی اور سماجی اثرات کی بنا […]

امبیلہ مہم اور اخوند سوات (سیدو بابا) کا کردار

Blogger Doctor Gohar Ali

٭ تاریخی پس منظر:۔ 1849ء میں برطانوی ہندوستان نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کو فتح کرنے کے بعد وہاں اپنی حکومت قائم کی۔ اس کے ساتھ ہی سید احمد بریلوی کی تحریک سے جڑے مجاہدین نے ستھانہ اور ملکا کو اپنے مراکز بناکر انگریزوں کے خلاف اپنی جد و جہد جاری رکھی۔ برطانوی حکام نے […]

اخوند عبد الغفور اور سوات میں پہلی اسلامی ریاست کا قیام

Blogger Doctor Gohar Ali

٭ بیک گراؤنڈ:۔ سید احمد بریلوی کی شہادت کے بعد سوات اور ملحقہ علاقوں میں ایک نئی سیاسی تاریخ کا آغاز ہوا۔ 1831ء میں سید احمد بریلوی کی بالاکوٹ میں شہادت کے بعد، سوات اور گردونواح میں ایک نئی لیکن مختلف اسلامی مذہبی اتحاد تشکیل پایا، جس میں طریقت اور شریعت کے درمیان ایک منفرد […]