توپوں کی صفائی اور پریڈ کے نہ بھولنے والے دن

بچپن میں ہم ہفتے کے دو دن بہت خوش رہتے۔ ایک دن توپوں کی صفائی کا اور دوسرا رسالے، بگلرز اور مشین گن دستے کی مشترکہ پریڈ کا۔ توپ خانے کے کمان افسر عبدالحنان ہمارے پڑوسی تھے اور ہمیں اپنے بیٹوں اسفندیار اور اختر حسین کی طرح پیار کرتے تھے۔ صفائی کے مقررہ روز ہم […]

طارق اسماعیل ساگر کی یاد میں

پیدایش:۔ 16 اکتوبر 1952ء انتقال:۔ 14 ستمبر 2021ء طارق اسماعیل ساگر کا نام اُردو فکشن رائٹرز میں بہت نمایاں تھا۔ اُنھوں نے کتابوں سے بہت پیسا کمایا۔ کئی رسالوں کے ساتھ کام کیا۔ بہت زیادہ وقت ’’نوائے وقت‘‘ کو دیا۔ کم گو اور نپے تلے انسان تھے۔ میرے تو وہ ہمسائے تھے، یعنی گلشن راوی […]

وادئی چغرزئی (بونیر) سے وابستہ چند یادیں

1969ء میں ادغامِ ریاست کے بعد بھی چغرزئی کا پورا علاقہ کئی سال تک سڑک سے محروم رہا۔ ریاستی دور میں بدال تک ایک کچی سڑک بنی ہوئی تھی، جو اُسی دور میں تعمیر شدہ سٹیٹ ڈسپنسری بدال کے قریب ختم ہوجاتی تھی۔ آگے چغرزئ کے مختلف دروں اور دیہاتوں تک اشیائے ضروریہ کی ترسیل […]

توروالی موسیقی کا مقدمہ

مصوری اور مجسمہ سازی کی طرح موسیقی اور رقص بھی فن ہیں۔ کیوں کہ ان کا تعلق بھی انسانی جذبات اور جمالیات سے ہے…… لیکن مجسمہ سازی یا مصوری کے برعکس موسیقی اور رقص تین جہتوں میں کسی بولی کی طرح ہوتے ہیں۔ کسی جملے کی طرح موسیقی اور رقص کی بھی ایک ابتدا، درمیاں […]

چترال کا پہلا تاریخ دان

بابا سیئر کے بارے میں چترال کے باہر کے لوگوں کو آگہی دینے کے لیے مستنصر حسین تارڑ نے خامہ فرسائی کی ہے۔ لکھتے ہیں:’’تم چترال کے سب سے عظیم صوفی شاعر کے مزار سے اگر لا تعلق ہو کر گزر گئے، تو تم نے گناہ کیا۔ چند لمحوں کے لیے رُک کر اس درویش […]

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی یاد میں

پیدایش:۔ یکم اپریل 1936ء انتقال:۔ 10 اکتوبر 2021ء ڈاکٹر اے کیو خان مستحق تو پوری کتاب کے ہیں، لیکن ابھی اُن پر یہ مضمون لکھ کر اُن کی محبتوں کا تھوڑا بہت حق ادا کرنا چاہ رہا ہوں۔ مَیں نے اُن کا نام اپنی کتاب ’’پاکستان کی 10 عظیم ترین شخصیات‘‘ میں بھی شامل کر […]

گوہرِ نایاب ’’عبدالستار ایدھی‘‘

جب پتھر کو بہترین انداز میں تراشا جائے، تو وہ گوہرِ نایاب بنتا ہے، اور جب کسی بچے کی اعلا پائے کی تربیت کی جائے، تو وہ دکھی انسانیت کا مسیحا بنتا ہے۔ رانا اعجاز حسین چوہان کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: https://lafzuna.com/author/rana/ خدمتِ انسانیت کی روشن […]

محمد شیرین کمان افسر

آج کی نشست میں ایک تاریخ ساز شخصیت سے آپ کو ملواتا ہوں۔ ان کی تصویر آج کل سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ یہ محمد شیرین کمان افسر ہیں، جو ریاست کے گھڑ سوار دستے کے کمان دار تھے۔ سیدو شریف ہی کے رسال دار غلام محمد ان کے سیکنڈ اِن کمانڈ تھے۔ فضل رازق […]

کچھ آغا امیر حسین (مرحوم) کے بارے میں

پیدایش:۔ 14 اگست 1933ء وفات:۔ 20 جنوری2021ء آغا امیر حسین ایک نظریہ تھے، ایک تحریک تھے۔ اُن سے میرا پہلا تعارف چین (باتصویر) کے ذریعے ہوا۔ چین 80ء کی دہائی میں بھی بہت ہانٹ کرتا تھا اور اَب تو وہ ماشاء اللہ پوری دنیا پر چھایا ہوا ہے۔ تسبیح اور جائے نماز تک وہاں تیار […]

4 جولائی، عباس کیراستمی کا یومِ انتقال

معلوماتِ عامہ کی انگریزی ویب سائٹ "britannica.com” کے مطابق عباس کیراستمی (Abbas Kiarostami)، مشہور ایرانی فلم ہدایت کار، 4 جولائی 2016ء کو فرانس کے شہر پیرس میں انتقال کرگئے، جہاں وہ کینسر کے علاج کے لیے گئے ہوئے تھے۔ 22 جون 1940ء کو ایران کے شہر تہران میں پیدا ہوئے۔ تہران یونیورسٹی میں پینٹنگ اور […]

حاجی شیرزادہ (مرحوم)، مینگورہ کے ایک کامیاب تاجر

فون کی گھنٹی بجی۔ سکرین پر نظر ڈالی، تو پتا چلا کہ محمد خلیل قاضی صاحب بات کرنا چاہ رہے ہیں۔ کال اُٹھائی، تو دوسری طرف سے آواز آئی: ’’ارے سحابؔ! تمھاری فیس بک وال پر حاجی شیرزادہ کے انتقال کی خبر پڑھی۔ یار، وہ تو مینگورہ شہر کے کامیاب کاروباری شخصیات میں شمار ہوتے […]

کچھ تصدیق اقبال بابو (مرحوم) کے بارے میں

پیدایش:۔ 08 اکتوبر 1969ء انتقال:۔ 06 جنوری2021ء تصدیق اقبال المعروف بابو (مرحوم) میری زندگی میں کسی طوفان کی طرح آیا اور بگولے کی طرح واپس بھی چلا گیا۔ ہماری دوستی کا ہنگامہ خیز سال 2020ء تھا۔ تصدیق اقبال کو مجھ سے متعارف کروانے میں فراست علی (نارووال) کا بڑا کردار تھا۔ تصدیق اقبال کو مجھ […]

بریکوٹ ہائی سکول، ریاستی دور کی نشانیوں میں سے ایک

ریاستِ سوات کے دور میں تعمیر ہونے والے اکثر سکول دہشت گردی کے دوران میں اڑادیے گئے۔ بچ جانے والے ہائی سکولوں میں بریکوٹ کا سکول بھی شامل ہے، جیسا کہ اس کے بورڈ سے ظاہر ہے۔ یہ سکول 1965ء میں مکمل ہوا تھا۔ اس کے تعمیر کے دوران میں، مَیں چکیسر میں ڈیوٹی پر […]

25 جون، جارج آرویل کا یومِ پیدایش

معلوماتِ عامہ کی انگریزی ویب سائٹ "britannica.com” کے مطابق جارج آرویل (George Orwell)، مشہور انگریز صحافی، مضمون نگار، ناول نگار، ثقافت اور سیاست کے نقاد، 25 جون 1903ء کو بہار کے شہر موتیہاری (Motihari) میں پیدا ہوئے۔ وکی پیڈیا کے مطابق جارج آرویل کی پیدایش کے بعد اُن کا خاندان انگلستان منتقل ہو گیا۔ایٹن سکول […]

یادوں کے دریچے سے

غلط فہمی ہوجائے، تو بڑی مشکل سے اِزالہ ہوتا ہے۔ 1970 کی دہائی کے ابتدائی سالوں کی بات ہے۔ہم بہ سلسلۂ ملازمت ڈگر میں مقیم تھے۔ رہایش کی شدید قلت تھی۔ ہم ریاستی دور کے ریسٹ ہاؤس کے ایک کمرے میں رہنے پر مجبور تھے۔ پورا علاقہ بونیر بجلی سے محروم تھا اور ابھی وہ […]

آذربائیجان کا عجائب خانۂ ادب

ہمارے لیے بیرونِ ملک سفر خود ایک عجوبہ ہوتا ہے۔ اب تک جتنے بھی ایسے سفر کیے ہیں، اُن میں کسی کا بھی دورانیہ 40 دن سے زیادہ نہیں رہا ہے۔ زیادہ تر سفر ایک یا دو ہفتے کے ہوئے ہیں۔ جس ملک کا سفر کرتے ہیں، ہر بار کچھ نیا دیکھنے کو ملتا ہے۔ […]

فقیر ایپی

جون 1897ء کی ایک صبح مسٹر ’’جی‘‘ نامی ایک برطانوی پولی ٹیکل ایجنٹ شمالی وزیرستان کے ’’مائزار‘‘ دیہات ایک بھاری جمیعت کے ساتھ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے آگیا۔اس کے آنے کا مقصد ایک چھوٹے سے قلعے کی تعمیر کے لیے موزوں جگہ کا انتخاب تھا۔ وزیریوں کو اس کا پتا نہیں تھا۔ انھیں شک […]

میری واحد منفی خفیہ رپورٹ

4 اپریل 2003ء کو جب میں 60 سال کی عمر میں ملازمت سے سبک دوش ہوا، تو الوداعی پارٹی کے بعد ہیڈکلرک نے مجھے اپنے دفتر میں بلایا اور ایک ضخیم فائل مجھے دکھاتے ہوئے کہاکہ گھر جاتے وقت یہ ساتھ لے کے جانا۔ فائل کے اُوپر موٹے لفظوں میں لکھا ہوا تھا: ’’اینول کانفڈنشل […]

ہمارے دور کی چند خوش لباس و خوش جمال شخصیات

آج دراصل مجھے اچانک خیال آیا کہ اپنے لڑکپن کے ملبوسات کے بارے میں کچھ آپ حضرات کے گوش گزار کروں…… اور چند خوش لباس و خوش جمال شخصیات کی یادیں بھی تازہ کرتا چلوں۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: https://lafzuna.com/author/fazal-raziq-shahaab/ اُس دور میں […]

60ء کی دہائی کا سوات

بچپن میں ایک عوامی گیت سنا تھا۔ کچھ الفاظ کا مفہوم یہ تھا کہ ’’اگر یہی صورتِ حال رہی، تو مینگورہ بھی اس کے آگے نہیں ٹھہر سکتا۔‘‘کہ داسے حال وی نہ ٹینگیگی منگورہ ورتہٹینگ شہ زرگرہ ورتہاجمالاً کسی زرگر نے ٹانگ میں مکان بنوایا تھا، تو برسات کے پہلے ریلے میں بہ گیا تھا۔کسی […]

5 جون، جشنِ سوات اور چند یادیں

سوات کا جشن 1949ء کے بعد ہر سال 12 دسمبر کو یومِ تاج پوشی کے نام سے منعقد ہوتا تھا۔ اس موقع پر بیرون ریاست سے بھی سرکاری مہمان آتے تھے۔ سوات کی شدید سردی اُن کے لیے ایک مشکل طلب مسئلہ تھی۔ چند سال بعد والیِ سوات نے فیصلہ کیا کہ 12 دسمبر کی […]