ٹپہ، ماہیہ، لیکو اور زہیراک

Blogger Noor Mhammad Kanju

پاکستان کی دھرتی، لسانی اور ثقافتی تنوع کا ایک ایسا گل دستہ ہے، جس کا ہر پھول اپنی الگ خوش بو اور رنگ رکھتا ہے… لیکن اگر گہرائی میں جا کر دیکھا جائے، تو ان مختلف زبانوں کے پسِ پردہ انسانی جذبات کی ایک ہی لہر کار فرما نظر آتی ہے۔ خیبر کا ’’ٹپہ‘‘ ہو یا پنجاب کا ’’ماہیہ‘‘، سندھ کا ’’لیکو‘‘ ہو یا بلوچستان کا ’’زہیراک‘‘، یہ تمام اصنافِ سخن مختصر ہونے کے باوجود اپنے اندر وہ وسعت رکھتی ہیں، جو ضخیم کتابوں میں بھی میسر نہیں آتی۔
یہ اصناف دراصل اس دھرتی کے بیٹوں اور بیٹیوں کے وہ فطری نغمے ہیں، جو صدیوں سے سینہ بہ سینہ چلے آ رہے ہیں۔
پشتو ادب میں ’’ٹپہ‘‘ یا ’’لنڈئی‘‘ کو ایک ایسی صنف کا درجہ حاصل ہے، جو پشتون معاشرت کی روح سمجھی جاتی ہے۔ دو غیر ہم قافیہ مصرعوں پر مشتمل یہ صنف اپنی ساخت میں نہایت سادہ لیکن اثر میں بے حد گہری ہے۔ پہلا مصرعہ چھوٹا اور دوسرا بڑا ہوتا ہے۔ اس میں جہاں رزم و بزم کے قصے ملتے ہیں، وہاں پشتون عورت کے اُن جذبات کی عکاسی بھی ہوتی ہے، جو عام طور پر پردے کے پیچھے چھپے رہتے ہیں۔
اسی طرح پنجاب کا ’’ماہیہ‘‘ یا ’’ٹپہ‘‘ بھی اختصار کا شاہ کار ہے۔ یہ ڈیڑھ مصرعے کی وہ صنف ہے، جس میں پہلا ٹکڑا قافیہ جوڑنے کے لیے اور دوسرا اصل مدعا بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ پنجابی ماہیہ اپنی شوخی اور ترنم کی وجہ سے شادی بیاہ اور لوک میلوں کی جان سمجھا جاتا ہے۔
سندھ کی وادیوں میں جب ہم نظر دوڑاتے ہیں، تو وہاں ’’لیکو‘‘ جیسی اصناف مٹی کی مہک کے ساتھ ملتی ہیں۔ لیکو دراصل ریگستانوں اور پہاڑی علاقوں کی وہ صنف ہے، جو مسافرت اور ہجر کے دکھوں کو بیان کرتی ہے۔ اس کی ساخت پشتو ٹپے سے مماثلت رکھتی ہے اور اسے عموماً صحرا کے تنہا سفر میں اونٹ سوار اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے گاتے ہیں۔
سندھی لیکو میں جو درد اور تڑپ ملتی ہے، وہ بہ راہِ راست سننے والے کے دل پر دستک دیتی ہے۔
بالکل اسی طرح بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں اور وسیع میدانوں میں ’’زہیراک‘‘ گونجتا ہے۔ زہیراک کا لفظی مطلب ہی ’’یاد‘‘ یا ’’فراق‘‘ ہے۔ یہ بلوچی موسیقی اور شاعری کی وہ کلاسک صنف ہے، جس میں محبوب، وطن یا گزرے ہوئے اپنوں کی یاد کو ایک مخصوص پرسوز لے میں پرویا جاتا ہے۔
ان چاروں اصناف میں جو مشترکہ خصوصیت سب سے نمایاں ہے، وہ ان کا ’’عوامی‘‘ ہونا ہے۔ ان کا کوئی باقاعدہ نام ور شاعر نہیں ہوتا، بل کہ یہ عوام کے مشترکہ جذبات کی پیداوار ہیں۔ یہ اصناف کسی مخصوص طبقے تک محدود نہیں، بل کہ چرواہوں، کسانوں، مسافروں اور گھریلو خواتین کی مشترکہ آواز ہیں۔ ان کے موضوعات میں محبت، جدائی، قدرت کے نظارے، روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے دُکھ سکھ اور انسانی رشتوں کی نزاکتیں ملتی ہیں۔ جہاں پشتو ٹپے اور بلوچی زہیراک میں ایک طرح کی سنجیدگی اور وقار ملتا ہے، وہاں پنجابی ماہیے اور سندھی لیکو میں جذبات کا بہاو زیادہ شوخ اور رواں ہے۔
معاشرتی سطح پر اُن اصناف نے ایک ’’خاموش ابلاغ‘‘ کا فریضہ سرانجام دیا ہے۔ انھوں نے مشکل دور میں بھی اپنی ثقافت، روایات اور اخلاقی اقدار کو زندہ رکھا۔ یہ اصنافِ سخن آج بھی اتنی ہی مقبول ہیں جتنی صدیاں پہلے تھیں، کیوں کہ ان کی بنیاد سچائی پر ہے۔ ریڈیو اور ٹیلی وِژن کے جدید دور میں بھی ان کی دھنیں بدل سکتی ہیں، لیکن ان کے اندر چھپا انسانی کرب اور مسرت نہیں بدل سکتی۔ ان چاروں اصناف کی مقبولیت کا راز ان کی سادگی میں پوشیدہ ہے۔ ان میں کسی مصنوعی بناوٹ یا پیچیدہ استعاروں کی ضرورت نہیں ہوتی، بل کہ یہ بہ راہِ راست دل سے نکلتے ہیں اور دل پر اثر کرتے ہیں۔ پشتو، پنجابی، سندھی اور بلوچی کے یہ لوک رنگ ہمیں بتاتے ہیں کہ زبانیں چاہے مختلف ہوں، لیکن انسانی جذبات کی خوش بو ایک جیسی ہوتی ہے۔ یہ شاعری محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بل کہ ان کروڑوں انسانوں کی دھڑکن ہے، جو ان دھرتیوں پر بستے ہیں۔ ان اصناف کا تحفظ دراصل اپنی ثقافت اور اپنی جڑوں سے جڑے رہنے کا نام ہے۔
حوالہ جات: 
’’شاہ جو رسالو از شاہ عبدالطیف بھٹائی۔‘‘  
’’قدیم بلوچی شاعری از میرخدا بخش بلوچ۔‘‘
’’اردو ماہیہ نگاری از حیدر قریشی۔‘‘
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے