’’دریائے سوات بچاو تحریک‘‘: اُمید و بیم

خِرد کو غلامی سے آزاد کر جوانوں کو پیروں کا اُستاد کر جس طرح خود ستائی اور خود نمائی جب حد سے بڑھ جائے، تو نفسیاتی عارضہ ہوتی ہے۔ اسی طرح خود کو کوسنا، خود کو کم تر قرار دینا بھی اپنے انفرادی تجزیے سے بڑھ جائے، تو نفسیاتی عارضہ ہی لگتا ہے۔ نوآبادیت یا […]
مدین ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ: زبانی و تحریری وعدے

میرے سامنے کیدام مدین ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ (Madyan Hydro Power Project) کی 167 صفحات پر مشتمل ایک کتاب پڑی ہے، جس کو”PEDO” نے گذشتہ سال اکتوبر 2023ء میں تیار کرکے آگے ’’ورلڈ بنک‘‘ (World Bank) کو بھیجی ہے۔ اس کتاب کو بہ حالی منصوبہ (Resettlement Action Plan) کہا گیا ہے، یعنی اس میں وہ ساری […]
دریائے سوات بچاو تحریک: غلط فہمیاں و خوش فہمیاں

کسی بھی بیدار معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے شخصی بنیادوں پر نہیں، بل کہ عوامی و اجتماعی امور پر اختلاف کرے۔ تاہم اگر یہ اختلاف محض سنی سنائی باتوں، ذاتی عناد یا مفاد اور کم علمی کی وجہ سے ہو، تو مثبت نہیں، بل کہ منفی ہوتا ہے۔ جہاں شخصی […]
دریائے سوات بچاو تحریک

وادئی سوات کا نام اُس دریا کی وجہ سے پڑا جس کا سنسکرت؍ پراکرت نام ’’سُواستو‘‘ (Suvastu) ہے اور جس کا مطلب خالص یا سفید پانی ہے۔ ہندوکش پہاڑی سلسلے میں یہ دریا، دریائے سندھ کے بعد سب سے اہم سمجھا جاتا ہے۔ یہ دریا گبرال، مہودنڈ، مانکیال، شینان گوٹ اور درال کے گلیشیرز سے […]
توروالی سمیت داردی زبانوں میں موسیقی اور شاعری

توروالی سمیت داردی زبانوں میں شاعری نہیں ہوتی، نغمے ہوتے ہیں۔ ان زبانوں میں موسیقی (میوزک) کے لیے کوئی لفظ نہیں ہوتا۔ یہاں موسیقیت ہوتی ہے اور اس کا تعلق رسم یا ثقافتی تقریب سے ہوتا ہے۔ زبیر توروالی کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: https://lafzuna.com/author/zubair-torwali/ بیش تر […]
کوک سٹوڈیو میں توروالی صنف ’’ژو‘‘ کی پذیرائی

اس نغمے میں توروالی و کو دو بار گایا گیا ہے۔ نظام توروالی جس کا تعلق رامیٹ سے ہے، نے ’’ژو‘‘ کو گایا ہے۔ اس کے ساتھ دو خواتین پھر توروالی کی اسی ’’لے‘‘ (tune) پر کافی حد تک مناسب طور پر اُردو گانا گاتی ہیں۔ ایک کا نام زیب بنگش اور دوسری کا نام […]
اہلِ سوات کی آنکھیں کھلنے میں دیر لگتی ہے

جب 1992ء میں ملاکنڈ ڈویژن اور خصوصاً سوات کو صوفی محمد نے اپنی تحریک برائے نفاذِ شریعت کا مرکز بنایا، تو بڑی تعددا میں لوگوں نے اس کا ساتھ دیا۔ وہ سال میں ہر موسمِ گرما کو اُس وقت سوات آنے والی واحد سڑک کو ملاکنڈ ٹاپ پر بلاک کردیتے۔ ہر سال اُن کی تحریک […]
پاکستان گھن چکر میں کیوں پھنسا ہوا ہے؟

کارل مارکس نے برصغیر کے بارے میں کہا تھا کہ اس کی تاریخ بس اس پر مختلف سلطنتوں کی حملہ آوری اور اس پر نو آباد کاری ہی ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں پر سکندر مقدومی سے لے کر برطانوی انگریز تک سب نے چھڑائی کی ہے۔ یہاں سے کوئی خاص مزاحمت بھی کبھی […]
جدیدیت کا شاخسانہ

تاریخ صرف واقعات کا علم نہیں، بل کہ ان واقعات کی وجہ اور اثر/ علت و معلول (Cause and Effect) کا سماجی تجزیہ ہوتا ہے۔ یہ واقعات کیوں رونما ہوتے ہیں، ان کے پیچھے کیا محرکات پوشیدہ ہیں اور سماج اور معاشرت پر ان کے کیا اثرات ہوتے ہیں؟ ان کو باریک بینی سے دیکھنے […]
ضلع اَپر سوات کے قیام کی بہ جائے تحصیلِ بحرین کی تقسیم؟

باوثوق ذرائع کی خبر تو نہیں، تاہم افواہ ضرور ہے اور اس پر یقین اس لیے آتا ہے کہ گذشتہ بلدیاتی انتخابات کے وقت ایسے مشورے انفرادی سطح پر بااثر افراد سے کیے گئے تھے کہ موجودہ تحصیل بحرین کو دو تحصیلوں میں تقسیم کیا جائے۔ شاید اب بھی کہیں بلدیاتی الیکشن قریب ہیں، اس […]
ہماری دھرتی، نام اور تقسیم

موجودہ بحرین کے جنوب میں اوپر پہاڑی پر ایک گاؤں ہے اور اب بھی کافی حد تک قدیم داردی گاؤں کی صورت میں موجود ہے۔ اُس کو توروالی میں ’’پُران گام‘‘، پشتو میں ترجمہ کرکے ’’زوڑ کلے‘‘ اور اُردو میں ’’پرانا گاؤں‘‘ کہتے ہیں۔ ’’پُران گام‘‘ کے نام سے اس گاؤں کا ہونا اس بات […]
اپنائی گئی مغلوبیت کے نفسیاتی، سماجی اور ثقافتی اثرات

’’فرانٹز عمر فینن‘‘ (Frantz Omar Fanon) فرانسیسی کالونی کے افریقی النسل باشندے تھے۔ اُنھوں نے صرف 36 سال کی عمر پائی، تاہم اُن کم عمر میں بھی اُنھوں نے پس جدیدی نظریے، نو آباد کاری سے متعلق فکر اور مغلوب قوموں کے جید فلسفی اور نفسیات دان ہونے کا شرف حاصل کیا۔ اُنھوں نے کئی […]
زبان: جنگ کی اور امن کی

(نوٹ:۔ جس وقت یہ سطور رقم کی جارہی ہیں، 21 فرروری ہے اور یہ زبانوں کا عالمی دن ہے۔ سوچا زبانوں کے حوالے سے کچھ الگ ہوجائے۔ اس مضمون کا بڑا حصہ آج پشاور میں "Shaoor Foundation for Education & Awareness, Mafkoora University of Peshawar” کے تحت منعقدہ سہ روزہ علمی و ادبی میلے”Think Peace […]
تحصیلِ بحرین سوات، الیکشن اور گلے شکوے

اپنی تاریخ، تنوع، تاریخی اور ثقافتی ورثے اور فطری حسن کی وجہ سے وادیِ سوات نہ صرف پورے پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں منفرد مقام رکھتی ہے۔ گندھاری تہذہب کا مرکز یہاں رہا ہے اور اس سے پہلے یہاں کی مقامی ثقافت بھی منفرد تھی۔ جب بدھ مت اُبھرا، تو اس خطے کی اشرافیہ […]
توروالی-انگلش ڈکشنری برائے طلبہ کا جائزہ

ہمارا، ادارہ برائے تعلیم و ترقی (آئی بی ٹی)، کا عزم ہے کہ حالات جس قدر بھی ناساز ہوں اور وسائل ناپید ہوں، ہم نے اپنی محبوب مادری زبان کے احیا اور فروغ کے لیے کسی بھی صورت میں کام جاری رکھنا ہے، اور اپنے لوگوں کے لیے اور تعلیمی، علمی و تحقیقی حلقوں کے […]
اہلِ بحرین ووٹ دیتے وقت یہ یاد رکھیں!

قارئین! اس میں اَب ابہام نہیں کہ تحصیلِ بحرین پورے ضلع سوات کے رقبے کا 60 فی صد ہے اور صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 3 پورے ضلع سوات کے رقبے کا 70 فی صد بنتی ہے۔ اس میں بھی ابہام نہیں رہا کہ تحصیلِ بحرین (مدین، بحرین اور کالام کی وادیاں اور گاؤں) […]
ہمارے گھر اور سکول بچوں کے لیے عقوبت خانے ہیں
اُمید ہے مضمون کی شہ سرخی دیکھ کر اساتذہ اور والدین مجھے کاٹنے نہیں دوڑیں گے۔ کیوں کہ اس جرم میں، مَیں بھی بہ حیثیت ایک والد اور استاد شریک ہوں، تاہم شریکِ جرم ہوکر مخبری کرنے سے نہیں کتراؤں گا۔ نفسیات کی ہر شاخ ہمیں بتاتی ہے کہ انسان کی زندگی میں ابتدائی 10، […]
مضافات کا عذاب

’’مضافات‘‘…… یعنی کسی ملک یا علاقے کے جغرافیائی حاشیے پر رہنے والوں کے اپنے عذاب ہوتے ہیں۔ ان کو اگر ایک طرف کئی طرح سے مرکز نظرانداز کرتا ہے، تو دوسری طرف مرکز ان کے وسائل کو استعمال کرکے ان مضافاتی لوگوں کو ان کا حق بھی نہیں دیتا۔ ان لوگوں کے بارے میں مرکز […]
جبری انسانی خدمت

جبری انسانی خدمت یا جبری فلاح و بہبود (Forced Humanitarianism) یہ اصطلاح عجب لگتی ہے ناں……؟ یہ عجیب یوں بھی ہے کہ آیا فلاح و بہبود کے کام بھی جبری ہوسکتے ہیں……! زبیر توروالی کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: https://lafzuna.com/author/zubair-torwali/ ترقی، تہذیب و تمدن، فلاح و بہبود […]
لاؤڈ سپیکر والی نفسیات

آپ نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ گرمیوں میں اکثر کئی مہمان یہاں (بحرین، سوات) آتے ہیں، تو اپنی گاڑی کے اوپر ایک بڑا لاؤڈسپیکر رکھ کر آتے ہیں۔ اُس کے ذریعے اونچی آواز میں موسیقی لگاتے ہیں، جو ایسی سماعت خراش ہوتی ہے کہ اس گاڑی کے شیشے توڑنے کو جی چاہتا ہے۔ زبیر توروالی […]
تبدیلی کا دُرست راستہ

پاکستان میں کروڑوں لوگوں کو لگتا تھا اور ایک اکثریت کو اب بھی لگتا ہے کہ عمران خان اس ملک کا نظام درست کرسکتا ہے، تو اُنھوں نے ڈَٹ کر اُن کا ساتھ دیا، اور ووٹ دے کر اُن کو وزیرِ اعظم بھی بنایا۔ وہ تین سالوں میں شاید وہ کچھ نہ کرسکے، جو اُن […]