مریم نواز پر وقت سے پہلے تنقید جائز نہیں

ہم نے اپنی پچھلی تحریر جو ’’بھٹو ریفرنس‘‘ بارے تھی، میں یہ تحریر کیا تھا کہ تاریخ بہت بے رحمی اور غیر جانب داری سے فیصلہ کرتی ہے۔ اِس دور میں ایک فیصلہ مریم نواز شریف کی بہ طورِ وزیرِاعلا نام زدگی اس احتساب کی ایک کڑی ہے۔ کیوں کہ مجھے یاد ہے کہ کس […]
آئین سے روگردانی کی مزید گنجایش نہیں

اس کرۂ ارض پر جمہوریت کا سورج انقلابِ فرانس کا تحفہ ہے۔ اگر اُس وقت کچھ انقلابی ہاتھوں میں بغاوت کا علم نہ اُٹھاتے، تو دنیا آج بھی شہنشاہی کے آہنی پنجوں ہی میں سسک رہی ہوتی۔ اشرافیہ کے مظالم جب حدود نا آشنا ہوجاتے ہیں، تو پھر مجبور و مقہور لوگ ہاتھوں میں ہتھیار […]
قیدی نمبر 804

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے قیام کے بعد پاکستان کے سب سے بڑے آئینی عہدہ صدرِ مملکت کے انتخاب میں آصف علی زرداری نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی اور 10 مارچ کی شام عہدے کا حلف اُٹھا کر مسندِ صدارت پر براجمان ہوگئے۔ بہ ظاہر حلف برداری کی تقریب اک معمول کی کارروائی […]
خاموش انقلاب

اس میں کوئی وو رائے نہیں کہ ملکِ عظیم اس وقت طو فا نوں کی زد میں ہے۔ اس کی کشتی طوفانوں میں ہچکولے کھا رہی ہے اور اس کے ناخدا بندر بانٹ میں لگے ہوئے ہیں۔ کسی کو وزارت چاہیے اور کسی کو صدارت ۔ پروٹو کول کی خواہش ملکی سلامتی سے بالا تر […]
مخصوص نشستوں سے محرومی کا ذمے دار کون؟

الیکشن کمیشن نے تحریکِ انصاف کی حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کو الاٹ کرنے کے حوالے سے قرار دیا کہ جماعت کو یہ نشستیں نہیں مل سکتیں اور اب یہ نشستیں ایوان میں موجود دیگر سیاسی جماعتوں میں بانٹ دی جائیں گی۔ ایڈوکیٹ […]
ایم پی اے فضل حکیم خان یوسف زئی کے نام کھلا خط

محترم فضل حکیم خان یوسف زئی صاحب، اُمید ہے آپ بہ خیر و عافیت ہوں گے۔ جس وقت مَیں یہ سطور تحریر کر رہا ہوں، آپ کے حلقۂ انتخاب میں تقریباً 100 گھرانوں پر مشتمل محلہ ’’حاجی بابا سیرئی‘‘ کا تاریک دور(الحمد للہ) 37ویں گھنٹے میں داخل ہوچکا ہے۔ کامریڈ امجد علی سحابؔ کی دیگر […]
لیاقت چٹھہ کا اصل چہرہ

پچھلے دنوں پاکستان کی سیاست میں اور خاص کر ایک ’’غیر سنجیدہ جذباتی حلقے‘‘ میں ایک تلاطم برپا ہوگیا۔ ویسے تو 8 فروری کے انتخابات کے فوراً بعد حسبِ معمول دھاندلی کی پکار ہر طرف سنائی دینے لگی…… اور پاکستان کی تاریخ کے شاید یہ متنازع ترین انتخابات ہوئے۔ ہر کوئی معترض ہے۔ مثلاً: تحریک […]
مریم نواز شریف کا نیا روپ

مریم نواز شریف 220 ووٹ حاصل کرکے پنجاب کی پہلی خاتون وزیرِ اعلا منتخب ہوگئی ہیں۔ اُن کے مدِ مقابل سنی اتحاد کونسل کے نام زد اُمیدوار برائے وزیرِ اعلا رانا آفتاب کوئی ووٹ بھی حاصل نہیں کرسکے۔ حتیٰ کہ اُنھوں نے خود کو بھی اپنا ووٹ نہیں دیا۔ جمہوری عمل کا حصہ بننے اور […]
مونگ تر اُوسہ لا د زمکی لائق نہ یو

امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ روس ’’سیارہ شکن‘‘ ہتھیار بنا رہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے، تو پھر روس اس قابل ہوجائے گا کہ فضا میں موجود مختلف ممالک کے مصنوعی سیاروں کو نشانہ بناسکے۔ روسی کوششوں بارے امریکی تشویش سے ثابت ہورہا ہے کہ دنیا کے بڑے ممالک بہ شمول روس اَب فضائی […]
کانٹوں بھرا تاج

سب ایک دوسرے کو پھنسانا چاہتے ہیں۔ خود کوئی بھی آگے بڑھ کر تاج و تخت کو چومنا نہیں چاہتا۔ سبھی کو تاجِ شاہانہ نوکیلے کانچ سے بنا ہوا لگ رہا ہے۔ تختِ شاہی کو اقتدار کے بھوکے سیاست دان کانٹوں کی سیج سمجھ کر اس سے دور بھاگ رہے ہیں۔ اپنی انتخابی مہم میں […]
جمہوریت بہترین انتقام ہے

مولاناکوثر نیازی ایک عالم دین تھے اور جماعتِ اسلامی کے سرگرم کارکن تھے۔ پھر مولانا مودودی سے اختلاف ہوا، تو جو گروپ جس میں ڈاکٹر اسرار احمد، ارشاد احمد حقانی، عبدالقادر حسن وغیرہ شامل تھے، نے جماعتِ اسلامی کو چھوڑ دیا۔ تب مولانا اس گروپ کا حصہ تھے۔ پھر مولانا اچانک غیر متوقع طور پر […]
نواز شریف کو اس بار بھی اسٹیبلشمنٹ لے ڈوبی

گاڑی کا ایک پہیا سائیکل کا ہو، دوسرا ٹریکٹر کا، تیسرا کسی ٹرک اور چوتھا کسی رکشے کا، تو گاڑی کا چلنا مشکل ہے۔ ایسے میں جب راولپنڈی کے تگڑے کیل نے ایک پہیے کو پنکچر کردیا ہو، تو گاڑی کا چلنا تقریباً ناممکن ہو کر رہ جاتا ہے۔ رانا اعجاز حسین چوہان کی دیگر […]
انتخابات کے بعد حکومت کی تشکیل کا طریقۂ کار

پارلیمانی و حکومتی انتظامی اُمور چلانے کے لیے آئینی عہدے داران کے انتخاب کے طریقۂ کار کی بابت آئینِ پاکستان واضح رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 91 (2) کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس انتخابات کے دن سے اگلے 21ویں دن ہوگا۔ سوائے اس کے کہ صدر کی طرف سے جلد طلب کیا […]
بھٹو کی عملی سیاست کا آغاز

ذوالفقار علی بھٹو پانچ جنوری 1928ء کو متحدہ ہندوستان میں سندھ کے معروف سیاست دان سر شاہ نواز بھٹو کے گھر میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بمبئی سے حاصل کی۔ بارکلے (Barkley) اور آکسفورڈ (Oxford) یونی ورسٹی سے پولی ٹیکل سائنس (Political Science) کی اعلا تعلیم کے بعد ’’لنکن ان‘‘ سے وکالت کی ڈگری حاصل […]
کیا عمران خان دوسرے بھٹو بننے جا رہے ہیں؟

ایک غیرجانب دار مبصر، تجزیہ نگار اور ’’آبزرور‘‘ کی حیثیت سے مَیں نے پچھلے کئی انتخابات میں جو کچھ دیکھا تھا، 2024ء کا انتخاب اُن سب سے بالکل مختلف تھا۔ جمہوری روح کی تو ساری سیاسی جماعتیں دعوے دارہوتی ہیں، لیکن کیا اُن کے دعوے واقعی حقیقت سے قریب تر ہوتے ہیں یا یہ کہ […]
قومی حکومت تشکیل دی جائے

8 فروری کے انتخابات ہوچکے۔ عوام نے منقسم مینڈیٹ کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کر دیا ہے۔ غالب امکان ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی مل کر حکومت بنائیں گی۔ یقینی طور پر مولانا فضل الرحمان، ایم کیو ایم، باپ پارٹی بھی کولیشن گورنمنٹ کا حصہ ہوں گی۔ میاں نواز […]
انتخابی نتائج، تاخیر اور آئینی تقاضے

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے اور ہم سب مسلمانوں کے لیے سورۃ الحجرات کی آیت نمبر 6 میں واضح ہدایات موجود ہیں کہ ’’اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمھارے پاس کوئی خبر لائے، تو تحقیق کرلو کہ کہیں کسی قوم کوانجانے میں تکلیف نہ دے بیٹھو، پھر اپنے کیے پر […]
سوات، الیکشن 2024ء میں بڑے بڑے برج اُلٹ گئے

تحریکِ انصاف نے 2018ء کے بعد 2024ء میں بھی کلین سویپ کیا۔ قومی اسمبلی کی 3 اور صوبائی اسمبلی کی 8 نشستوں پر تحریکِ انصاف (آزاد) کے تمام امیدوار کامیاب ہوئے۔ غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق این اے 2 پر ڈاکٹر امجد علی نے 88938 جب کہ اُن کے مدِ قابل انجینئر […]
سوات، 1971ء کے انتخابات کی ایک یاد

سوسائٹی سے شایستگی اور رواداری اُٹھ گئی ہے۔ ہما شما قسم کے لوگ سیاست میں کیا آئے، شرافت کا جنازہ نکل گیا۔ اتنے چھچھورے لوگ لیڈر بن گئے ہیں، جو پہلے تو بہ وقتِ ضرورت آپ کو باپ بھائی اور دوست بنائیں گے…… اور منتخب ہونے کے بعد اُن کی گردنوں میں سریا لگ جاتا […]
پی کے 5 میں پائپوں اور کنوؤں کی مدد سے ضمیروں کا سودا جاری ہے، میاں اقبال حسین ایڈوکیٹ

عوامی نیشنل پارٹی سوات کے رہنما میاں اقبال حسین ایڈوکیٹ نے الزام عائد کیا ہے کہ سوات کے حلقہ پی کے 5 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار انجینئر امیر مقام اور جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے امیدوار ثناء اللہ خان نے ٹرانس فارمر، بجلی کی کھمبوں، گیس کے پائپ اورپانی کی سکیموں […]
کیا من پسند افراد کی جیت مسائل کا حل ہے؟

ایک زما نہ تھا کہ پی پی پی مقتدر حلقوں کے نشانے پر ہوا کرتی تھی اور اس کی لیڈر شپ کو زِندانوں،اذیتوں اور جَلا وطنیوں کے ناقابلِ برداشت جبر کوسہنا پڑتا تھا۔ ڈھونڈ ڈھانڈ کر کوئی ایسا موقع نلاش کیا جاتا تھا جس میں پی پی پی کو پھانسا جائے اور اس کے لیے […]